میڈیااپنی آواز کھوچکا ہے،گودی میڈیا کےگلے میں حکومت وقت کی مالا ہے

0
157
میڈیااپنی آواز کھوچکا ہے،گودی میڈیا کےگلے میں حکومت وقت کی مالا ہے
میڈیااپنی آواز کھوچکا ہے،گودی میڈیا کےگلے میں حکومت وقت کی مالا ہے

بہت سوچ کر میں غزل کہہ رہا ہوں!
جمہوریت کا چوتھا ستون ’میڈیا ‘اپنی آواز کھوچکا ہے،اور گودی میڈیا بن کر بدنامی کا طوق پہن لیا ہے  اس نے اپنے گلے میں حکومتِ وقت کے نام کی قیمتی موتیوں سے بنی مالا پہن رکھی ہے۔۔۔اور اب وہ اسی گلے کا چیخ چیخ کر استعمال کررہا ہے، عوام کے حق کے لیے نہیں بلکہ حکومتِ وقت کی حمایت اور اس کے دفاع کے لیے!۔۔۔میں جب بھی اس گودی میڈیا کی باتیں سنتا ہوں تو میرے ذہن میں خلیل جبران کا وہ قول گردش کرنے لگتا ہے کہ ’اس نے کہا میں نے مان لیا، اس نے زور دیا مجھے شک گزرا ، اس نے قسم کھائی۔۔۔میں سمجھ گیا یہ جھونٹ بول رہا ہے‘۔میرے شعور نے جب ہوش سنبھالا تو ٹی وی اتنا عام نہیں تھا ۔۔۔ہمارے پڑوس میں صرف دو گھر ایسے تھے جہاں ٹی وی تھا۔ ہم لوگ بھی چوری چھپے ایک گھر میں ٹی وی دیکھنے چلے جاتے تھے۔۔۔کرکٹ کا زیادہ شوق تھا لیکن کبھی کبھی ہفتہ کے روز ڈی ڈی ون پر آنے والی فلم بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔۔۔اسی زمانے میں ایک فلم دیکھی تھی نام تو یاد نہیں لیکن اس کا ایک ڈائیلاگ آج بھی ذہن میں محفوظ ہے:’۔۔۔ایک بات یاد رکھو یہ وہ زمانہ ہے کہ تم آہستہ سے سچ بولوگے تو کوئی نہیں مانے گا لیکن زور سے جھوٹ بولوگے تو سب مان لیں گے‘۔آج کا گودی میڈیاموجودہ حکومت کی آواز میں آواز ملا کر بالکل اسی انداز میںاپنی بات رکھتا ہے کہ اسے سن کر شک نہیں بلکہ یقین سے کہا جاسکتا ہے ، وہ جھونٹ بول رہا ہے۔پڑنٹ اور الیکڑانک میڈیا کا اکثر حصہ اقتدار اعلیٰ کے ہاتھوں اپنے ضمیر کا سودا کرچکا ہے ۔ لیکن ان حالات میں بھی کچھ ایسے صحافی اور نیوز چینل ہیں جو بھیڑ کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔
ملک کو ڈرانے، دھمکانے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس میڈیا کو ڈرایا جائے جو ابھی بھی اقتدار کی وفاداری نبھانے سے انکار کررہاہے۔ ملک کے نامور صحافیوں کے خلاف مقدموں کے ساتھ ساتھ نئے اور آزادانہ طور پر اپنا فرض ادا کرنے والے صحافیوں کی گرفتاری آنے والے دنوںکا ویسا ہی ’میڈیاسروے‘ ہے جیسا کہ بجٹ سے پہلے ’معاشی سروے ‘ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایمرجنسی سے بھی آگے والی کچھ بات نظر آتی ہے۔ حکومت نے صحافیوں کے لیے اپنی وزارتوں کے دروازے تو پہلے ہی بند کردیے تھے تاکہ وہ وہاں سے خبریں نکال کر عوام تک نہ پہنچا سکیں۔ اب جو صحافی سڑکوں سے خبریں ڈھونڈکر لوگوں تک پہنچا رہے ہیں انھیں ہی بند کیا جارہا ہے۔ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ واقعتاکون کس سے ڈر رہا ہے؟
ان سب کے درمیان، تسلی بخش بات یہ ہے کہ ابھی بھی کچھ صحافی موجود ہیں جو تمام رکاوٹوں کے باوجود میڈیا کی آزادی کے لئے کام کرپارہے ہیں۔البتہ ہو یہ رہا ہے کہ کھیتی کی زمین کو بچانے کے لیے ہونے والی لڑائی کی قیادت اب جس طرح سے چھوٹے کسان کررہے ہیں ، میڈیا کی زمین بچانے کی لڑائی بھی چھوٹے اور محدود وسائل والے صحافی ہی کرپارہے ہیں ۔ یہی وہ صحافی ہیں جنھیں چھوٹی چھوٹی جگہوں پر انتہائی ذلت ، رسوائی اور سرکاری جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کسان Contract Farmingسے لڑ رہے ہیں اور صحافی Contract Journalismسے۔ موجودہ حکومت نے ’ہاتھیوں ‘ پر قابو پالیا ہے لیکن ’چونٹیوں ‘ سے خوفزدہ ہے۔یہ صحافی سوشل میڈیا کی مدد سے اپنا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا بھی کب تک موجودہ حکومت کی پابندیوں سے آزاد رہ سکے گا۔ وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطالبہ پر ٹویٹر نے حال ہی میں دوسو سے زیادہ اکائونٹس پر پابندی عائد کردی۔ بتایا گیا ہے کہ کسانوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے ان اکاؤنٹس کو بند کرنے کا مطالبہ امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ ہونے دینے کی کوشش میں کیا گیا ہے۔ اس بنا پر بعد میں اور بھی بہت سی چیزوں پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کسانوں کے خلاف کس حد تک کاروائی کررہی ہے اس کا اندازہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے یہ کہنا پڑا کہ’ حکومت اور انتظامیہ کو فطری انصاف کے خلاف نہیں جانا چاہے‘۔یہ معاملہ اترپردیش کے سیتاپور ضلع کے کسانوں، کسانوں کی تحریک سے وابستہ ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز ضلعی انتظامیہ سے کہا تھا کہ جب وہ مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی کی سماعت کررہا ہو تو فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف نہ جائے۔واضح ہو کہ سیتا پور انتظامیہ نے کاشکاروں کو ٹریکٹروں چھڑانے بانڈز اور ضمانت کی رقم جمع کرنے کا نوٹس دیا تھا۔یہ ٹریکٹر سیتاپور ضلع سے غازی پور بارڈر کسان تحریک میں حصہ لینے کے لیے جارہے تھے، جنھیں راستے میں روک کر ٹریکٹر سمیت گرفتار کرلیا گیا اور حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے ان کسانوں سے پچاس ہزار سے لے کر ۱۰؍لاکھ روپے تک کے مراعات اور ضمانتوں کا مطالبہ کیا گیا تھااور اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ یہ کسان امن و امان کی خلاف ورزی کررہے تھے۔
کسان گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ زرعی قوانین کے خلاف چل رہی یہ تحریک اب جنگل کی آگ ہی طرح پھیلتی جارہی ہے۔ اب تک پنجاب ، ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں زور پکڑ رہی اس تحریک کی حمایت میں راجستھان کے کسان بھی کھڑے ہورہے ہیں ۔۔۔۔اترکھنڈ کے ترائی والے علاقوں میں بھی کسانوں کی یہ تحریک مضبوطی کے ساتھ اپنی آواز بلند کررہی ہے۔ حکومت اب اگر اس آگ پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے تینوں زرعی قوانین واپس لینے ہوں گے۔ اس سے کم پر بات بنے گی نہیں بلکہ مزید بگڑ جائے گی۔۔۔حکومت ان کسانوں کو روکنے کے لیے چاہے جتنی دیواریں کھڑی کردے یا ان کے راستوں میں جتنے چاہے کانٹے پچھا دے ، کسان اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا ڈھائی مہینے قبل جب کسان دہلی روانہ ہوئے تھے تو ان پر کڑکڑاتی ٹھنڈ میںپانی کی بارش ہوئی ، لاٹھی چارج ہوا ، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، راستے میں گڈے کھود دیے گئے ۔۔۔۔غرض کے کسانوں کو روکنے کی ہرممکن کوشش کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔۔۔اورہوا وہی جو کسانوں نے چاہا!ہمارا یقین ہے کہ آگے بھی ہوگا وہی جو کسان چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے ’ایک فون کال کی دوری‘ والی دعوت کے فوراً بعد ہی سنگھو، غازی پوراور ٹکری بارڈر پر کسانوں کو دارالحکومت (دہلی) میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے دیواریں کھڑی کردی گئیں۔ سڑکوں کی چھاتیوں کو نکیلی کیلوں سے چھلنی کردیا گیا ۔ تو کیا اب خبریں بھی ان پابندیوں کے تابوتوں میں قید کردی جائیں گی؟۔ شاید نہیں!۔۔۔اب تو نوجوان صحافی مندیپ پونیا بھی ضمانت پر باہر آچکے ہیں۔ حکومت دیواریں کہاں کہاں کھڑی کرے گی؟ جمہوریت کی سڑک بہت لمبی ہوتی ہے۔۔۔۔کیلیں کم پڑ جائیں گی۔ حکومت اس وقت اقتدار کے نشے میں چور ہے اور اپنی نبض پر اپنے ہی ہاتھ کو رکھے ہوئے ایسا سمجھ رہی ہے کہ ملک کی دھڑکنیں ٹھیک چل رہی ہیں ، سب کچھ بالکل نارمل ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔اندرا گاندھی نے بھی یہی غلطی کی تھی لیکن اس نے اپنی غلطی کو صرف ۱۸؍مہینے اور تین ہفتوں میں درست کرلیا تھا۔ یہاں تو ابھی سات سال مکمل ہونے جارہے ہیں!’جَن جَن کے بیچ‘ کی جس دیوار کو ’برلن کی دیوار ‘کی طرح ڈھا دینے کی بات وزیر اعظم نے سوا دو سال پہلے ’گرو پرو‘ کے موقع پر کہی تھی، وہ تو اب اور اونچی کی جارہی ہے۔
گذشتہ ڈیڑھ برس میں دوسرا ایسا موقع ہے کہ مودی کی سربراہی والی حکومت کو ملک کے دارالحکومت میں للکارا گیا ہے۔۔ سی اے اے کے خلاف تحریک بھی دہلی ہی کے شاہین باغ سے شروع ہوئی تھی اور پورے ملک میں پھیل گئی تھی۔۔۔اب کسانوں نے چاروں طرف سے دہلی کی گھیرابندی کی ہے۔۔۔یہ صرف قانون واپس لے لینے کی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس ملک میں جمہوری نظام کو زندہ رکھنے کے لیے ہے۔ یہ تحریک اگر ناکام ہوتی ہے تو جمہوریت ابدی نیندسوجائے گی اور۔اگر اس لڑائی میں کسان کو کامیابی ملتی ہے تو اس سے نہ صرف جمہوریت باقی رہ جائے گی بلکہ اسے طاقت کا انجکشن لگ جائے گا اور وہ مزیدمضبوط ہوجائے گی۔۔۔ ضرورت ہے بس اتحاد کی !اور اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی۔
٭

محمد اویس سنبھلی

9794593055

Article by Owais sambhali on godi media

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here