غرور اور گھمنڈ میں چور پاگل ہاتھی ارنب کی گرفتاری ۔اب آیا اونٹ ۔۔

0
62
غرور اور گھمنڈ میں چور پاگل ہاتھی ارنب کی گرفتاری ۔اب آیا اونٹ
غرور اور گھمنڈ میں چور پاگل ہاتھی ارنب کی گرفتاری ۔اب آیا اونٹ
 صحافت کو عدلیہ کے بعدایک مضبوط ترین ستون تسلیم کیاجاتاہے لیکن ان دنوں عدلیہ کے چند متنازع فیصلوں سے بدگمانی پیدا ہوئی ہے،لیکن عوام کا اعتماد برقرار ہے۔اس سے برعکس صحافت کا بیڑہ غرق کرنے کی پوری کوشش جاری ہے،خصوصی طور پر ٹی وی نیوز چینلوں کے نئے نئے انداز سے عام ناظرین نے ان کی طرف سے رخ پھیر لیا ہے اور ان پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )نے بر اقتدار آنے کے بعد مختلف اداروں میں جس طرح گھس پیٹھ کی اور ان کا ایسا بیڑہ غرق کیا کہ عام آدمی کا ان اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیاہے،ان میں فی الحال پرنٹ میڈیا ایک حد تک بچا ہوا ہے۔
دراصل ایک قومی چینل ہونے کا دعویٰ کرنے والے نیوز چینل کے ایڈیٹر انچیف ارنب گوسوامی کی مہاراشٹر پولیس کے ذریعہ گرفتاری پر جو واویلا مذکورہ چینل کے ساتھ ساتھ اس قومی پارٹی بی جے پی نے مچایا ہے،اُس سے دونوں کے درمیان سازباز کی پوری پوری بوآتی ہے اوران کے آپسی تال میل کی بھی پول کھل گئی ہے،کیونکہ چینل کی بیان بازی اور ان لیڈروں کے بیانات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ارنب کی گرفتاری کا جہاں تک معاملہ ہے ، مہاراشٹر کی علی باغ پولیس نے ارنب کوایک الگ ہی معاملہ میں گرفتار کیا ہے،جس میں ان پر ایک شخص کو خودکشی کیلئے اکسانے کاالزام عائد کیاگیاتھا؟لیکن ایک واحد صحافی کی گرفتاری کو دونوں ہی ایمرجنسی اور اظہار رائے کی آزادی پرحملہ کی باتیں کرنے الزام عائد کررہے ہیں۔عجیب بات تو یہ ہے کہ ان کے ساتھی چینلوں میں سے کسی نے دن بھر ایک سطر کی خبر دینا بھی گوارہ نہیں سمجھا،البتہ شب میں 10 منٹ میں سوخبریں اور پانچ منٹ میں 50 خبروں میں شامل کرلیاگیا ،لیکن کسی نے بھی صحافی کی گرفتاری پر کوئی احتجاج نہیں ظاہر کیا۔نہ کسی نے حیرت اور رنج وغم کااظہار کیا ،ہاں ایک دو چینلوں نے گرفتاری کے طریقہ کار پر ضرورسوال اٹھایا۔ہمیں ویسے بھی کسی بھی صحافی کی گرفتاری کی مخالفت کرنا چاہئیے،لیکن ہم صحافی کی شکل میں کسی بھی پارٹی کے ترجمان بن جانے والے شخص کے حامی نہیں ہیں۔ ارنب گوسوامی ہی نہیں ایسے صحافیوں کی فوج بن چکی ہے۔جنہوں نے صحافت کے اصولوں اور قدروں کی دھجیاں اڑادی ہیں۔اس معاملے میں متعدد سیاسی،سماجی اور صحافیوں کی تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔لیکن اس میں بی جے پی صف میں سب سے آگے ہے ،کیونکہ ارنب کو ٹی وی پر دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک پارٹی کے ترجمان بن چکے ہیں۔ ویسے بھی سبھی جانتے ہیں کہ انہیں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے پولیس نے گرفتار نہیں کیا ہے بلکہ وہ کہانی ہی دوسری ہے۔ایک بات اور انہوں نےریہا چکرورتی کے لیے تین مہینے سے زیادہ عرصے تک جو گڑھا کھودا تھا ،خود اسی میں گر گئے ہیں اور اب کوئی پرسان حال نہیں ہے۔بامبے ہائی کورٹ نے بھی عبوری راحت نہیں دی ہے،یہ کہانی 2018 میں پیش آنے والی خودکشی کے ایک معاملہ سے جڑی ہے ،تب بی جے پی کی دیویندرفڑنویس حکومت نے کیس کی فائل بند کردی تھی،اب خودکشی کرنے والے انٹیرئر ڈیزائنر انوئے نائیک کے اہل خانہ کی درخواست پر فائل دوبارہ کھولی گئی ہے جنہوں نے اپنی ماں کے ساتھ خودکشی کرلی تھی یا انہیں مجبور کیا گیا تھا ،جیسا کہ الزام عائد کیا گیا ہے اور ارنب کی گرفتار ی ممکن ہوئی ہے۔دراصل ارنب نے انوئے نائیک کی کمپنی کانکارڈ ڈیزائن پرائیوٹ لمیٹیڈ سے اپنانیوز اسٹوڈیو ڈیزائین کرایا تھا ،انوئے کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے۔ ارنب اور ان کے معاونین نے کام ختم ہونے کے بعد کمپنی کو پانچ کروڑ 40؍ لاکھ روپئے کی رقم ادانہیں کی ۔اس رقم کی وصولی کے لیے انوئے نائیک نے ہر ممکن کوشش کی ،لیکن ارنب نے انہیں دھمکانے کے لیے سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کیا،اس وقت بی جے پی کی حکومت تھی ،اور انہوں نے اس کا بھی فائیدہ اٹھایا ہوگا۔اس دور میں وہ بچ گئے۔انوئے نائیک نے ان کے باربار انکار سے تنگ آکربالآخر 5 مئی 2018ء کو اپنی ماں کے ساتھ خودکشی کر لی۔ انہوں نے اس خودکشی کے تعلق سے ایک ‘سوسائڈنوٹ ‘ چھوڑاتھا،انہوں نے نوٹ میں اپنی خودکشی کا ذمہ دار ارنب گوسوامی اور ان کے دو دوست یا معاونین کوبتایاتھا،لیکن بھلا ہو مہاراشٹر کی فڑنویس کی قیادت میں بی جے پی حکومت کا انہوں نےارنب گوسوامی کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہونے دی بلکہ پولیس کو تفتیش آگے بڑھانے سے روک دیا۔ فیملی نے نائیک کوانصاف دلانے کے لئے تگ ودود کی مگر کسی نے ان کا حال نہیں سنا ،نائیک کی بیوہ اکھیشیا نائیک اپنےمتوفی شوہر اور ساس کو انصاف دلانے کے لیے کوشش کرتی رہیں اور اس کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا ۔
 ارنب گوسوامی ان حالات سے واقف تھا اور انہوں نے بڑی ہوشیاری سے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو اپنی اچھل کود کی حرکتوں کے ساتھ ایک ناٹک بنادیا،اس طرح وہ اپنے جرم کو چھپا نے کے لئے کسی کو بھی بخشنا نہیں چاہتے تھے اور ارنب نے پوری فلمی دنیا کو چرسی اور منشیات کا عادی قرار دے دیا۔ان کی مذکورہ مہم ناکام رہی ۔ پھر ریا چکرورتی کو نشانہ بنایا اور اب انہوں نے عدالت میں ارنب کو چیلنج کیا ہے بلکہ عدالت نے ریاکوضمانت دیتے ہوئے کہاکہ ریا چکرورتی ‘سرغنہ’نہیں ہیں اور پولیس کے نارکوٹکس بیورو کی کارروائی پر برہمی ظاہر کی ہے۔
۔ دراصل وہ کسی کے اشارے پر سوشانت کی موت کو قتل قراردیتے رہے اور بڑی ہوشیاری سے اس کام کو شروع کردیا۔ مرکزی سرکار اور بہار کی حکومت نے میڈیا کی مدد سے چلائی جا رہی اس پوری مہم میں اپنی طاقت جھونک دی اور مرکزی حکومت نے ایک کے بعد ایک تین ایجنسیوں کومیدان میں اتار دیا۔ پہلےای ڈی اورپھر سر پٹ کررہ گئے لیکن کچھ نہیں ملا ، یہاں تک کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تفتیش کی تفصیل کے بعد ایمس نے خودکشی کی رپورٹ کی توثیق کردی ہے، لیکن شاید سی بی آئی سچائی کو کسی کے اشارے پر دبائے ہوئے ہے۔ارنب کو اس کی بھنک لگ گئی تھی کہ اعلی جانچ ایجنسی نے خودکشی پر ہی اپنا فیصلہ دینا ہے ،اس لیے جان بوجھ اس معاملے میں ان کا چینل سنسی خیز رپورٹس پیش کرنے لگا۔ایک ارنب کی گرفتاری پر بی جے پی اور مرکزی حکومت کو ایمرجنسی کا یاد آرہاہے۔ بیچارے اتر پردیش کے وزیراعلی ارنب کے لیے تڑپ۔گئے موصوف کو پتہ۔ہونا چاہئیے کہ ہاتھرس میں عصمت دری کے واقعی کی رپورٹنگ کرنے جارہے چند افراد کو گرفتار کیا گیا ،ان میں کیرالا کاایک صحافی بھی شامل تھا۔ صحافیوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور اظہار آزادی کی دہائی دینے والی بی جے پی لیڈرشپ منوررانا نامی ضعیف شاعر ودانشور یاد نہیں رہے جن کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔
آج نیوز چینلوں کے اینکروں کی زبان وبیان اور ان کی باڈی لینگویج اور خبرپیش کرنے کا اسٹائل دیکھ کر سر پٹنے کا دل چاہتا ہے۔جو پرکسی کی اوقات پوچھنے لگ جاتے ہیں۔ملک کے لوگوں اور خصوصی طورپرہندومسلم کے درمیان تفرقہ پھیلانے کی جیسے انہوں نے ‘سپاری’ لے لی ہے۔صحافت کی تربیت کے دوران یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ دو فرقوں یا الگ الگ مذہب کے ماننے والوں کا کا گروہ اور مذہب ظاہر نہیں کیا جائے مگر یہ آزاد صحافت اور تحقیقاتی صحافت کی باتیں کرنے والے صحافت کے اصولوں اور اقدار کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ان میں ایک ارنب گوسوامی جیسا صحافی بھی شامل ہے جو غرور اور گھمنڈ میں پاگل ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا،لیکن مہاراشٹر پولیس کی کارروائی نے اس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے ہیں اور اگر
ہوش کے ناخن نہیں لیا توجلد ہی ہوش ٹھکانے لگ سکتے ہیں۔
Article on Arnab Goswami by javed jamaluddin
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here