مسلم میڈیا ہائوس کا شور۔مسلمان ڈیڑھ اینٹ کی الگ عمارت پر مصر کیوں؟

0
74
سلم میڈیا ہائوس،مسلم میڈیا ہائوس یہ سنتے سنتے کان پک گئے آخر یہ مسلم میڈیا ہائوس کا شور بار ۔بار کیوں اٹھتا ہے۔کیا مسلم میڈیا ہائوس سچ میں ضروری ہے
سلم میڈیا ہائوس،مسلم میڈیا ہائوس یہ سنتے سنتے کان پک گئے آخر یہ مسلم میڈیا ہائوس کا شور بار ۔بار کیوں اٹھتا ہے۔کیا مسلم میڈیا ہائوس سچ میں ضروری ہے
مسلم میڈیا ہائوس،مسلم میڈیا ہائوس یہ سنتے سنتے کان پک گئے آخر یہ مسلم میڈیا ہائوس کا شور بار ۔بار کیوں اٹھتا ہے۔کیا مسلم میڈیا ہائوس سچ میں ضروری ہے یا پھر ہم صرف ایسے ہی طوفان اٹھاتے رہتے ہیں۔
اسلام اجتماعیت اور صلح رحمی والا دین ہے ۔ اتحاد، اخوت، محبت سب کی فکر اس میں شامل ہے ۔ تبھی تو نماز بل الجماعت اور زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کو قائم کرنے پر زور دیا گیا ۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ لیکن مسلمان پہلے نظریاتی گروہ، فرقہ میں اور پھر ذات، برادریوں میں تقسیم ہو گئے ۔ یہاں تک کہ مسجد جو خدا کا گھر ہے وہ بھی اسی بنیاد پر بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ انصاری، رائن، منصوری، نائی، دھوبی، قریشی، سقوں، منیہاروں، فقیروں اور ہیجڑوں وغیرہ کے نام سے موسوم مساجد دیکھی جا سکتی ہیں ۔ اس ٹوٹن نے پہلے اعتماد پھر اتحاد کو چھین لیا ۔ رہی سہی کسر سیاسی مفادات کے لئے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کی تحریکوں نے پوری کر دی ۔ اپنے نظریہ یا تنظیم کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے کئے گئے مذہبی اجتماعات بھی اسی زمرہ میں شامل ہیں ۔
آزادی کے بعد سے چل رہے اس کھیل سے ایک طرف مسلمانوں میں اپنے فرقہ اور ذات کی عصبیت پیدا ہوئی، وہیں دوسری طرف ملک کی قومی سیاست بدل گئی ۔ اسی فرقہ و ذات کی عصبیت کے نتیجہ میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ عمارت بنانے والی سوچ نے جنم لیا ۔ آزادی کے بعد کانگریس کی مسلمانوں کو دبا کر رکھنے کی پالیسی اور اس کے رویہ نے، مسلمانوں میں سیاسی طور پر بااختیار ہونے کا احساس پیدا کیا ۔ انہیں لگنے لگا کہ سیاسی طاقت حاصل کئے بغیر ان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔ وہ کانگریس کے مسلم نمائندوں اور کیرالہ کی مسلم لیگ کو بھی دیکھ رہے تھے ۔ کیرالہ میں مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ ریاستی حکومت میں شامل تھی ۔ کانگریس کے مسلم نمائندے ملت کے جائز مطالبات کا ساتھ دینے کے بجائے پارٹی کو ہی صحیح ثابت کرنے پر مصر تھے ۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کے درمیان اپنی سیاسی جماعت کی بات اٹھنی شروع ہوئی ۔ قوم کا جذبہ دیکھ کر شمالی ہند میں ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس بنا کر سیاسی تجزیہ کیا ۔ ایس ایس پی کے ساتھ مل کر مجلس پانچ ایم ایل اے جتانے میں کامیاب ہوئی ۔ ڈاکٹر فریدی کے انتقال 1974 کے بعد پارٹی اور مضبوط و مقبول ہوئی ۔ لیکن اسے وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہئے تھی ۔ اس کے بعد بھی کئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہوئیں ۔ یوپی میں پیس پارٹی اور آسام میں اے آئی یو ڈی ایف اور جنوب میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے علاوہ کوئی بھی اسمبلی کی چوکھٹ تک نہیں پہنچ سکی ۔ پھر بھی مسلمان ہنوز الگ مسلم پارٹی کے خواہاں ہیں ۔
بزرگوں نے مسلم آبادی والے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر و قصبہ میں اسکول قائم کئے، مگر ان کی عمارت بوسیدہ، اساتذہ کاہل اوپر سے کمیٹی کے جھگڑوں نے ان کی معنویت کھو دی ہے ۔ قوم معیاری تعلیم کے الگ مسلم ادارے چاہتی ہے ۔ اکثر برادریوں کی پنچایت میں بھی بچوں کی تعلیم اور تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی بات اٹھتی ہے وہ بھی صرف اپنی برادری کے بچوں کے لئے ۔ مگر با حیثیت حضرات اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کیونکہ مسلم ادارے کا مطلب خیراتی ادارہ لیا جاتا ہے ۔  الامین ایجوکیشنل سوسائٹی کے بانی ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا کہنا ہے کہ دولت مند مسلمانوں کو کسی نہ کسی شکل میں تعلیم کے شعبہ سے جڑنا چاہئے ۔ اس میں پیسے کے ساتھ عزت بھی ہے ۔ الامین شمالی بند کے ذمہ دار کلیم الحفیظ نے نئے اسکول قائم کرنے والوں کے لئے منصوبہ سازی کی ہے ۔ جس میں زمین سے لے کر اسکول چلانے تک کے تمام مراحل اور اخراجات کا تخمینہ موجود ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کا قیام کاروبار اور خدمت دونوں لحاظ سے نفع بخش ہے ۔ صاحب حیثیت لوگوں سے پوری فیس وصول کرکے پچیس فیصد غریب بچوں کو مفت معیاری تعلیم فراہم کی جا سکتی ہے ۔ تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر حکومت سب کچھ نجی زمرے میں دینا چاہتی ہے ۔ سرکار کی پالیسی کی وجہ سے ہی نجی تعلیمی ادارے وجود میں آئے ۔ مسلمانوں کے پاس سب کے لئے اسکول بنا کر اس کا فائدہ اٹھانے کا موقع ہے ۔ مگر وہ پھر بھی اپنے الگ ادارے بنانے پر مصر ہیں ۔
مسلمانوں کی میڈیا سے ہمیشہ یکطرفہ رپورٹنگ کی شکایت رہی ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ میڈیا مسلمانوں کی شبہہ خراب کرنے والی خبروں کو جگہ دیتا ہے، جبکہ ان کے ذریعہ کئے گئے ملک و عوام کی بھلائی کے بڑے بڑے کاموں کو رپورٹ نہیں کرتا ۔ ان کے مسائل اور محرومی بھی خبروں کا حصہ نہیں بنتے ۔ مسلمان اس ملک کے اسٹیک ہولڈر ہیں ان کی تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، اعتماد اور رہائش کے مسائل حل کرنا تو دور، ملک کے بحرانی حالات میں بھی ان کی رائے جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ یہ صورتحال یقیناً تشویشناک ہے، کوئی تو (مین اسٹریم اخبار یا ٹی وی چینل) ہو جو یہ سوال اٹھائے ۔ مگر آزاد بھارت میں مسلمانوں کے مسائل کبھی بھی بحث کا موضوع نہیں بنے ۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو بار بار ایسے میڈیا ہاؤس کی ضرورت محسوس ہوئی جو ان کی بات کر سکے ۔ مسلم میڈیا ہاؤس کی موجودہ بجٹ کو اسی تناظر دیکھا جانا چاہئے ۔
میڈیا ہاؤس کے قیام کا معاملہ پہلے بھی کئی مرتبہ اٹھ چکا ہے ۔ ایک وقت تھا جب روزنامہ اخبار نکالنے کی مہم شروع ہوئی تھی ۔ اس وقت شمالی ہند کے مسلمانوں میں قومی آواز کو مقبولیت حاصل تھی ۔ الجمیعت اور دعوت جیسے اخبار اس کے مقابلے نہیں ٹھہر سکے ۔ کانگریس کا اخبار ہونے کے ناطے قومی آواز کی اپنی کچھ مجبوریاں تھیں ۔ کئی حضرات نے کوشش کی مگر ڈھنگ کا اخبار نہیں نکل سکا ۔ چودھری عارف نے انگریزی روزنامہ دی پوسٹ نکالا جو گنتی کے دن ہی نکل سکا ۔ کیرالہ کے مسلمانوں نے اپنی مقامی زبان ملیالم میں مادھمم کے نام سے روزنامہ اخبار جاری کیا ۔ اس کے آج نو ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں ۔ اسی طرح ممبئی سے نکلنے والا مڈ ڈے بغیر رکاوٹ کے شائع ہو رہا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت مسلمان انگریزی یا اردو میں اخبار نکالنے کی بات کر رہے تھے ۔ اس وقت ہندی صحافت اپنے عروج پر تھی ۔ انگریزی کے صحافی بھی ہندی میں طبع آزمائی کر رہے تھے ۔ مگر مسلمانوں نے اس پر غور نہیں کیا ۔ آئی او ایس کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم نے نوجوان صحافیوں کی تربیت اور ملی مسائل پر فیچر و خبروں کو نشر کرنے کے لئے فیچر اینڈ نیوز الائنس کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا ۔ کئی برسوں کی محنت کے بعد بھی یہ ادارہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا اور آخر بند ہو گیا ۔ منظور صاحب نے ٹی وی چینل بھی شروع کرنے کی کوشش کی تھی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے ۔ عزیز برنی بھی اسی فکر کو لے کر مالی تعاون حاصل کرنے کی غرض سے ملک کا دورہ کر چکے ہیں ۔
پروفیسر اخترالواسع نے مسلم میڈیا ہاؤس کے متعلق لکھے اپنے مضمون میں اہم تجاویز پیش کی ہیں ۔ وہیں مشرف عالم ذوقی نے اپنی فیس بک وال پر اس کا تفصیلی منصوبہ مع اخراجات پوسٹ کیا ہے ۔ سابق راجیہ سبھا ممبر محمد ادیب کے میڈیا ہاؤس کے لئے ٹرسٹ بنائے جانے کی بھی پخبر ہے ۔ خوش آئند ہے اس بیل کا سرے چڑھنا ۔ اس کی ضرورت و اہمیت کا شاید ہی کوئی منکر ہو، مگر مسلم ٹیگ کے ساتھ میڈیا ہاؤس لانے پر بھی اتفاق ہو یہ ضروری نہیں ۔ سابقہ تجربات بتاتے ہیں کہ جو کام بھی ڈیڑھ اینٹ کی الگ عمارت والی سوچ کے ساتھ کیا گیا اس میں کامیابی نہیں ملی ۔ اس اڑیل رویہ کی وجہ سے تین طلاق کے معاملہ میں مسلمان منھ کی کھا چکے ہیں ۔ پرسنل لاء بورڈ حکمت سے کام لے کر قوم و مذہب کو رسوائی سے بچا سکتا تھا ۔ لیکن بورڈ نے سیاسی مفاد پرست ممبران کے دباؤ میں مسلمانوں کی غیرت کو داؤ پر لگایا بلکہ غیروں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع بھی فراہم کر دیا ۔
وقت پر صحیح فیصلہ نہ لینے کی وجہ سے مسلمان پولیٹیکلی امپاور نہیں ہو سکے ۔ جنتاپارٹی اور جنتا دل میں مسلمان ذمہ دار حیثیت میں شامل تھے ۔ ان دونوں جماعتوں کی ٹوٹ سے کئی پارٹیاں وجود میں آئیں ۔ پی ڈی پی کے علاوہ کوئی بھی پارٹی ایسی نہیں بنی جس کا سربراہ مسلمان ہو ۔ جو پارٹیاں بنیں ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ کس (ہندؤوں، دلتوں، یادوں وغیرہ) کی پارٹی ہے ۔ یہاں تک کہ جن سنگھ سے بی جے پی بنی پارٹی نے بھی نہیں ۔ پھر مسلمانوں کو اپنی الگ سیاسی پارٹی پر اصرار کیوں؟ پارٹی بناتے لیکن سب کی پارٹی، جو نابرابری، بےروزگاری، فاقہ کشی، ناانصافی، تعلیم، صحت، صفائی، حفاظت اور خواتین، آدی واسی، جنگل، زمین، پانی، بجلی وغیرہ کے مسائل اور عوام کے آئینی حقوق پر بات کرتی ۔ پارٹی اپنے سربراہ کی سوچ، سمجھ اور پالیسی کے مطابق چلتی ہے ۔ پارٹی کا مکھیا جس مذہب، ذات یا سماج کا ہوتا ہے فطری طور پر انہیں ترجیح ملتی ہے ۔ اب یہ اس کی ذات یا طبقہ کے لوگوں پر ہے کہ خاموشی سے اسے ووٹ دیں یا پھر شور مچائیں ۔
تعلیمی ادارہ ہو یا میڈیا ہاؤس کا قیام، اسے بحث کا موضوع بنانا، اخبارات میں مضامین لکھنا اور سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ اگر کوئی صاحب حیثیت شخص ٹی وی چینل قائم کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے ۔ اسے مسلم غیر مسلم کے خانوں میں بانٹنے کی کیا ضرورت ہے ۔ شور مچائے بغیر بھی یہ کام ہو سکتا ہے ۔ ممبئی کے کاروباری ظہیر احمد اس کی مثال ہیں ۔ وہ گزشتہ آٹھ دس سال سے چینل ون اور لیمن ٹی وی چلا رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ان کا ادارہ مالی بحران کا شکار ہے ۔ اسی طرح 2002 میں اصغر انصاری نے اردو اخبار و رسائل کو خبریں اور مضامین فراہم کرنے کے لئے خبر رساں ایجنسی یونائٹڈ نیوز نیٹورک بنائی تھی ۔ روزنامہ سیاست حیدرآباد برسوں سے اردو اخباروں کو دو صفحہ کا مواد دستیاب کرا رہا ہے ۔ دہلی سے ایک درجن سے زیادہ اردو روزنامے شائع ہو رہے ہیں ۔ کسی نے بھی اس طرح کی مہم جوئی نہیں کی ۔ پھر ٹیلی ویژن چینل کے قیام کو لے کر شور کیوں؟ اس کا مقصد قوم کو ایک اور دھوکہ دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں لگتا ۔ کیوں کہ جو لوگ مصیبت زدہ غریبوں کو ایک پلیٹ کھانا یا تھوڑا سا راشن دیتے ہوئے فوٹو کھچوا کر اخبار میں شائع کراتے ہوں، وہ بھلا کوئی کام خاموشی سے بغیر کسی مفاد کے کیسے کر سکتے ہیں؟
 
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
Article by Muzaffar Husain Ghazali
Muslim media house
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here