مسلم ریزرویشن کا معاملہ، فڑنویس کا دوٹوک

0
11

ملازمت تو دور کی بات، تعلیم میں بھی مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن نہیں دیا جائے گا

ممبئی:ممبئی میں آج کل مسلم ریزرویشن کے مطالبات کو لے کر کافی ہنگامہ آرائی ہے۔ اسمبلی میں مسلم لیڈران کافی ہنگامہ کررہے ہیں۔ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ مسلم ریزرویشن پاس کیا جائے۔ یعنی مسلمانوں کو بھی ریزویشن دیں۔ آپ کو بتادیں کہ’ سب کاساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ دینےوالی بی جےپی کی مہاراشٹرسرکار نے مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے منگل کو ایک بار پھر یہ واضح کردیا کہ ملازمت تو دور کی بات ہے تعلیم میں بھی مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن نہیں دیا جائے گا جس کو ہائی کورٹ نے تسلیم کیا تھا۔ مسلم ریزرویشن کیلئے اسمبلی میں جاری احتجاج کے بیچ منگل کو خود وزیراعلیٰ فرنویس نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت مراٹھوں کو ریزرویشن دے کررہے گی مگر اقلیتوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن قطعی نہیں دیا جائےگا۔
مراٹھا،مسلم اور دھنگرریزرویشن کے معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور الزام لگایا کہ وہ مسلم ووٹ بینک کی سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر مسلمانوں کو بھڑکانے کا الزام بھی عائد کیا۔ سخت تیورکا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ جمہوری محاذ حکومت نے مسلم سماج کو نہیں بلکہ ذات کی بنیاد پر ریزرویشن دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ’’ مسلم سماج کی ۵۲؍ ذاتوں کو ا و بی سی میں شامل کرکے ہم نے ریزرویشن دیا ہے۔ہائر ٹیکنیکل ایجوکیشن میں اسکالر شپ ہم نے شروع کیا۔‘‘ آپےسے باہرفرنویس کانگریس این سی پی پر برس پڑے اور کہاکہ ’’رنگناتھن مشرا کمیشن ،جسٹس سچر کمیشن اور محمود الرحمان کمیٹی کی رپورٹ کانگریس این سی پی کی حکومت میں آئی تھی اس وقت مرکز اور ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی تو مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں دیا گیا؟‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here