مولانا ولی رحمانی کی رحلت ملت کابڑاخسارہ، علماء اور عمائدین کا اظہارغم

0
73
مولانا ولی رحمانی کی رحلت ملت کابڑاخسارہ، علماء اور عمائدین کا اظہارغم
مولانا ولی رحمانی کی رحلت ملت کابڑاخسارہ، علماء اور عمائدین کا اظہارغم
آل انڈیا پرسنل بورڈ کے جنرل سکریٹری،عالم دین اور مسلم نوجوانوں کی تعلیمی ترقی وترویج کے لیے ہمیشہ ہم تن گوش رہنے والے بہار اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر مولانا ولی رحمانی کے سانحہ ارتحال پر ممبئی کے علماء کرام اور عمائدین نے تعزیت پیش کرتے ہوئے اسے ملت کا بڑاخسارہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ بورڈ کو جلدازجلد ان کا متبادل عطا فرمائے۔
اس موقع پرانجمن اسلام کے صدر اور پرسنل بورڈ کے اہم رکن ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہاکہ “مولانا ولی رحمانی کی رحلت میرے اور انجمن اسلام کا یہ ذاتی نقصان ہے،کیونکہ ہم نے کئی سال سے تعلیمی میدان سمیت مختلف میدانوں میں کندھے سے کندھا ملا کر کام کیاہے،اس لیے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں یتیم ہوگیا ہوں۔”
انہوں نے کہاکہ مرحوم ولی رحمانی صاحب جیسا ہونہار،باصلاحیت اور پر اعتماد شخص اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہے،ایک عرصے تک ان کے ساتھ کام کرنے،سفر کرنے اورپرسنل بورڈ کے کام کاج بخوبی ہینڈل کرتے دیکھا ہے۔وہ ایک طرح سے “آل راؤنڈر” تھے۔ان کا کام کرنے کا انداز اور مسائل حل کرنے کی ان طاقت تھی۔نئے نئے آئیڈیا اور طور طریقے اپناتے اور قوم کی کامیابی وسرخروئی کے خواب دیکھتے بلکہ انہی۔ پورا کرنے کاجذبہ رکھتے تھے۔
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے مزید کہاکہ تعلیم کے شعبے بھی ان۔کی گرفت مضبوط رہی،ان کے ساتھ مل۔کر انجمن اسلام نے آئی آئی ٹی کے طلباء کی تربیت کا بیڑہ اٹھایا اورپٹنہ میں آئی آئی ٹی کی تعلیم کوترجیح دیتے تھے۔کوٹہ کی بہترین کوچنگ کلاسیس سے پٹنہ کی کوچنگ  کافی بہتر تھی۔ہم بھی اس کا حصہ بنے ،ان۔کے بیٹے نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
 مسلم پرسنل لاء بورڈکے جنرل سکریٹری کاعہدہ سنبھالا کر انہوں نے بورڈ کی میٹنگ کو بخوبی چلایا اور ہر مسئلہ پر گفتگو کرنے کا انہیں فن۔حاصل رہا۔
ہرایک مسئلہ کاسامناکیا اور مسلمانوں میں اصلاح معاشرے کی تحریک میں علی رحمانی صاحب پیش پیش رہے۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ملت نےمنگیر میں خانقاہ کے تعلق رکھنے والے ۔ہزاروں افرادکے سرپرست کو محروم کردیا۔ملت کی ایک طاقتور آواز،عالم دین سے ہم محروم ہو گئے ہیں۔
جمعیتہ علماء لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے ولی رحمانی کی رحلت کوملت کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہاکہ پہلے تین طلاق کے مسئلہ پر ان کی رہنمائی میں حکومت سے لڑائی لڑی اور حالیہ دور میں شادی کی فرسودہ رسومات، ،جہیز اور بارات کے خلاف جاری مہم  کے وہی سربراہ تھے اور ہم ان کی بہترین قیادت سے محروم ہو گئے ہیں۔شاید ہی مستقبل میں ان کے جیسا قائد پرسنل لاء بورڈ کوملے۔
مسلم پرسنل بورڈ مجلس عاملہ کے رکن اور معروف عالم دین حافظ سید اطہر علی نے کہاکہ مولانا ولی رحمانی کے انتقال کی۔وجہ سے قوم۔وملت کابڑا نقصان ہواہے،ان۔کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ۔ہوا ہے اور ان۔کے انداز سے سبھی متاثر رہے۔اللہ تعالیٰ جلد سے جلدمسلم پرسنل لاء بورڈ کو انکا متبادل عطا فرمائے۔
مہاراشٹر کے سابق وزیر اور سنئیر کانگریسی رہنماء نسیم عارف خان نے گہرے رنج وغم۔کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ملت اسلامیہ کے درمیان جوخلاء پیدا ہوا ہے ،اس کا پر کرنا مشکل ہے،کیونکہ سنگین حالات میں وہ ارباب اقتدار کے سامنے ڈٹے رہے،بابری مسجد کامسئلہ ہویاتین طلاق کا انہوں نے ہمیشہ اہم کردار نبھایا۔عارف نسیم خان نے کہا ہے کہ مولانا لی رحمانی کی رحلت ملک وملت کے لیے عظیم خسارہ ہے۔ ان کی رحلت سے ہم ایک عظیم ملی وقومی رہنما سے محروم ہوگئے۔ مولانا ولی رحمانی کی رحلت پر اپنے تعزیتی پیغام میں نسیم خان نے کہا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری وامارت شرعیہ بہار، بنگال،آسام وجھارکھنڈ کے امیرشریعت کی حیثیت سے مولانا نے ملک وملت کے گرانقدر خدمات انجام دیں جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نسیم خان نے کہا کہ مولانا ہر مکتب فکر کے لوگوں میں یکساں مقبول تھے اور ہرطبقے میں ان کی بات نہایت احترام سے سنی جاتی تھی۔ مولانا مرحوم نے ایسے دور میں ملک وملت کی قیادت کی جبکہ پورا ملک فرقہ وارانہ عصبیت کا شکار ہے۔ مولانا نہایت معتدل مزاج شخصیت کے حامل تھے، ان کی رحلت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ملک کے لیے عظیم نقصان ہے۔ اللہ مولانا کے درجات بلند کرے اور ملت کو صبرجمیل عطاکرے۔ میں ذاتی طور پر مولانا کے اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہوں۔
Article on Maulana Wali Rehmani
Sada Today Web Portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here