لو جہاد” اس جرم الفت کی سزا اتنی سخت؟فتنہ پسندوں کی سیاست کم نہیں ہوتی

0
85
لو جہاد
لو جہاد" اس جرم الفت کی سزا اتنی سخت؟فتنہ پسندوں کی سیاست کم نہیں ہوتی

یہاں فتنہ پسندوں کی سیاست کم نہیں ہوتی

آج تک سنتے آئے تھے عشق اندھا ہوتا ہے ۔ جب عشق ہوتا ہے تو اونچ نیچ ، ذات برادری، مذہب قبائل، عمر رنگ کچھ نظر نہیں آتا ۔ بنا سوچے سمجھے اپنے محبوب کا ہاتھ تھام لیتا ہے ۔ یہ عشق ہی تو ہے جو بھگوان شری کرشن کا نام ان کی اہلیہ رکمنی کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی محبوبہ رادھا کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ میرا بائ کرشن کے عشق میں ایسی سرشار ہوئیں کہ لوک لاج ،عیش و عشرت ،زر زخیرہ سب پر ٹھوکر مار کر شوہر کا گھر چھوڑ مندر میں جا پڑیں اور اپنی ازدواجی زندگی کو خیراباد کہ کر تاحیات کرشن پریم کے گیت گاتی رہیں ،اس عشق کی خاطر نہ معلوم کتنے ہی راجا مہاراجا اور بادشاہوں نے اپنی سلطنتیں داؤ پر لگا دیں “یہ عشق نہیں آساں اک آگ کا دریا ہے” محبت صدیوں سے ہوتی آئ ہے اور آج بھی ہوتی ہے محبت زبردستی کا سودا نہیں یہ دو ذہنوں کی ہم آہنگی اور دو دلوں کی قربت کا نتیجہ ہے جب دو دل مل جاتے ہیں تو انہیں مذہب کا کوئ خیال نہیں رہتا نہ سماج کی پرواہ ہوتی ہے ۔ اور نہ اپنے اہل خانہ کے روکے رکتے ہیں ، یہ پرانی کہاوت ہے” جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ” اور اس بات کو صاحب ارباب کے قدآور لیڈران سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے، محبت کرنا کوئ جرم تھوڑی ہے ۔ لیکن عہد حاضر میں ایک نئے جرم کی ایجاد ہوئ ہے “لو جہاد” اس جرم الفت کی سزا بھی اتنی سخت رکھی گئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے صاحب ارباب کی نظر میں اس سے بڑا جرم ہے ہی نہیں۔ جی صاحب ! یہ فرقہ پرستی ،معصوم کلیوں کی آبرو ریزی ، بے گناہ افراد کی موب لنچنگ یہ بھی کوئی جرم ہیں بھلا ؟ ہاں محبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے وہ بھی اگر مسلمان لڑکے سے ہو جائے اس کی تو سخت سے سخت سزا ہونی ہی چاہیے ۔ 2014 سے ملک میں مسلمانوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے ان پر طرح طرح کے بہتان لگاےجا رہے ہیں اینٹی نیشنل گوکش وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت “لو جہاد” کو سر فہرست رکھا گیا ہے اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں لگاتار جاری ہیں مسلمان جہادی ہے ،اسلام ایسا مذہب ہے جو اپنے پیروں کو خونریزی کی تعلیم دیتا ہے ، مسلمان لڑکے زبردستی ان کی بیٹیوں کو جال میں پھنسا کر شادی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اگر اس بہتان میں کچھ حقیقت ہوتی تو اسے اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروان اسلام کی شمشیر خارا شگاف نے کرہ زمین میں ایک تہلکا برپا کر دیا تھا اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خونریز تعلیم کا نتیجہ ہوں مگر یہ بات قابلِ غور ہےاس لفظ ‘لو جہاد’ کی پیدائش گزشتہ کچھ سالوں سے ہی عمل میں آئی جب اسلام کی تلوار زنگ کھا چکی ہے ملک میں مسلمان ہر طرف تشدد اور زبوں حالی کا شکار ہیں قدم قدم پر مسلمان جیالوں کا استحصال ہو رہا ہے کہیں گاے کے گوشت کے نام پر اخلاق جیسے نوجوان اجتماعی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے ،کہیں داڑھی والے کو ٹرین سے پھینک دیا جاتا ہے ۔ شہریت ترمیمی قانون کے نام پر مسلمانوں کو گھر سے بے گھر کرنے کی سازش،اور احتجاج کرنے والوں پر ظلم و تشدد کی کتنی ہی داستانیں سامنے آتی ہیں کہیں 70 برس کے مولانا کو برہنہ کرکے پیٹا جاتا ہے تو کہیں معصوم طلباء کو سردی کی کڑکڑاتی رات میں کھڑا رکھا جاتا ہے ،کرونا وباء کا قہر اور لاک ڈاؤن ۔ جب ساری دنیا اس وباء سے پریشان تھی ہزاروں کی تعداد میں روز اموات ہو رہی تھیں اس وقت بھی سیاست مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھی۔ اس وقت ایک اور جہاد کا جنم ہوا ‘کرونا جہاد’ ،تبلیغی جماعت کو کرونا جہادی کہ کر بدنام کیا گیا ان پر طرح طرح کی الزام تراشی کی گئی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرکے معاشرے کو زہر آلود کر دیا گیا ۔ وہ تو شکر ہے لاک ڈاؤن کا کہ لوگ گھروں میں قید تھے ورنہ نہ معلوم کتنے ہی گھر اس نفرت کی آگ میں جھلس جاتے لیکن بیچارے سبزی فروشوں کو اس کا بھر پور خمیازہ اٹھانا پڑا ، اب یہ نیا شوشہ “لو جہاد ” کا چھڑ گیا ۔ ریاست میں غیر قانونی تبدیلی مذہب آرڈینینس نافذ ہو گیا ہے ۔آرڈینیشن کے نفاذ کے بعد پولس نے بین المذاہب شادیوں کے خلاف ایک طرح سے مہم شروع کر دی ہے گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی شادی پولس نے روک دی تھی جب کہ یہ شادی لڑکے اور لڑکی دونوں کے اہل خانہ کی مرضی سے ہو رہی تھی اب ضلع مئو میں ایک بین مزہبی شادی کے معاملے کو اغوا کرکے جبراً شادی کرنے اور مبینہ ‘لو جہاد ‘کا رنگ دیکر پولس نے درجن سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے
اس قانون کی آڑ میں مسلمانوں پر تشدد کے ایک اور باب میں اضافہ ہو گیا ہے یہ بھی تو ممکن ہے بھولے بھالے لڑکوں کو لڑکیاں اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر پھر ان پر الزام عائد کر دیں ۔تمام عالم میں کوئ ملک کوئ مزہب کوئ فرقہ ایسا نہیں ہے جہاں بین مذاہب شادیاں نہ ہوئ ہوں اور ہندستان میں بھی صدیوں سے ہوتی آئ ہیں لیکن اب یہ محبت ‘لو جہاد ہو ‘گئ جب اندرا گاندھی نے والد کی مرضی کے خلاف پارسی مذہب کے فیروز گاندھی سے شادی کی تھی وہ کون سی جہادی تنظیم سے منسلک تھے ، بی جے پی کے قدآور لیڈر مختار عباس نقوی نے ہندو لڑکی سے شادی اب سے 26 سال پہلے کی تھی ۔ شاہنواز حسین اور رینو حسین کی محبت کی مثال آج بھی سامنے ہے ،سچن پائلیٹ نے سارا علی خان سے کس جہاد کے تحت شادی کی تھی۔ یہ سب شادیاں کسی جہاد کے تحت نہیں بلکہ محبت کے پاک جزبہ کی وجہ سے عمل میں آئیں اور عشق کی مثال بن گئیں ، قانون بین مزہب شادی کے خلاف نہیں بلکہ قانون دھوکے بازی کے خلاف ہونا چاہیئے خواہ دھوکا دینے والا شخص کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ۔دھوکا دے کر اپنی پہچان چھپا کر شادی کرنے کی اجازت کوئ مزہب نہیں دیتا مزہب اسلام میں تو اپنے مذہب میں شادی کرنے پر بھی لڑکی سے دو گواہوں کے سامنے تین مرتبہ اجازت لی جاتی ہے ہر مذہب میں بالغ لڑکے لڑکیوں کو اہل خانہ کی ۔مداخلت کے خلاف اپنی مرضی سے شادی کرنے کا پورا اختیار ہےاور ہندوستانی آئین بھی اس کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن صاحب اقتدار مسلسل فرقہ پرستی کا بیج بوکر نفرت کی کھیتی کر رہے ہیں ۔ اور انتخابات کے وقت اس فصل کو کاٹ لیتے ہیں ۔مسلم خواتین کے حقوق کے لیے فکر مند ہونے کا ڈرامہ کرنے والے آج اپنی ہی بیٹیوں کے حقوق کی پامالی پر تلے ہیں ۔شادی بیاہ کے فیصلے یک طرفہ کبھی نہیں ہوتے اس میں دونوں کی رضامندی لازمی ہے ۔ آپ نے مسلم لڑکوں کے لیے تو قانون نافذ کر دیا لیکن ان بیٹیوں کے لیے کیا اقدام اٹھائے جو ہندو مذہب کےلڑکوں سے دھوکے کا شکار ہوتی ہیں۔ یا دوسری ذات کے لڑکے سے عشق کر بیٹھتی ہیں ۔ کیا ایک برہمن کی بیٹی کا ہاتھ اس کے والدین خوشی خوشی کسی دلت کے بیٹے کے ہاتھ میں دینا پسند کرتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں نہ معلوم کتنی ہی بیٹیاں اپنوں کے تشدد کا شکار ہوتی رہی ہیں ،کتنی ہی معصوم کلیاں درندوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ان زنا کاریوں کے لیے ایسا کون سا قانون نافذ ہوا ؟کہ ان کے اہل خانہ کی شکایت پر ہی سزا ہو جائے یہ صرف اور صرف اقتدار میں بنے رہنے کی مہم کا حصہ ہےـ

کبھی ہندوتوا کا نعرہ کبھی ہندوستان میرا
یہ ایسے لوگ ہیں جن کی شرارت کم نہیں ہوتی
کبھی دیرو ہرم گونجے کبھی گائے

پہ چرچا ہو
یہاں فتنہ پسندوں کی سیاست کم نہیں ہوتی

 

عارفہ مسعود عنبر

Article by Arfa Masood Ambar on love Jihad

Sada Today Web Portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here