مقدمہ

0
64

 

 

 

 

 

 

 

 

( چیئرمین ‘صدا ٹوڈے اُردو نیوز ویب پورٹل)
09422006327/08999767544
Sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com

بے وفا کو یہ شاید پتہ ہی نہیں
ٹوٹ جاؤں میں وہ آئینہ ہی نہیں

یہ محبت بھی کیسا عجب ہے سفر
تھک گیا ہے وہی جو چلا ہی نہیں

یہ شائستہ ثناء کی شاعری کی ایک چھوٹی سی مثال ہے – ایسی مثالیں ان کی غزلیہ شاعری میں بھی مل جائیں گی اور ان کے قطعات میں بھی – شائستہ ثناء کی شاعری کے اور بھی کئی رنگ ہیں – یہ رنگ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہیں – بات معمولی اور سامنے کی بات ہوتی ہے لیکن ان کے سخن کے پیرہن میں آکر خوش رنگ اور شگفتہ ہو جاتی ہے –
میں انہیں اور ان کے شوہر جنابِ ندیم نیّر کو برسوں سے جانتا ہوں – ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں مُشاعرے بھی ساتھ پڑھتے رہتے ہیں اور اکثر فون پر بھی باتیں ہوتی رہتی ہیں – چونکہ ندیم نیر خود اچھّے مقبول اور مشہور شاعر ہیں – شائستہ ثناء کے سُخن کو ان کی حوصلہ افزائی نے پروان چڑھایا ہے – میاں بیوی کی ایسی ہم ذوقی کم ہی جوڑوں کو نصیب ہوتی ہے – شائستہ ثناء کے کلام کو میں نے بار بار سُنا ہے – شعر کو شعر کی طرح پڑھنے کا ہنر انھیں آتا ہے – اس سے پہلے کہ مزید گفتگو ہو ان کے کچھ مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں –
جتنی تیاریاں کر رکھی تھیں بیکار گئیں
جس کو آنا تھا پردیس سے آیا ہی نہیں

اللہ مدد تیری میرے لیے کافی ہے
میں اور کہیں جاکر دامن نہ پساروں گی

کیا چیز محبت. ہے معلوم. نہیں تم کو
یہ وہ ہی بتائیں گے جو درد کے مارے ہیں

گھر سے نکلتی ہوں آنچل کا پرچم لیے
اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ڈر جاؤں

مسکرانا تو سب کا مقدّر نہیں اور خوشیاں ہر اک کو میسر نہیں
مسکرانے کا موقع ملا ہے اگر دیر مت کیجئے مسکرا لیجئے

میری جگہ گھر ہے میں ہوں چراغِ دل
صبح تلک مجھ کو طاق پہ جلنا ہے

ان کے مشہور اشعار تو اور بھی ہیں لیکن میں انہیں پر اکتفا کرنا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ مجھے اور بھی کچھ کہنا ہے! نمونتاً پیش کیے گئے اشعار میں مختلف مضامین ہیں، مضامین کے لحاظ سے الفاظ ہیں، معنویت کی تہیں ہیں، اسٹیج پر پڑھنے کا انداز اور ان کی آواز کا فن ایسا ہوتا ہے کہ سامعین داد دینا ضروری سمجھتے ہیں – یہی وجہ ہے کہ مشاعروں کے حوالے سے اکیسویں صدی کی خاتون شعراء میں شائستہ ثناء کا نام اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے – یہ سن 2000.ء میں شاعری کی دنیا میں آئیں اور اسٹیج کے اُفق پر چھا گئیں، وجہ شائستہ ثناء کا کلام تو ہے ہی ، خاص بات تو یہ ہے کہ ان کے Performance نے مُشاعروں کے سامعین کا دل جیت لیا – شروع میں ہی اگر شاعرہ کو پذیرائی ملے تو شاعرہ کے ارادے مستحکم اور حوصلے بلند ہو جاتے ہیں – شاید ایسا ہی کچھ شائستہ ثناء کے ساتھ ہُوا ہو، تبھی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شہرت خوشبو بن کر چار سو پھیل گئی – خوش شکل ،خوش لباس، خوش اخلاق، خوش انداز، خوش کلام اس شاعرہ نے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی شہرت کو سنبھالے رکھا – اس کا فائدہ یہ ہُوا کہ ملکی مُشاعروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مُشاعروں میں بھی بُلائے جانے لگیں – کم عرصے میں اتنی مقبولیت ان کی خوش نصیبی ہے –
شائستہ ثناء کے سخن میں ہمہ رنگی کے ساتھ ساتھ ہمہ مقصدی اشعار بھی ملتے ہیں – ان اشعار میں نسوانی جذبات بھی ہیں اور نازک خیالات بھی، عورت کے چھپے دبے احساسات بھی ہیں، دین و ایمان کی روشنی بھی ہے اور صالح نسائی کردار کی جھلکیاں بھی ہیں، یہاں میں کچھ اشعار کی نشاندہی ضروری سمجھتا ہوں – ملاحظہ فرمائیں –

سویرے جب اذانوں کی صدائیں آنے لگتی ہیں
ہمارے گھر میں جنت کی ہوائیں آنے لگتی ہیں

میں لڑکی ہوں حیا والی اچانک چونک پڑتی ہوں
کسی کی آہٹیںں جب دائیں بائیں آنے لگتی ہیں

اس طرح بھی کبھی آئینے پہ مرنے لگ جاؤں
میں تجھے یاد کروں اور سنورنے لگ جاؤں

میرے پیروں میں زنجیر اپنی جگہ
دل میں چبھتا ہوا تیر اپنی جگہ

میں بھی اس کی نئی دلہن کو دعائیں دیتی
مجھ کو کمبخت نے شادی میں بلایا ہی نہیں

میرا قاتل پکارے اگر پیار سے
خود لیے ہاتھ میں اپنا سر جاؤں

یہ تو محض چند اشعار ہیں جو بطور مثال پیش کیے گئے ہیں – شائستہ ثناء کی شاعری میں ایسے اشعار بھی مل جائیں گے جنہیں پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ اس شاعرہ کے ہاں عام نسائی شاعری میں بے وفائی کا رونا اور کوسنا نہیں ، انتقامی جذبات نہیں، مرد کے ظلم کی جھلاہٹ نہیں – اس کے باوجود ایسی باتوں کا سلیقگی کے ساتھ اظہار شائستہ ثناء کے سُخن کا خاصہ ہے – اس اعتبار سے یہ ہمعصر شاعرات میں الگ رنگ،. مختلف آہنگ والی شاعرہ ہیں –

شائستہ ثناء اپنی غزلوں کے علاوہ اپنے خوبصورت اور منفرد گیتوں کے حوالے سے بھی کافی شہرت رکھتی ہیں – ان کے قطعات بھی اپنے جلوے خوب دکھاتے ہیں – دراصل یہ اپنے قطعات کو کہاں کب کس لیے استعمال کرنا ہے اچھّی طرح جانتی ہیں – پہلے تو یہ اپنے قطعات سے سامعین کے اذہان میں اپنی آواز ، اپنے انداز اور کلام سے فضا قائم کرتی ہیں اس سے شاید ان کو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس مشاعرے کے سامعین کو کس طرح کا کلام پسند ہے – پھر جب وہ غزل کی روش اختیار کرتی ہیں تو سامعین ساتھ ہو جاتے ہیں پھر تو وہ ” واہ کی دولت” بٹور کر ہی مائک سے ہٹتی ہیں – اس سچویشن میں اکثر ” مکرّر مکرّر” کی آوازیں جب بلند ہوتی ہیں تو پھر وہ گیت سنائے کہ قطعہ، غزل سنائے کہ متفرق اشعار،. سب کچھ چل پڑتا ہے – خاص طور پر ان کے غزلیہ اشعار بار بار سُنے جاتے ہیں – اب شائستہ ثناء کے قطعات کا ہنر دیکھئے –
حالانکہ محبت کا اقرار نہیں کرتی
اس دل میں جو رکھتی ہوں اظہار نہیں کرتی

مجبور ہوں پیروں میں زنجیر وفا کی ہے
اور وہ یہ سمجھتے ہیں میں پیار نہیں کرتی

لفظوں سے اپنے رنگ بکھیروں گی ہر طرف
دل پر میں آنچلوں کی دھنک چھوڑ جاؤں گی

شائستہ میرا نام ہے میں ہوں غزل کا پھول
محفل سے جاؤں گی تو مہک چھوڑ جاؤں گی

لفظوں کا اک حسین محل دے کے جاؤں گی
احساس کا مہکتا کنول دے کے جاؤں گی

کچھ اور تو نہیں ہے میرے پاس دوستو
میں شاعرہ ہوں تم کو غزل دے کے جاؤں گی

نگاہوں کو جھکا کر میں خدا کا دھیان کرتی ہوں
میں اپنی مشکلوں کو اس طرح آسان کرتی ہوں

سنو اے دنیا والو میں ہوں ہندوستان کی بیٹی
بڑا ہو یا ہو چھوٹا سب کا میں سمان کرتی ہوں

شائستہ ثناء کا کلام قطعات میں بھی اپنا رنگ جماتا ہے – یہ کہنا آسان نہیں کہ ان کے شعری فن کے رنگ غزلیہ شاعری میں پکّے ہیں کہ قطعہ گوئی میں لیکن میں یہ کہنے میں نہیں چوکوں گا کہ شائستہ ثناء غزلیہ شاعری کی طرح قطعات میں بھی پُر گو ہیں – طرزِ سخن ، زبان کی سلاست اور مواد کی توانائی دونوں اصناف میں یکساں معلوم ہوتی ہیں – اس کا ثبوت مشاعروں کے اسٹیج سے بھی ملتا ہے – شعری نشستوں سے بھی اور انٹرنیٹ کے مختلف ذرائع سے بھی –
شائستہ ثناء کی شعری دنیا میں پذیرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بیرونی ممالک جدّہ ، ریاض ، کویت ، بحرین ، قطر اور مسقط کے عالمی مشاعروں میں بار بار بلائی گئی ہیں ہندوستان کے مُختلف شہروں میں بھی یہ شرکت کرتی رہتی ہیں – شائستہ ثناء پروین شاکر ایوارڈ ( کھنڈوا) ملکئہ ترنّم ایوارڈ ( مظفّر نگر یو پی) سے نوازی گئی ہیں – 2006.ء میں ناگپور ( مہاراشٹر) میں شاندار طریقے سے ” جشنِ شائستہ ثناء” منایا گیا اور 2012.ء میں دوسرا جشن بھیونڈی ( مہاراشٹر) میں منایا گیا – یہ دونوں جشن یادگار رہے –
میں یہ سمجھتا ہوں کہ آجکل کے مُشاعروں کے حوالے سے شائستہ ثناء کا نام بام پر پہنچ چکا ہے – ایسی شاعرہ کو میدانِ ادب میں بھی اس لیے پذیرائی ملے گی کہ ان کے کلام میں آمد کی کمی نہیں ، ان کے سخن میں عصری مضامین بھی ہیں،. شعری زبان میں تخلیقی بھی ہے – کمال تو یہ ہے کہ شائستہ ثناء کے سارے کلام میں ماضی یا حال کے کسی شاعر یا شاعرہ کے سُخن کی چھاپ نہیں –
دراصل ان کے مجموعۂ کلام کو بہت پہلے ہی شایع ہو جانا چاہئے تھا لیکن ایک طرح سے یہ بھی اچھا ہُوا کہ ان کی شعری سامعین میں پذیرائی اور انٹرنیشنل مقبولیت کے بعد ان کا پہلا مجموعہ ” پہلا موسم” کے نام سے منظرِ عام پر آرہا ہے – میرا خیال ہے کہ ادبی دنیا میں بھی ان کا کلام شوق سے پڑھا جائے گا – میری دعائیں ہیں کہ شائستہ ثناء کا نام شعری ادب کے اُفق پر ستارہ بن کر چمکے آمین –

اُڑتی دیکھتی ہوں میں تتلیوں کو گلشن میں
میں بھی اپنے بازو میں پر لگانے لگتی ہوں
Aslam Chishti Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2 Riviera Society Near Jambhulkar Garden Wanowrie Pune 411040 Maharashtra aslamchishti01@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here