مرکزی حکومت بھی ماب لنچنگ پرممتاکی طرح پھانسی کی سزا کا قانون بنائے

0
69
مرکزی حکومت بھی ماب لنچنگ پرممتاکی طرح پھانسی کی سزا کا قانون بنائے
مرکزی حکومت بھی ماب لنچنگ پرممتاکی طرح پھانسی کی سزا کا قانون بنائے
ماب لنچنگ نے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام کیا ہے۔یہ ماب لنچنگ موجودہ حکومت میں بے تحاشہ بڑھ گئی ہے لیکن ممتا بنرجی قابل مبارکباد ہیں جنھوں نے پورے ملک میں ہجومی تشدد اور ماب لنچنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے  پھانسی، کا اعلان کیا ہے۔یقیناً یہ بہت ہی قابلِ تعریف و قابلِ تقلید عمل ہے، اس سے ہجومی تشدد اور ماب لنچنگ کے واقعات میں کمی آئے گی، اور ان واقعات کو انجام دینے والے اور ملک کی امن و یکجہتی کی فضا کو برباد کرنے والوں پر لگام لگے گی۔مذکورہ باتوں کا اظہار سماجی کارکن مولانا محمد صدام قاسمی، جناب حافظ و ماسٹر عقیل اختر صاحب ، سماجی کارکن الحاج محمد مصلح الدین صاحب ، قاری اسجد راہی-چیف ایڈیٹر قومی ترجمان ، مولانا محمد اخلاق صاحب اور ماسٹر محمد طہ صاحب نے ایک پریس ریلیز میں کیا۔انہوں نے ممتا حکومت کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ محترمہ ممتا بنرجی سیکولرازم کی پابند ہیں۔بہار حکومت اور مرکزی حکومت کو بھی اسی طرح کا سخت قانون بنانا چاہیے۔مشرقی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی مرکزی حکومت اور دیگر ریاستی حکومتوں سے مآب لنچنگ کے خلاف جلد ہی قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس طرح فتنہ پھیلانے والے لوگوں سے سختی سے نمٹنے کے لئے کہا ہے۔مولانا صدام القاسمی نے کہا کہ یہ کیسا ملک ہے کہ مذہب، ذات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیاز برتا جاتا ہے ، پہلے یہ ملک ایسا نہیں تھا ، یہاں گنگا جمنی تہذیب تھی ، جہاں ایک ہی محلے میں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی بھائی بھائی بن کر رہتے تھے ، آج وہ باتیں رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہیں اور نفرت انگیز باتوں کو پھیلانے والے کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔مولانا اخلاق صاحب نے کہا کہ ممتا بنرجی نے جو ماب لنچنگ قانون بنایا ہے وہ قابل تحسین ہی نہیں بلکہ لائقِ تقلید بھی ہے، اس طرح کے قوانین وقت کی اہم ضرورت ہے۔پریس ریلیز میں قاری اسجد راہی چیف ایڈیٹر قومی ترجمان نے کہا کہ لنچنگ ایک سماجی برائی ہے اور ہم سبھی کو اس کے خلاف متحد ہوکر لڑنا چاہیے ۔تو وہیں ماسٹر عقیل اختر نے کہا کہ ملک کو شر پسندوں کی شر سے محفوظ رکھنے کے لئے ماب لنچنگ قانون ہر ریاست میں بنایا جانا چاہئے، جس سے عوام سکون کی زندگی گزار سکیں۔خیال رہے کہ اس سے پہلے راجستھان حکومت نے بھی ماب لنچنگ کے بڑھتے ہوئے
واقعات کو روکنے کے لیے عمر قید کی سزا والا قانون بنایا ہے۔
 علماء و دانشوران
Article on Mob Lynching
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here