Home زبان و ادب ارد و ادب جشن یوم جمہوریہ کا شاندار مشاعرہ پونے میں

جشن یوم جمہوریہ کا شاندار مشاعرہ پونے میں

0
58
پونے میں  لال قلعے کے مشاعرہ کی طرز پر جشنِ یومِ جمہوریہ  کے عنوان سے  شاندار مشاعرہ کا انعقاد
پونے میں  لال قلعے کے مشاعرہ کی طرز پر جشنِ یومِ جمہوریہ  کے عنوان سے  شاندار مشاعرہ کا انعقاد

پونے میں  لال قلعے کے مشاعرہ کی طرز پر جشنِ یومِ جمہوریہ  کے عنوان سے  شاندار مشاعرہ کا انعقاد
اسلم چشتی فریندز سرکل  پونے (اے سی ایف سی)  اور اینا فائونڈیشن کی جانب سے ایک بے حد پروقار اور شاندار مشاعرہ کا انعقاد  ڈاکٹر اے – آر شیخ اسمبلی ہال اعظم کیمپس کیمپ( پونے) میں کیا گیا صدارت سابق چیئرمین اعظم کیمپس جناب منوّر پیر بھائی نے کی اور  نظامت کے فرائض مشہور صحافی شاعرہ  اورصدا ٹوڈے کی چیف ایڈیٹر  ڈاکٹر وسیم راشد صاحبہ نے بخوبی انجام دیئے – اس مبارک موقع پر شمعِ فروزاں کی رسم جناب منوّر پیر بھائی، اسلم چشتی وقار احمد شیخ اور ڈاکٹر مشتاق مقدّم نے ادا کی اور تمام شعراء اور مہمانان کو منوّر پیر بھائی ، وقار احمد شیخ، ڈاکٹر مشتاق مقدّم اور اسلم چشتی کے ہاتھوں گل پیش کیے گئے – پروگرام کا آغاز شبانہ شبنم کے قومی گیت سے ہُوا –  ڈاکٹر وسیم راشد نے مُشاعرے کا باقاعدہ آغاز اپنی مختصر اور موثر تمہیدی کلمات اور اے، سی، ایف ،سی کے تعارف سے کیا اور ایک کے بعد دیگرے شعراء و شاعرات کو کلام سُنانے کی دعوت دی –  مُشاعرے میں ڈاکٹر انجم بارہبنکوی، ڈاکٹر سلیم محی الدین، ڈاکٹر مہتاب عالم ،اسلم چشتی ، شرف نانپاروی ،وارث وارثی، شائستہ ثناء ،ڈاکٹر وسیم راشد ، ڈاکٹر شگفتہ غزل ، شبانہ شبنم ، ڈاکٹر ممتاز منوّر ، ڈاکٹر شبیہ احسن کاظمی ، محشر فیض آبادی ، عارف وارثی، ضیاء باغپتی ،رفیق قاضی ،شعراء و شاعرات نے حصّہ لیا اور شائقین شعر و ادب کو اپنے کلام سے محظوظ کیا – سامعین میں شہرِ پونہ کی معزّز شخصیات کے علاوہ عام اُردو شناس لوگ موجود تھے ہال کھچا کھچ بھرا ہُوا تھا اور مُشاعرے کے دوران داد  و تحسین سے گونج رہا تھا – یہ مُشاعرہ رات 3 بجے شرف نانپاروی کے قومی گیت پر اختتام کو پہونچا اس مُشاعرے کی خوبی یہ رہی کہ یہ مشاعرہ قومی گیت سے شروع ہو کر قومی گیت پر ہی اختتام کو پہونچا منوّر پیر بھائی نے صدارتی کلمات ادا کئے شکریہ کی رسم جناب وقار احمد شیخ صاحب نے ادا کی مشاعرے کے اشعار باذوق سامعین کےمطالعہ کے لئے پیش خدمت ہیں
آنسوئوں کا ذائقہ اچھا لگا
دھل گیا تو آئنہ اچھا لگا
ڈاکٹر سلیم محی الدین
اجنبی خوشبو کہاں تک لے گئ
کیا بتاؤں کس جہاں تک لے گئی
جس جگہ جاکر دعائیں ہوں قبول
بند گی اس آستاں تک لے گئی
ڈاکٹرشگفتہ غزل
وہی مسند پہ قابض ہو گئے ہیں
جنہیں جیلوں میں ہونا چاہئے تھا
اسلم چشتی
اب وہی میری تباہی کا سبب ٹھہرے ہیں
جن چراغوں کو جلانے میں میرے ہاتھ جلے
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی
تم نے کس کس سے یہ کہا ہوگا
ہم کسی کے نہیں تمہارے ہیں
ڈاکٹر مہتاب عالم
تشنہ لبی نے پوچھی تھی بس اس سے خیریت
دریا نے پورے شہر میں بد نام کر دیا
ڈاکٹر شبیہ احسن کاظمی
اپنا حق چھیننے کو نکل آئے ہم
اپنے آنچل کو پرچم بنا ہی لیا
ڈاکٹر وسیم راشد
یہ میرا دل یہ میری جان یہ میرا پیارا ہندوستان
سدا آباد رہیگا یہ ذندہ باد رہیگا
شرف نانپاروی
ہم اس کے پھول ہیں یہ گلستاں ہمارا ہے
زمین اپنی ہے اور آسماں ہمارا ہے
جو شہریت ثبوت ہم سے مانگتے ہیں
انہیں بتائو کہ ہندوستاں ہمارا ہے
شائستہ ثنا
اپنی پیاس کو لیکر کس کے پاس جاتا میں
‫جن کے پاس دریا تھے ان سے ہی لڑائی تھی
‫( ‫وارث وارثی )
مدتّوں بعد جب اس نے آواز د ی
د ل نے روکا مگر مجھ کو جانا پڑا
شبانہ شبنم
غم کی اندھیری شب میں تری یاد کا چراغ
اتنا چمک رہا تھا کہ بینائی لے گیا
عارف وارثی
منتشر رہ کے تو بس ہاتھ ہی مل سکتے ہو
متحد ہوکے زمانے کو بدل سکتے ہو
ضیا باغپتی
پھر ابا بیلوں کا لشکر آئگا امداد کو
تین سو تیرہ سا بس کردار ہونا چاہئے.
ڈاکٹر ممتاز منور
پہلے گھر والی سے طاقت آزمائی کیجئے
پھر کسی میدان میں جا کر لڑائی کیجئے
محشر فیض آبادی
جب تلک سوز مَحبّت ہمسفر کے دل میں ہے
شمعِ الفت روشنی دیتی ہوئی محفل میں ہے

(رفیق قاضی،پونے

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here