محسن جلگانوی کی پونے آمد پر ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد۔۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

0
52
محسن جلگانوی کی پونے آمد پر ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد۔۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
محسن جلگانوی کی پونے آمد پر ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد۔۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

حیدرآباد کے مشہور و معروف شاعر،ادیب و صحافی جناب محسن جلگانوی کی پونے آمد پر ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد
پونے ایک علمی و ادبی شہر اور ہندوستانی تہذیب کا گہوارہ ہے، اس عظیم شہر میں اکثر بیرونی علمی وادبی شخصیات تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہونے کے لیۓ آتی رہتی ہیں اور پونے کے ادباء و شعراء ان مہمانان کے تعلیمی وادبی لین دین سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں حیدرآباد کے مشہور و معروف شاعر، ادیب و صحافی جناب محسن جلگانوی کی پونے میں آمد ہوئی۔ جن کے آمد سے اہل پونے کے ادبی حلقوں میں ایک خوشی کی لہر سی دوڑ گئی۔ظاہر ہے لاک ڈائون کے بعد کوئی شاعر یا ادیب کسی شہر میں جائے گا تو دوست احباب کی خوشی دیدنی ہی ہوگی  ، ان کا سبھی حلقوں نے پرزور استقبال کیا، کئ نشستیں ہوئیں، کئی شعراء خصوصاً نذیر فتحپوری(مدیر سہ ماہی”اسباق” پونے)، اسلم چشتی، خلیق الرحمان ضیاء باغپتی، تنویر آحمد تنویر شولاپوری، رفیق قاضی، انور فراز، محترمہ شمشاد جلیل شاد، محترمہ وجیہ ٹیک سنگھانی وغیرہ نے محسن جلگانوی صاحب کا پرزور استقبال کیا۔ حیدرآباد کے شعراء و ادباء، جلگاؤں کے شعراء و ادباء پر، پونے کے ادباء پر مشتمل تفصیلی مذاکرات ہوۓ۔ ادبی و علمی لین دین عمل میں آیا۔ محسن جلگانوی صاحب نےاردو ادب کی موجودہ صورت حال پر بھر پور روشنی ڈالی، اور اردو زبان کی زبوں حالی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اردو زبان کی ترقی اور نشوونما کے لیۓ کیا کیا اقدام اٹھائے جائیں اس پر محفل میں شریک تمام شرکاء نے مہمان محسن جلگانوی صاحب کے ہمراہ سیر حاصل گفتگو کیں۔
آپ کے اعزاز میں رفیق قاضی جو کے پونے شاعر و ڈرامہ نگار ہیں، نے ایک مشاعرے کا انعقاد کیا جس میں پونے کے مشہور ومعروف شعراء نے شرکت کیں۔اس شاندار مشاعرے میں مہمان شاعر جناب محسن جلگانوی کا پرجوش استقبال کیا گیا، صدارت کے فرائض بزرگ شاعر انور فراز نے ادا کیۓ اورنظامت کے فرائض رفیق قاضی صاحب نے انجام دیئے۔
لاک ڈاؤن کے بعد یہ پونے شہر میں پہلا مشاعرہ تھا جس میں تمام شرکاء بہ نفس نفیس حاضر تھے۔ اس پر محسن جلگانوی صاحب کی شرکت نے محفل میں چار چاند لگا دئیے۔ مشاعرہ شام چار بجےشروع ہوا اور رات آٹھ بجے اختتام پذیر ہوا۔۔
رفیق قاضی نے آخر میں مہمان شاعر جناب محسن جلگانوی کا اور صدر محترم انور فراز کا تمام شعراء و شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔محسن جلگانوی صاحب نے بھی تمام اہلِ پونہ اور مقامی شعراء کا رفیق قاضی کا شکریہ ادا کیا کہ آپ کی عزت افزائی کی گںٔی اور محبتوں کے ساتھ استقبال کیا گیا۔
قارںٔین کے لیۓ مشاعرے میں شامل شعراء کے اشعار پیش خدمت ہیں۔

وہی پا گیا یہاں منزلیں جو کہ حوصلوں پہ سوار تھا
وہ قدم قدم پہ بھٹک گیا یہ اسی کے کرموں کا وار تھا

وجیۂ ٹیک سنگھانی

ہو دور سخن کی بھی دیرینہ یاس
بجھتی ہے جس سےلب تشنۂ کی پیاس
ہے فخر مجھے جو ہیں میرے استاد
آںٔی سید آصف کی محبت راس

تنویر احمد تنویر شولاپوری

 رشتوں کو نبھانے میں زرا سی دوریاں رکھنا ۔
نتیجہ قربتوں کا ہر گھڑی اچھا نہیں ہوتا۔

آتا ہے یاد مجھ کو وہ ماحول گاؤں کا
رشتہ بنا ہوا تھا جہاں دھوپ چھاؤں کا۔
شمشاد جلیل شاد

آتا ہے یاد مجھ کو وہ ماحول گاؤں کا
رشتہ بنا ہوا تھا جہاں دھوپ چھاؤں کا۔

تیری شعلہ بیانی اور میرا شبنمی لہجہ
یقیناً آگ کیسی بھی ہو بجھ جاتی ہے پانی سے۔

خلیق الرحمان ضیاء باغپتی

آب و ہوا زہریلی ہونے والی ہے
دنیا نیلی پیلی ہونے والی ہے
چھوٹے موٹے ہنگاموں سے مت گھبرا
کوئی بڑی تبدیلی ہونے والی ہے۔

اسلم چشتی

رخ پہ گرا کے زلفوں کو پردہ نہ کجیۓ
دل میں غموں کا پھر سے اندھیرا نہ کجیۓ
ہوش و خرد کی لے کے جیۓ آپ مستیاں
پی کر مںٔے ، رفیق کو بہکا نہ کجیۓ

رفیق قاضی

سبھی رفیق ہمارے مخالفین میں تھے
کہ ہم گھرے ہوۓ منافقین میں تھے
لحد کی مٹی بھی دینے کوئی نہیں آیا
ہزاروں چاہنے والے لواحقین میں تھے
سنا ہے ان کو قدآوری کا دعوا ہے
چلے تھے ہم تو پودے ابھی زمین میں تھے۔۔۔

محسن جلگانوی

ہر پہر، لمحہ، ہر گھڑی دیکھی
ز ندگی بس میں نے رکی دیکھی
کوئی خوشیاں بھی آساں نہ ملی
مشکلیں میں نے ہر گھڑی دیکھی۔

انور فراز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here