Home زبان و ادب ادبی شخصیات ڈاکٹر کفیل اورغیر ملکی تبلیغی کی رہائی۔قانون وعدلیہ کی بالادستی برقراررہے

ڈاکٹر کفیل اورغیر ملکی تبلیغی کی رہائی۔قانون وعدلیہ کی بالادستی برقراررہے

0
99
ڈاکٹر کفیل اورغیر ملکی تبلیغی کی رہائی۔قانون وعدلیہ کی بالادستی برقراررہے
ڈاکٹر کفیل اورغیر ملکی تبلیغی کی رہائی۔قانون وعدلیہ کی بالادستی برقراررہے

ملک میں اور خصوصی طور پربی جے پی کے اقتدار والی ریاست اترپردیش میں حق وانصاف کی آواز بلند کرنے والے عام آدمی کا جینا دوبھرکر کے رکھ دیاگیا ہے، یہاں دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں کہ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں تاناشاہی کا دوردورہ ہے،انتظامیہ اور پولیس جیسے ایک اسکرپٹ پر کام کرتے نظر آتے ہیں،حال کے عرصہ میں عدلیہ کے چند ایک فیصلوں نے بھی طرح طرح کی قیاس آرائیوں کو جنم دیاتھا، لیکن ان  دنوں ملک کی مختلف ریاستوں کی عدالتوں کے فیصلوں نے ہندوستان میں قانون وانصاف اور عدلیہ کی بالادستی کو مزید مستحکم کردیاہے۔البتہ چند معاملات میں جو فیصلے سامنے آئے وہ تسلیم تو کرلیے گئے ہیں مگر ان میں قانون وانصاف کی جانب توجہ نہیں دی گئی ہے جس کی عام شکایت ہے،بلکہ جلدی بازی میں عقیدہ کی بنیاد پر لئے  گئے فیصلہ  کہا جاسکتا ہے ۔حال کے دو فیصلوں کی وجہ سے یہ  ثابت ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں عدالتیں اور ججوں کی اکثریت ہرحال میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

مذکورہ دوفیصلے ایسے ہوئے ہیں کہ انہیں مثال بنایا جاسکتا ہے ،ان میں بھی آلہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ڈاکٹر کفیل کے معاملہ میں دیئے گئے فیصلہ کا ذکر ہم مفصل طور پر کریں گے ،جبکہ بمبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بینچ کے ایک فیصلہ بھی قابل ستائش ہے کہ عدالت نے غیر ملکی تبلیغی جماعت کے ارکان کی رہائی کے لیے سنایا ہے ،وہ عرصہ تک یاد رکھا جائے گا ،انہوں نے ان افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائی اور ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا ،افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے اس معاملے میں زیادہ ہی پھرتی دکھائی ، مذکورہ فیصلے کاعرصہ تک اثر ہونے کا امکان ہے۔اس موقع پر تبلیغی تبلیغی کا شور برپا کرنے  والے ذرائع ابلاغ کی پُر اسرار خاموشی اُن کی بد نیتی کو ثابت کرتی ہے۔یہی نہیں ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا فیصلہ اور قومی سلامتی قانون (این ایس اے ) کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو یہ محسوس ہوگاکہ یہ  معاملہ کیونکہ ایک ایسے انسان کو جو انسانی اور وہ بھی معصوم بچوں کی زندگی بچانے کے لیے سرگرم رہا ہواور جان کی بازی لگا چکا ہے،اسے اپنی کمی اور خامیوں کو چھپانے کے لیے مختلف الزامات اور بہانوں سے  جیل میں ٹھونس دیا گیا اور پھر مزید دوسودنوں کے لیے دوبارہ قید و بند کی صورتیں جھیلنا پڑی ہیں۔ڈاکٹر کفیل اور اس کے اہل خانہ کی باتوں اور آنکھوں سے خوف اور دہشت جھلکتا صاف نظر آتا ہے۔
حالانکہ یوگی اور مودی حکومت سے لوہا لینے والے ڈاکٹر کفیل خان قابل مبارکباد ہیں ،لیکن ڈاکٹر خان اوران کے اہل خانہ اس حد تک ڈرے وسہمے ہوئے ہیں کہ ان  کو پڑوسی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔  اس بارے میں ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ شبستان جب اس سلسلہ میں ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنا درد پیش کرتی ہیں تو انتہائی جذباتی ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے جوکچھ بتایا ،اس کی وجہ سے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ شبستان خان بڑے دردمندانہ انداز میں اپیل کرتی رہی ہیں اور اب ان کا خاندان چین وسکون کے لیے جے پور پہنچ گیا ہے۔ان کے الفاظ میں ” میرے شوہرکی رہائی  کے بعد ہم فوراجے پور  آ گئے ہیں اور یہاں  کافی محفوظ محسوس ہو رہا ہے ،میں اپنے شوہر اور بچوں کو لے کر گورکھپور جانے سے خوفزدہ ہوں، کیونکہ عدالتی فیصلے ںکے باوجود  یوگی حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائی کا ڈر ہے ساتھ ہی یہ خوف بھی برقرار ہے کہ یوگی حکومت کفیل کا انکاؤنٹر نہ کردے۔ہم میں سے اب کوئی بھی اترپردیش نہیں جانا چاہتا ہے،ہمیں قانون پر بھر پور اعتماد ہے ،لیکن گزشتہ تین سال میں جوکچھ ان کے شوہر کے ساتھ پیش آیا ہے ،اس نے ان کے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔مستقبل کا لائحہ عمل ذہنی وروحانی سکون کے بعد ہی تیار کیا جائے گا۔”
ہندوستان میں عدلیہ کو ایک ایسی دیوی کی مورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ،جس کی دونوں آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے اور یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ قانون وعدلیہ کے سامنے سب برابر ہیں اور یہاں کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جاتا ہے،جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ ملک کی عدالتوں کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جاچکے ہیں ،بابری مسجد کی قطعہ اراضی کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ایک فریق کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے فیصلہ ضرور سنایا ہے ،لیکن انصاف نہیں کیا بلکہ اس کے فیصلہ پر عقیدہ یا آستھا بھاری رہی ہے۔لیکن اسی درمیان جب امید،یقین اور اعتماد کمزور پڑرہاتھاکہ  بمبئی ہائی کورٹ اورنگ آباد بینچ نے تبلیغی جماعت کے غیر ملکی سمیت سبھی ممبران کے تعلق سے جو احکامات دیئے اس انصاف کی سربلندی اور قانون کی بالادستی کو اجاگر کر دیااور عوام کو واضح پیغام دیا کہ حق وانصاف کو کبھی نیچا نہیں دکھایا جاسکتا ہے ،وقتی بحران کے بعد سچائی سامنے آہی جاتی ہے۔ناامیدی کے دور میں امید کی دوسری کرن ڈاکٹر کفیل کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ سے پھوٹ پڑی ہے۔جس نے حوصلوں کو بلند کر دیا ہے اور اس فیصلے کے بعد محسوس ہوتا ہے انصاف کی اس دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی نے  حق ادا کر دیاہے کہ عدلیہ کی آزادی ہمارے آئین کے بنیادی خصوصیات میں سے ایک اہم جز ہے اور  کئی مواقع ایسے آتے ہیں کہ سیاسی تسلط  سے پاک رہتی ہے۔یہ ایک ساز گار ماحول بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔عدلیہ کی کارروائی نے ارباب اقتدار کو ایک واضح اور ٹھوس پیغام دے دیا ہے کہ عدل وانصاف کے ساتھ ساتھ شخصی  آزادی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ قانونی محکمہ کو صحت مند رکھنے کے لئے پوری کوشش کی جائے ۔
ڈاکٹر کفیل احمد خان  کے خلاف انتقامی جذبہ نے اترپردیش کو ایک حد تک نیچے گرا دیا ہے اور اس کی امیج کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
 ڈاکٹر کفیل کی جس تقریر کے سبب ان کے خلاف این ایس اے استعمال کیا گیا ہے ،اس کے بارے خوش قسمتی سے  عدالت نے  کہا کہ مذکورہ تقریر میں ایسی کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے،جس سے ثابت ہوسکے کہ انہوں نے اشتعال انگیز ی کی ہے۔ڈاکٹر کفیل کی جان کی دشمن اترپردیش کی پولیس اشتعال انگیزی کرنے والے حکمراں جماعت کے ایم ایل اے کے بارے کہتی ہے کہ۔کوئی شکایت نہیں کرائی گئی ہے ،لیکن ڈاکٹر کفیل کے معاملے میں یہ کوشش کی جاتی رہی کہ وہ جیل سے باہر نہ آسکیں اور بڑی بے دردی سے حق وانصاف کا گلا گھونٹ دیاجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جلدبازی کی کارروائی اور گرفتاری کو عدالت نےپوری طرح سے غیر آئینی بتایا اس سے عدلیہ کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی ثابت ہوچکی ہے۔لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اترپردیش جیسی کاسموپولیٹن ریاست کی فضاء کے ماحول کو اتنا زہر آلود بنادیا گیا ہے کہ بقول شبستان خان عام مسلمان کو اب اپنی شناخت ظاہر کرنے میں ڈر محسوس ہوتا ہے ۔کیا ارباب اقتدار سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عام آدمی کا اعتماد بحال کریں گے اور صوبے کی گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ساتھ قانون وانصاف کی بالادستی کو
قائم رکھنے کی جانب توجہ دیں گے۔
  Javed Jamaluddin@gmail.com
article by Javed Jamaluddin on law and order in country
Sada Today web portal

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here