مولانامحمد قاسم نانوتوی بھی علوم عصریہ کے حامی تھے

0
278
مولانامحمد قاسم نانوتوی بھی علوم عصریہ کے حامی تھے
مولانامحمد قاسم نانوتوی بھی علوم عصریہ کے حامی تھے

ڈاکٹرراحت مظاہری،قاسمی

وطن عزیز میں اس وقت فرقہ پرستوں کی جانب سےمنظم سازشوں اورشورش زدہ حالات کا کوئ مقابلہ یاجواب ہوسکتاہے تووہ ہم کوتعلیمی میدان میں برادران کے مقابلہ کے لئےسینہ سپرہوجانا ہے۔
اسی طرح مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم میں پیش قدمی کرکے ملک کے کلیدی عہدوں پرفائز ہونے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ان کے لئے کوئی دوسرا الٰہ دین کا چراغ نہیں ہوسکتا۔
اسی کے ساتھ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندستان میں مسلمانوں کی اپنی مسلم شناخت کی بقا کے ساتھ ان کی تعلیم کامسئلہ بھی بڑاپیچیدہ اورالجھاہواہے، کیونکہ کوئی صاحب شعوراس حقیقت کامنکرنہیں ہوسکتا کہ ایک مسلمان فرداسی وقت تک مسلمان اورمتبع شریعت کہلائے گا جس وقت تک وہ پیغمبرامی کے لائے ہوئے دین فطرت کاحامل وقائل ہو،اوراس اہم قضیہ کے لئے اس کو اسلام کی مبادیات کے علاوہ اس قدرعلم دین سیکھنابھی لازم ہے جس سے اس کو اپنے مذہب کی روسے حلال وحرام کی تمیزہوسکے،
بقول مفکراسلام مولاناسیدابوالا علیٰ مودودی’’میں تم سے یہ نہیں کہتاکہ تم میں سے ہرشخص مولوی بنے،بڑی بڑی کتابیں پڑھے،اوراپنی عمرکے دس،بارہ سال پڑھنے میں صرف کردے، مسلمان بننے کیلئے اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
آگے بہت زوردے کر فرماتے ہیں ’’کم از کم اتناعلم ہرمسلمان بچّے اوربوڑھے اورجوان کوحاصل ہوناچاہیئے کہ قرآن جس مقصد کے لئے اورجوتعلیم لے کرآیاہےاس کا لبّ لباب جان لے،نبیﷺ جس چیز کومٹانے اورجس چیز کوقائم کرنے کے لئے تشریف لائے تھے، اس کو پہچان لے،اوراس خاص طریق زندگی سے واقف ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نےمسلمانوںکے لئے مقررکیاہے،،(خطبات)
ظاہرہے کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ موجودہ مدارس کاجال پھاڑ دیاجائے یااس کو ایک کونے میں ڈال دیاجائے،لاک ڈاؤن کےنتیجے یااپنی بھگواذہنیت کے سبب اس کاذمہ تو سرکاروںنے ہی اپنے سرلے لیاہے،جیساکہ بطورخاص یوپی اورآسام حکومتوںکے عزائم وفیصلوں سے ظاہرہے۔
آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوںمیں مدارس اسلامیہ کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے جیساکہ ’’حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اس وقت علومِ دینیہ کے مدارس کا وجود مسلمانوں کے لیے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے فوق (بڑھ کر) متصور نہیں،دنیا میں اگر اسلام کی بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں۔
(العلم والعلماء(253)
اسی طرح ہمارے ایک کالم نگاردوست محترم عاطف سہیل صدیقی کاخیال ہے کہ ’’اسلامی تاریخ کا یہ ناقابلِ فراموش واقعہ ہے کہ امتِ مسلمہ پر جب بھی کوئی نازک دور آیا، اس کے دینی وملی وجود کو خطرہ لاحق ہوا ،یا اس کو دین وایمان کی شاہراہ یا سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین کی روش سے ہٹانے کی کوئی انفرادی یا اجتماعی کوشش کی گئی تو ان مدارس کے بوریا نشین علماء و صلحاء ہی نے اس کا مقابلہ کیا ۔بھارت کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ ان علماء و مدارس کی عظیم قربانیوں کی ایک سنہری یادگار ہیں،موجودہ دور میں حالات و واقعات نے ان مدارس کی اہمیت و ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔،،
لہٰذا موجودہ وقت میں ہمارے اکابرعلمائے دین اورماہرین تعلیم کوایسی نئی تعلیمی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے جس سے کہ ایک ہندستانی مسلمان اپنے مذہبی شناخت کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ کراپنے ہدف اورگول کوحاصل کرسکے۔
اسی کے ساتھ یہ چیزبھی توجہ طلب ہے جیساکہ کئی دانشوروں کے اسی قبیل کے مشورے بھی اہم ہیں کہ ’’ہم کوسردست بڑی بڑی یونیورسٹیاں اورکالجز قائم کرنےکے بجائے زمینی سطح پر کام کرنے کی سخت ضرورت ہےیعنی پرائمری اور ثانوی معیار کے نئے اسکولوںکی داغ بیل یااگرکہیں پہلے سے برسرمیدان ہیں توا نکی مضبوطی اورمعیار پر خاص توجہ کی ضرورت ہے،،
نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنی رقم ، وسائل اور توانائی ہم ایک یونیورسٹی کو قائم کرنے میں صرف کرتے ہیں اتنی رقم اور وسائل کے استعمال سے ہم ہندوستان بھر میں بیسک اور سیکنڈری لیول کے عظیم الشان ا سکولوں کی سیریز قائم کر سکتے ہیںکیونکہ جب تک ہماری بیسک اور سیکنڈری لیول کی تعلیم مضبوط نہیں ہوگی تب تک ہم یونیورسٹیز سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لائق بھی نہیں ہوں گے۔
یہاں اُس اصل حقیقت اورمدعاکی وضاحت بھی لازمی ہے جس کے لئے ا س وقت قلم فرسائی کی گئی ہے کہ بانی دارالعلوم دیوبندحضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ علوم عصریہ کے مخالف نہیں بلکہ ان کے حامی تھے،جیساکہ عام طورپرلوگوںکے ذہن میں ایک غلط فہمی بیٹھی ہوئی ہے، کہ علمائے اسلام کوعلوم جدیدہ کی ضرورت نہیں، اوران کاکام توصرف مسجد کی چٹائی پر بیٹھ کرا للہ، للہ کرنااورمدرسہ کے بورئے پر بیٹھ کرقرآن وحدیث ہی کاشغل ہے، گویاکہ علوم عصریہ ان کے لئے نہیں یاوہ علوم عصریہ کے اہل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیاعلمائے دین ریل گاڑی، بس، ہوائی جہازمیں بیٹھنے کے مجازنہیں، یاوہ ٹیلیفون، موبائل نہیں
چلاتے؟یاجیساکہ ہماری امیدیں ہیں کہ ایک روزپوری دنیاپر حکومت حقہ قائم ہوگی توکیاوہ حکومت موجودہ آلات اورسسٹم کے بغیربھی متحرک اورفعّال ہوسکتی ہے؟ یہ امربھی قابل غورہے۔
اوربات رہی حضرت نانوتویؒ کی تو وہ تو علوم قرآن وحدیث کی طرح علم کلام ، منطق وفلسفہ کے بھی امام تھے، اورجامع مسجد دیوبندمیں طلبہ کواقلیدس پڑھاتے تھے ۔ اہل علم کے نزدیک علوم عصریہ میں ان کی مہارت اورعمیق نظری کی دلیل حضرت کے عیسائی پادریوںسے مناظرے،مستشرقین کے رد میں ان کے بیانات ،تصنیفات، بطورخاص ان کامجموعہ ’ہفت رسائل، اوران ساتوں میں بھی بطورخاص’ قبلہ نما، جواب ترکی بہ ترکی، مذہبی گفتگو، تحفیہ لحمیہ،انتصارالاسلام اس کے شاہد ہیں۔
اسی بصیرت نظری کی بناپر حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمدقاسمی نانوتو ی فضلائے مدارس، علمائے دین کے لئے ایک ایسے نصاب کے قائل تھے کہ جوعلوم اسلامیہ کے فارغین کو زمانہ سے ہم آہنگ کرسکے جیساکہ مولاناانھوںنے اپنے ایک مصاحب حکیم دائم علی صاحب کے ساتھ گفتگومیں فرمایا تھا’’ “دین پر قائم رہنا علم معقول حاصل کئے بغیر دشوار ہے” (سوانح قاسمی۔ ۲۹۸)
” بقول مولانامناظرحسن گیلانی مولانامحمدقاسمی نانوتوی کی یہ بھی رائے تھی کہ پہلے دینی و اسلامی اصول کا نصاب دانش مندی کے فنون کے ساتھ ختم کرا لیا جائے ، جن کے بغیر خالص اسلامی علوم ، تفسیر، شروح احادیث و فقہ کی کتابوں کے نہ مطالعہ ہی کی صحیح قدرت پیدا ہو سکتی ہے، اور جیسا کہ چاہیے، ان کتابوں سے استفادہ بھی ابآسانی کے ساتھ ممکن نہیں، ” (سوانح قاسمی۔ ص۔ ۲۸۴)
اسی بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ سوانح قاسمی کے مصنف اور شیخ الہندؒ کے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا سید مناظر حسن گیلانیؒ نے بھی اپنی رائے بناکر پیش کیاہے’’ خالص اسلامی، اور دانش مندی کے قدیم علوم سے فارغ ہونے کے بعد ، سرکاری مدارس میں داخل ہوکر جدید علوم و فنون کو حاصل کیا جائے ، مگر بقول مبصرین’’ اس نصب العین کے مطابق اپنی پوری تاریخ میں دارالعلوم دیوبند کسی “صحیح نمونہ” کو پیش کرنے سے اگر چہ اس وقت تک قاصر رہا ہے۔” (سوانح قاسمی ج۔ ۲، ص۔ ۲۹۴۔)
مگر ان شورزش زدہ حالات سے مقابل آرائی کے لئے ہمیںفی الفورمولانامناظرحسن گیلانی کی رائے پرعمل پیراہوناچاہیئے یہی وقت کاتقاضاہے ’’کہ علوم جدیدہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرکاری مدارس میں مسلمان بچوں کو داخل کیا جائے۔” (ایضا۔ ۲۸۵)۔
لہٰذا مسلم طلبہ کوعلوم دینیہ میں مہارت کے ساتھ علوم عصریہ کے ساتھ بھی رابطہ ہوتوممکن ہے ہندستان میں ہماری قسمت پلٹاکھائے اور ہماری ڈوبتی کشتی کوساحل مل سکے۔
آپ غورکیجئے کہ آج غیرمسلم سادھو اپنے بھجن، کیرتوںمیں انگریزی زبان اورسائنسی مثالوں سے اپنے دعووں کو مضبوط کرکے پیش کرتے ہیں اوربیچارے ہمارے علما ئے دین ملک کی قومی اورسرکاری زبان ہندی سے بھی نابلد ہیں۔
؎ ببیں تفاوت، راہ ازکجاست تابکجا؟
توجبآپ دورحاضرکے چیلنجز کاجواب دینے ہی سے قاصرہیں تواسلام کی تبلیغ کاحق کس طرح اداکرسکتے ہیں اورکس طرح مخالفین کاردکرنے کے اہل ہیں

ڈاکٹر راحت مظاہری

Article by Dr.Rahat Mazahiri

Sada Today Web Portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here