نئے پرانے چراغ : محبت عام کرنے کا ارادہ کیوں نہیں کرتے*اندھیرا ہے تو پھر بڑھ کر اجالا کیوں نہیں کرتے

0
423
نئے پرانے چراغ : محبت عام کرنے کا ارادہ کیوں نہیں کرتے*اندھیرا ہے تو پھر بڑھ کر اجالا کیوں نہیں کرتے

نئی دہلی:اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام بزرگ وجوان قلم کاروں کے سالانہ پروگرام نئے پرانے چراغ کے دوسرے دن بھی محفل شعر وسخن کا انعقاد ہوا،جس کی صدارت معروف بزرگ شاعر ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنول نے اور نظامت کے فرائض جناب اعجاز انصاری نے انجام دیے۔ مشاعرے میں تقریباًساٹھ شعرانے اپنے کلام پیش کیے۔اس موقع پر ہال میں موجودسامعین،جامعات کے اساتذہ اورطلبا وطالبات مشاعرے سے محظوظ ہوئے۔ مشاعرے کے منتخب اشعارقارئین کے لیے پیش ہیں:
قلم ہردم روانی مانگتا ہے
کوئی تازہ کہانی مانگتا ہے
(ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنول)
محبت عام کرنے کا ارادہ کیوں نہیں کرتے
اندھیرا ہے تو پھر بڑھ کر اجالا کیوں نہیں کرتے
(ڈاکٹر تابش مہدی)
اس سے ملنا تھا کہ میں ہوکر اسی کا رہ گیا
اس طرح میری ہوئی اس سے شناسائی کہ بس
(احمد علی برقی اعظمی)
شکایت میں کروں تم سے مری فطرت کہاں ہے یہ
مری عادت الگ سب سے مرا لہجہ جداگانہ
(ڈاکٹر شبانہ نذیر)
یزیدی لشکروں تک یہ خبر پہنچی نہیں شاید
ہم اپنے واسطے خود کربلا تعمیر کرتے ہیں
(فاروق ارگلی)
سنو اک بات کہنا چاہتا ہوں
میں اب خاموش رہنا چاہتا ہوں
(عرفان اعظمی)
ایک چمکتے ہوئے ستارے سے
مل گئی ہم کو یار کی خوشبو
(منیرہمدم)
ایسا تو نہیں ہے کہ کبھی رات نہ ہوتی
تم ساتھ جو ہوتے تو اندھیرا نہیں ہوتا
(عابد کرہانی)
پیچھے چھوڑ آیا سیاسی فاصلہ کے سنگ میل
کتنی باقی ہے نہ جانے زندگانی کی سڑک
(ناشر کاظمی)
تنہائی میں تاریکی نے روشن ماضی کرڈالا
عشق میں ایسا وقت بھی آیا سورج نکلا رات ہوئی
ستم ڈھانا کسی معصوم پر اچھا نہیں ہوتا
جو طاقت ظلم ڈھاتی ہے دھرا شائی بھی ہوتی ہے
(عزم سہریاوی)
(ارشد ندیم)
ابر پھر سے اٹھا جھوم کر، بارشوں کو لپیٹے ہوئے
لوٹ آئے پرندے سبھی، بال و پر کو سمیٹے ہوئے
(شاہد انور)
ہمارے پاس کرپشن کا کچھ علاج نہیں
یہ کوڑھ ہے کوئی کھانسی بخار تھوڑی ہے
(نشترامروہوی)
مدتیں بیت گئیں ان کو سنائے آزر
آج تک ہم نے ہر ایک شعر کو تازہ رکھا
(ڈاکٹر فریاد آزر)
چند آنسو ہی ستاروں کی طرح ٹوٹے ہیں
آبھی جائو کہ ابھی رات کا بگڑا کیا ہے
(سیماب سلطانپوری)
آنسوئوں کے سوا دامن میں مرے کچھ بھی نہیں
یہ اگر کام کے ہیں دیدۂ ترتم رکھ لو
(ڈاکٹر ظہیر رحمتی)
روز چاہت کا جنازہ نہیں دیکھا جاتا
زندگی اب یہ تماشہ نہیں دیکھا جاتا
(گلفام شاہجہاںپوری)
اس کے دل کی خلش مٹے تب نہ
وہ مرے دوست بھی بنے تب نہ
(فرحت برنی)
یہ جانتا ہوں بہت خوش ہے میرا ہم سایہ
کدھر سے آئے ہیں پتھر مجھے پتا تو نہیں
(حامد علی اختر)
چاند بھی میری طرح حسن کا شیدا نکلا
اس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے
(ظفر انور)
سمندر میں اترنا اک جزیرہ دیکھتے رہنا
خود اپنی ڈوبتی نبضوں کو اب کیا دیکھتا رہنا
(ڈاکٹر واحد نظیر)
جو بھی گیا یہاں سے ہمیں روند کر گیا
ہم تھے عروجِ شہرہمیں راستہ ہوئے
(ڈاکٹر عاد ل حیات)
نہ جانے یہ مہک آئی کہاں سے
کہ جیسے تم ہی گزرے ہو یہاں سے
(سلیم امروہوی)
میری خواہش ہے کہ میرا ہم زباں کوئی نہ ہو
میں اگر چوں بھی کروں تو چوں پہ چاں کوئی نہ ہو
(اقبال فردوسی)
سچائی کے دار پہ جا، سرداری کر
جینا ہے تو مرنے کی تیاری کر
(عامر سلیم خان)
کہہ دو سورج سے بہت جیت پہ مغرور نہ ہو
پھر سے بارش میں نکل آئیں گے سیلاب کے پر
(وسیم جہانگیرآبادی)
بیٹی کسی شریف کی جس گھر میں آگئی
کردار کی شعاعوں سے وہ گھر سنور گیا
(سرویش چندوسوی)
بے چینی اور سکون ملتے ہیں ساتھ ساتھ
جب ذہن و دل گدگداتا ہے آکر تیرا خیال
(نسیم احمد بادشاہ)
وہ میرا مسیحا تھا اور وہی میرا قاتل
زندگی دی اس نے ہی اور اسی نے مارا ہے
(تحسین ثمر)
لبوں پر آگیا دیکھو پیا کا نام اردو میں
کہ سیتا لکھ رہی ہے اب سیا ور رام اردو میں
(محمد انس فیضی)
کس لیے آپ حیران ہیں کیوں یہ زلفیں پریشان ہیں
لیجیے آئینہ لیجیے دیکھیے اور سنور جائیے
(اظہرشہاب)
دیے بن کر جو لفظوں میںجلنا سیکھ جاتے ہیں
وہ ہر حالت میں مشکل سے نکلنا سیکھ جاتے ہیں
(تلیکا سیٹھ)
ذرا کھل کر کہو آلوکؔ یہ حالات کب سے ہیں
اور اِن حالات کے پیچھے میاں کس کا تصور ہے
(آلوک یادو)
ہے کھلا ظلم عدالت میں بھی انصاف نہیں
اتنا گرتا ہوا معیار نہ دیکھا جائے
(قدر سہسوانی)
میرے غم سے جو ملی ہے اسی تنہائی کو
رونقِ کوچہ و بازار سمجھ لوںگا میں
(عمرا ن راہی)
پرندے بھی چہکنا بھول بیٹھے
چمن سہما ہوا ہے باغباں سے
(قلم بجنوری)
باندھ کر عہدِ وفا جھوٹ چلا جا مجھ سے
دل مرا بس ترے وعدے سے ہی بھرجائے گی
(فرحت اللہ فرحت)
خود کو وہ اعلیٰ سمجھنے کی حماقت کرگیا
ہوگئے تھے ہم کھڑے جو احتراماً کیا کریں
(قاسم شمسی)
خبر ہے کہ مسیحا آرہا ہے
طبیعت یونہی پر اسرار رکھئے
(سراج طالب)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here