تعصب کی کہانی کا مرکزی کردار میڈیا۔اس نے صوفیوں کو بھی نہیں بخشا

0
60
تعصب کی کہانی کا مرکزی کردار میڈیا۔اس نے صوفیوں کو بھی نہیں بخشا
تعصب کی کہانی کا مرکزی کردار میڈیا۔اس نے صوفیوں کو بھی نہیں بخشا

تعصب کی کہانی کا مرکزی کردار میڈیاہے اس میڈیا نے جس طرح ذہر گھولا ہے اس نے اب صوفی سنتوں کو بھی نہیں بخشا ۔اس تعصب کی کہانی کی ابتدا کیا صرف 6سال پر محیط ہے ۔نہیں اس تعصب کی کہانی کی شروعات تو ہندوستان میں آزادی کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی مگر اس کو جلا ملی ہے مودی حکومت میں۔ اس تعصب کی کہانی کا مرکزی کردار صرف مسلم ہیں اور اب یہ ذہر اتنا پھیل چکا ہے کہ اس نے صوفیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے

قدم قدم پر مسلمانوں کو ذلیل کرنےکی کوشش ہے

اربابِ اقتدار کی خوشنودی کے لیے معاشرے کی تشکیل کے چوتھے ستون صحافت کے کارکن اپنے معیار سے اس قدر گر جائیں گے یہ سوچ کر عقل حیران ہے ،قدم قدم پر مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش انہیں نیچا دکھانے کی سازش ،معاشرے میں ہندو مسلم کا ذہر گھولتے گھولتے مسلمانوں کی مساجد کو ٹارگیٹ کرتے کرتے گودی میڈیا اس حد تک گر گئی کہ اب صوفی سنتوں کی خانقاہوں تک پہنچ گئی ،ہمارے ملک ہندوستان میں صوفی سنتوں کی خانقاہیں قومی یک جہتی اور گنگا جمنی تہذیب کا وہ سنگم ہیں جسکی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی

امیش دیوگن نے ایسی ہستیوں کی شان میں گستاخی کی

،ان خانقاہوں میں ہندو مسلم سکھ عیسائی جین پارسی میں کوئ فرق نہیں جہاں ہمیشہ مذاہب سے اوپر اٹھکر انسانیت کا درس دیا جاتا رہا ہے، آزاد ہندوستان میں وزیراعظم سے لیکر غریب فقیر تک ان کی تعظیم میں سر جھکاتے رہے ہیں تاجدارِ ہند جنہوں نے زمین پر رہ کر لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں پر بادشاہت کی ہے افسوس امیش دیوگن نے ایسی عظیم الشان ہستی کی شان میں گستاخی کی

عقیدت مندوں میں غم اور غصہ کی لہر

جرت کی ہے ،صاحب اقتدار کو خوش کرنے اور طبقئہ خاص میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے چند ٹی وی اینکر اس حد تک گر جائیں گے سوچا نہ تھا امیش دیوگن کی غریب نواز عالمی شہرت یافتہ صوفی خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ تاجدارِ ہند کی شان میں گستاخی کرنے سے دنیا بھر کے عقیدت مندوں میں غم اور غصہ کی لہر ہے

خواجہ کی پیدائیش

یہ ہندوستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہندوستان کہ سرزمین پر خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا قیام ہوا جنہوں نے بہت کم وقت اپنے علم اور عمل کے ذریعے عوام کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ لوگ ان کے گرویدہ ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ غیر مسلم دائرہ آپ کی پناہ میں آکر اسلام قبول کرنے لگا سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ آپ کے ہاتھ پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے،حضرت کی پیدائش ملک سجستان میں 537ہجری مطابق 1842 میں ہوئ تھی حضرت خواجہ کے بزرگوں کا وطن ہرات کے قریبی شہر چشت میں تھا اس لیے آپ چشتی کہلائے جانے لگے آپ کے والد کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ تھا آپ امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے

مجذوب کو یہ ادا پسند آئ

آپ کی ابتدائی تعلیم اور تربیت والد کی نگرانی میں ہی ہوئ لیکن معین الدین کی عمر ابھی 11سال ہی تھی آپ کے والد عراق میں وفات پا گئےحضرت کو باپ کی میراث میں ایک باغ ملا آپ اس باغ کی پیداوار اور آمدنی سے ضرورتیں پوری فرمایا کرتے تھے ایک روز آپ کے پاس ابراہم مجزوب نامی قلندر تشریف لائے معین تعظیم سے اٹھ کھڑے ہوے مجذوب کو یہ ادا پسند آئ انہوں نےان کے لیے دعا کی آپ کو اسی وقت محسوس ہو گیا یا جیسے آپ کا دل نور سے منور ہوگیا، سارا سامان بیچ کر رشتے دار اور غریبوں میں تقسیم کیا اور وطن چھوڑنے کو اٹھ کھڑے ہوئے آپ وطن چھوڑ کر سب سے پہلے سمرقند پہنچے وہاں قرآن مجید حفظ کیا اور دوسرے علم حاصل کرتے ہوئے حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے مریدوں میں شامل ہوگئے وہاں آپ نے درویشوں کی ایسی جماعت دیکھی جو خدا کے عشق میں مست تھی بس آپ جماعت میں شامل ہو کر عشق خدا میں سرشار ہو گئے اس کے بعد خواجہ عثمان ہارونی کے ساتھ مکہ منورہ کا سفر کیا اور پھر وہاں سے اپنے ملک تشریف لے گئے

دہلی کی سرزمین پر آمد

عراق ،بلخ ،غزنی،ہوتے ہوے سرزمین ہندوستان کی خوش قسمتی کہ آپ کے قدم مبارک نے دہلی کی سرزمین کو اپنے نور سے منور کر دیا حضرت کی زندگی نہایت سادہ تھی،آپ بہت کم کھانا کھاتے تھے ، اکثر تین دن بعد روٹی کے ٹکڑے پانی میں تر کرکے کھا لیتے تھے اور ان ٹکڑوں کی بھی مقدار مشکل سے ڈیڑھ تولہ ہوتی تھی خواجہ قطب الدین بختیار رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
“میں بیس برس حضرت کی خدمت میں رہا لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سنا کہ حضرت نے اپنی صحت کے لیے دعا مانگی ہو بلکہ ہمیشہ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اللہ جہاں کہیں درد اور محنت ہو وہ اپنے بندے معین الدین کو عنایت فرماء “

حضرت کی تعلیمات

حضرت بہت بڑے عبادت گزار درویش تھے رات بھر جاگ کر عبادت کرتے تھے آپ نے پیدل ہی کئی بار حج کیے قابلِ غور ہے کہ کیا یہ کسی عام انسان کے لئے ممکن ہے کہ آپ ستر سال تک نہیں سوے اور اپنی کمر کو زمین سے نہیں لگنے دیا آپ نے فرمایا چار چیزیں بہت عمدہ ہوتی ہیں
وہ درویش جو اپنے آپ کو دولت مند ظاہر کرے
وہ بھوکا جو اپنے آپ کو پیٹ بھرا ہوا ظاہر کرے
وہ دکھی جو اپنے آپ کو خوش ظاہر کرے
وہ آدمی جسے دشمن بھی دوست دکھائی دے

فیضان آج تک جاری و ساری ہے

حضرت خواجہ کی تعلیمات کا فیضان آج تک جاری و ساری ہے یہ وجہ ہے کہ آپ کی درس گاہ پر زیارت کے لئے ہر مذہب کے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے مگر افسوس ملک کو نفرت تکی آگ میں جھونکنے کے لیے کوشاں امیش دیوگن جیسے لوگوں نے اس عظیم الشان ہستی کو بھی نہیں بخشا اور ہزاروں لاکھوں نہ صرف مسلموں کی بلکہ عقیدت مند غیر مسلوں کی بھی دل آزاری کی، میں امیش دیوگن کے اس متنازع بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی ہوں جنہوں ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو نظر آتش کرنے کی کوشش کی ان جیسے لوگوں سے ملک کی سالمیت اور بہبودگی کو خطرہ ہے ایسے لوگ آہستہ آہستہ ملک کی بنیادوں کو فرقہ پرستی کے تیزاب سے کھوکھلا کر رہے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ عقیدت مند صبر سے کام لیتے ہوئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں ـ

عارفہ مسعود عنبر

Article on hatred by media

Arfa Masood Ambar

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here