مسلم لیڈرشپ گمشدہ ہوگئی،رفیق زکریا جیسا کہاں سے لائیں

0
83
مسلم لیڈرشپ گمشدہ ہوگئی،رفیق زکریا جیسا کہاں سے لائیں

مسلم لیڈرشپ اس لفظ سے کون واقف نہیں ۔بار بار مسلم لیڈرشپ کا ذکر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم لیڈرشپ کا فقدان ہے ۔ہم جس دور سے گزر رہے ہیں ،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر یہ قوم بے یارومددگار ہوچکی ہے،عالمی سطح پر نظردوڑائی جائے تو نظرآئے گا کہ دوعشرے میں مسلمانوں کے سربراہان مملکت کو چُن چُن کر تہ تیغ کردیا گیا اور ہم تماشائی بنے رہے ،بلکہ جنہوں نے ایسا کیا ،انہوں نے بعد میں اعتراف کیا کہ صدام ہی بہتر تھا یا قذافی تو ہمارے لیے سود مند رہاتھا،لیکن عرب بہاراور تبدیلی کے نعرے لگانے والوں نے جشن منایا اور پھر ان کی ہی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ،دراصل ہوا یہ ہے کہ اس بے یارومددگار ملت نے اپنے رہنماﺅں اور قائدین کوہی فراموش کردیاہے ، یہ تلخ حقیقت ہے کہ انہیں اپنے قدموں تلے روندنے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے ہیں ، زندگی میں اور وہ بھی اقتدارمیں رہنے تک یہ رہنماءشیر ملت،شیر ریاست اور شیر ملک وقوم ہوتے ہیں ،مگر پھر انہیں دربدرکردیا جاتا ہے ۔
اگر آپ مطالعہ کریں تو محترم الطاف حسین حالی نے سرسید احمد خان کی سوانح عمری حیات جاوید میں مصر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے سفر یورپ کا تفصیلی ذکر کیا ہے، مصری عالم نے 1900سے قبل یہ سفرکیا اور اپنے سفر نامہ میں اہل یورپ کی ملکی اور قومی ہمدردی کے بارے میں روشنی ڈالی ہے اور رقم طراز ہے کہ ” فی الحال ان کے انہی کاموں نے یورپ کے لوگوں کو دنیا کی دوسری قوموں سے بالاتر اور بزرگ کر دیا ہے۔ اہل یورپ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنے وطن اور قوم کی خدمت کرنے والے رہنماﺅں کی صرف بہترین خدمات کو سامنے رکھتے ہیں ، جوکہ ان رہنماﺅں نے عام فلاح وبہبود اوراصلاح کے لئے کی ہیں اوریہ بھی خصوصیت ہے کہ ان کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔“مصری عالم نے اٹلی ،فرانس، برطانیہ اور روس کے چند وطن پرستوں کی فہرست پیش کی اوران کے نام لیے اور ان کے اخلاقی عیوب بیان کئے ہیں۔پھر ان شخصیتوں کے حوالے سے مصری مورخ اور سیاح عالم نے لکھا ہے کہ ” ان کے عیوب پراہل یورپ بالکل توجہ نہیں دیتے ہیں، بلکہ قوم پر کیے گئے ان کے احسانات کو یاد کرکے ان کے نام پر سر جھکاتے ہیں ان کے ’اسٹیچو‘مجسمہ نصب کرتے ہیں اوران رہنماﺅں پر فخر اوران کی تعظیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مجسمے کے مقامات کو زیارت گاہ بنا دیتے ہیں۔“
اگر ہم اس تحریر کے پس منظر میں جھانکیں تو اس بات کا احساس ہوگا کہ اہل مشرق اور خصوصی طورپربرصغیرہندوپاک میں اس چیز کا فقدان ہے، بلکہ ختم ہی ہوچکی ہے ۔ اہل مشرق اور اس خطہ کے باشندے اپنے قومی رہنماو ¿ں ، سماجی کاموں میں مصروف افراد کے ساتھ ساتھ علماءکرام کو بھی نہیں بخشتے ہیں اوران کے اعلیٰ اور قوم وملت کے حق میں کیے گئے کاموں کو نظراندازکرکے ان کے عیوب کی تلاش کرتے ہیں،بلکہ اس کام میں اتنے مگن ہوجاتے ہیںکہ ان کی تشہیر کرتے پھرتے ہیںاور ایسی شخصیتوں کی خوبیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ،حالانکہ ان کی سماجی تعلیمی اور سیاسی خدمات سے بخوبی واقف رہتے ہیں ۔
ہندوستان میں بھی یہ فہرست طویل ہے ،میرے دلی کے قیام کے دوران پندرہ سال قبل ایک دن میں ٹہلتے ہوئے جامع مسجد کے نزدیک واقع مجاہد آزادی ،نہروکابینہ میں پہلے وزیر تعلیم اور دوقومی نظریہ کی شدت سے مخالفت کرنے والے مولانا ابوالکلام آزاد کی قبر پر جاپہنچا تودم بخود رہ گیا کہ وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے درمیان مسلمانوں کو منہ چڑا رہی تھی۔کچھ ہی فاصلے پر مینا بازار سے جامع مسجد جانے والی سیڑھیوں پر واقع چھوٹی مسجد کے صحن میں خلافت تحریک کے ایک قائد مولانا شوکت علی کی قبر بھی تعمیر نومیں چھپا دی گئی ہے ،اس کا نام ونشان ہی مٹا دیا گیا ہے۔وہ تو بھلا ہوفیروزبخت ،چانسلر مولانا آزاد اردویونیورسٹی ،کا انہوں نے مولاناآزاد کے مزار کی دیکھ بھال اور صاف صفائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور چند مثبت اقدامات کیے ہیں۔ہم رفیع احمد قدوائی کو کون بھلاچکے ہیں ،مرکزی وزیر برائے خوراک اوررسد خود بھی راشن کا اناج استعمال کرتے تھے۔جن کی مثال آج کے دورمیں دی جاسکتی ہے ، میں نے چند ایک کا ذکر کیا ہے ۔فہرست کو طویل ہے ،البتہ میں اس مضمون میں مرحوم ڈاکٹر رفیق زکریا کی شخصیت اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں ،دراصل اگروہ حیات ہوتے تواپنی عمر کی سوبہاردیکھ رہے ہوتے،ان کی صدسالہ تقریبات کے لیے مہاراشٹر حکومت نے سابق وزیراعلیٰ یشونت راﺅ چوان کے ساتھ تقریبات منانے کا اعلان توکردیا ہے ،،لیکن ہمارے اپنے ادارے اور تنظیمیں چپی سادھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر رفیق زکریا کی شخصیت ایسی ہے کہ جنہوں نے نہ صرف جدوجہد آزادی کے دوران برطانیہ میں ایک طالب علم لیڈرکی حیثیت سے اہم رول اداکیا ،بلٹزکے ایڈیٹر انچیف آرکے کرنجیا کے ہمراہ دوسری جنگ عظیم میں جنگی نمائندے کے طورپربھی سرگرم رہے ،دوقومی نظریہ کے کٹر مخالف رفیق زکریا نے آزادی کے بعد ملک ،قوم وملت کی خدمات کے لیے ہرممکن جدوجہد کی ،ان کی تعلیمی خدمات کو اورنگ آباد اورممبئی سمیت مہاراشٹر کے عوام کیسے بھول سکتے ہیں۔مصنف،مفکر،مدبر،دانشور،ماہرتعلیم اور سیاستداں کو ہی نہیں بلکہ بہت سوں کو ہم نے اپنی یادداشت سے نکال باہر پھینک دیا۔دوسروں سے کیا گلہ کریں۔میں بچپن میں ممبئی کے اخبارات میں ان کی سرگرمیوں کی خبریں پڑھ کر اور جلسوں میں انہیں دیکھتا رہا تھا،کبھی وہم وگمان میں نہیں تھا کہ ان کے قریب بیٹھنے کا موقعہ ملے گا،لیکن ایسا ہواکہ میں صحافت سے وابستہ ہوگیا اورصحافت نے ان سے مزید قریب کردیا ، رفیق زکریا کو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے پایا ،ایک دن روزنامہ انقلاب کے پرنٹروپبلشر جناب عبدالعزیزکھتری ،جوکہ گلزاری لال نندہ کی طرح دوتین مرتبہ وقفہ وقفہ سے انقلاب کے مدیر بھی رہے ہیں،مدیراعلیٰ اور میرے محسن ہارون رشیدکے پاس آئے اور کہا کہ انقلاب ڈاکٹررفیق زکریا کی کتاب ’محمداور قرآن‘کا اردوترجمہ شائع کررہا ہے اور اس کی پروف ریڈینگ کے لیے ڈاکٹرصاحب نے جاوید کا نام لیا ہے جوکہ تصحیح کرنے والوں کی ٹیم میں شامل رہیںگے۔بس پھرکیا تھا میری ڈیوٹی جنوبی ممبئی میں کف پریڈکے متمول علاقہ میں ان کی رہائش پر لگادی گئی اور دوتین ہفتے وقفہ وقفہ سے ہم نے یہ خدمت انجام دی تھی،اس ٹیم میں خلافت کمیٹی کے کارگزار چیئرمین مرحوم ڈاکٹرایم اے عبدالعزیز،مہاراشٹر کا لج کے دوپروفیسر جمیل کامل ،ڈاکٹرعالم ندوی اور میں ناچیز شامل تھے۔2002میں شائع ہونے والی میری تصنیف عبدالحمید انصاری انقلابی صحافی اور مجاہدآزادی کی مسودہ پڑھ کرانہوں نے پیش لفظ لکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مفصل طورپر تحریرکیاتھا۔
ڈاکٹر رفیق زکریا نے متعددکتابیں لکھی  ہیں ،جن میں ملک کی آزادی اور تقسیم ’بڑھتے فاصلہ ‘ ،مسلمانوں کے حالات اور کئی رہنماﺅں پر انہوں نے قلم اٹھایا ،لیکن جہاں تک محمد اور قرآن کا معاملہ ہے،وہ اپنی نوعیت کی ایک الگ کتاب رہی ہے اور اُس دورمیں ایسی جسارت کرنے والے وہ واحد انسان تھے، تب ہی مفکراسلام مولانا عبد الحسن علی ندوی ،المعروف علی میاں ؒ نے لکھا ہے کہ ڈاکٹررفیق زکریانے بہت معقول اور صحیح طریقے سے پیغمبر اسلام اور قرآن کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان نام نہادمستند مورخین کا پردہ فاش کیا ہے ،جن کے بیانات پر مغربی مصنفوں نے انحصارکرتے ہوئے یا وہ گوئی کی ہے ،”شیطانی آیات “میں انہی تہمتوں اور غلط فہمیوں کو دوہرایا گیا ہے ،جنہیں سلمان رشدی کے پیشروو نے حقائق کے طور پر اپنی تحریروں میں پیش کیا تھا،ضروری تھاکہ ان غلط فہمیوں کی تردید کی جائے اور سنجیدہ انداز میں معقول جواب دیا جائے۔ ڈاکٹر رفیق زکریا نے اپنی انگریزی کتاب ”محمد اورقرآ ن “میں بڑی کامیابی کے ساتھ یہ فرض انجام دیا ہے۔ زکریا صاحب نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کس طرح رشدی اور اس کے مغربی پیشرووں نے اسلامی تاریخ کی قابل اعتمادمواد ( اندرونی و خارجی ) کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا ہے ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن، لڑائیوں اور شادیوں کے بارے میں جو الزام تراشیاں کی گئی ہیں، زکریا صاحب نے نہ صرف ان کی وضاحت کے ساتھ تردید کی ہے ،بلکہ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کا نچوڑ بھی پیش کیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک خدا کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں کے قصے نقل کئے ہیں جنہیں قرآن پیش کرتا ہے، انہوں نے رشدی کے الزامات کا ایسے سنجیدہ اور معقول انداز میں جواب دیا ہے کہ اس تصویر کا اصل رخ سامنے آجاتا ہے ۔یہ کتاب عوام و خواص اورخاص طور پرمغربی عوام کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرتی ہے۔جبکہ اس ضمن میں پاکستان کے جیدعالم مولانا کوثر نیازی مرحوم نے لکھا ہے کہ ”مجھے معلوم نہیں کہ ڈاکٹر رفیق زکریا نے اپنی زندگی میں کتنے گناہ کئے اورکتنے نہیں کیے ،لیکن اس کتاب کے لکھنے کے بعد میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جگہ جنت میں محفوظ ہے۔ “
ہم ایسے تعلیم یافتہ رہنماﺅں کو بھلا چکے ہیں، ،گزشتہ دودہائیوں کے دوران ممبئی اور دلی سے مسلم لیڈرشپ غائب ہوچکی ہے ۔اگر ہوتی تودلی میں فساد کے مظلومین کو ظالم بنانے کرپیش نہیں کیاجاتا تھا اور ممبئی میں تو اوربُرا حال یہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور مستقبل بھی تاریک نظرآرہا ہے۔

جاوید جمال الدین

Article on Rafiq Zakaria

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here