کویت میں ادبی پیش رفت : ایک جائزہ

0
60
اردو تحقیق اور تاریخ نویسی کے میدان میں جو صحرائی صورت حال ہے اس کے پیش نظر افروز عالم کی کتاب ـ’’کویت میں ادبی پیش رفت‘‘ موسم بہار کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوتی ہے۔ خود مصنف نے اسے تاریخ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی وہ کویت میں اردو کی صورت حال پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں
کویت میں ادبی پیش رفت : ایک جائزہ

 

 

 

ڈاکٹر زرنگار یاسمین ۔پٹنہ

اردو تحقیق اور تاریخ نویسی کے میدان میں جو صحرائی صورت حال ہے اس کے پیش نظر افروز عالم کی کتاب ـ’’کویت میں ادبی پیش رفت‘‘ موسم بہار کا ایک خوشگوار جھونکا محسوس ہوتی ہے۔ خود مصنف نے اسے تاریخ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قبل بھی وہ کویت میں اردو کی صورت حال پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں (۱) ۔ بظاہر موجودہ کتاب میں مختلف طرح کی تحریر یں شریک اشاعت ہیں۔ کچھ محفلوں کی روداد ہے کچھ شخصیتوں کا تعارف ہے اور کچھ معروف شخصیتوں کا ازسرنو جائزہ ہے۔ کویت کے کچھ ادباء و شعراء کی تفصیلات کا تذکرہ بھی ہے اور کتابوں کی فہرست سازی بھی ۔ کویت میں رہنے والے ادیبوں اور شاعروں نے اردو کی اہم ادبی شخصیتوں پر تاثراتی یا تنقیدی نوعیت کے جو مقالات لکھے ہیں وہ بھی شریک اشاعت ہیں۔ کتاب میں کچھ مضامین خود افروز صاحب کے زور قلم کا نتیجہ ہیں اور کچھ دوسروں کے لکھے ہوئے ہیں مگر مجموعی طور سے مرکز و محور کویت کی ادبی سرگرمیاں ہیں۔ آخر میں چند خوب صورت پروگراموں اور شخصیتوں کی تصویر ؎یں بھی کتا ب کی دیدہ زیبی میں اضافہ کرتی ہیں۔گویا ستاروں کا ایک سلسلہ ہے جو نظام شمسی کے تحت گردش میں ہے۔
بظاہر اس طرح کے ادبی کام کرنا بے حد آسان معلوم ہوتا ہے مگر غور کیجئے تویہ ایک دشوار گذار مرحلہ ہے۔ اپنے بے حد مشغول شب و روز میں سے وقت نکال کر کویت میں اردو افسانہ نگاری یا شاعری کے ابتدائی عہد کو تلاش کرنا ،پھر تجزیہ و تحلیل کی روشنی میں اس علاقے کے پہلے افسانہ نگار ، ناول نگار، خاکہ نویس وغیرہ کا تعین کرنا مشکل ہے۔ بغیر انہماک اور موضوع سے دلچسپی کے یہ کام محال ہی کہا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی یہ تاریخ اب پچاس سال سے زیادہ پرانی ہو چکی ہے اور اس کو ضابطہ تحریر میں لانا ضروری تھا ورنہ مختلف شواہد کے ضائع ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس لئے افروز عالم کی بروقت کاوش ہر اعتبار سے لائق ستائش ہے۔(۲)
سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی ادبی کاوشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے چند بنیادی باتیں مبّصر کی نگاہ میں رہیں تو نتائج تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ جن لوگوں نے کسی ادبی موضوع پر قلم اٹھایا ہے وہ پہلی سطح پر اردو زبان و ادب سے نہیں بلکہ کسی نہ کسی کاروبار یا ملازمت سے وابستہ ہیں اور تلاش رزق میں ترک وطن کرکے کویت میں مقیم ہوئے ہیں۔دوسری بات یہ کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ملکوں سے بھی یہاں آئے ہیں اور ان میں سے بعض لوگوں کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ ان میں سے اکثر لوگ ادبی تاریخ نویسی یا تنقید نگاری کے اصولوں سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ اپنے مطالعے کی بدولت وہ کسی ایک یا تمام ادبی تحریکات سے آشنا ہوں مگر شاید کسی ایک ادبی نظریے سے وا بستہ نہیں رہے ہیں۔ خود افروز عالم صاحب کی شخصیت پہ نگاہ ڈالئے تو “اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی” جیسا منظر نامہ سامنے آتا ہے۔ موصوف سائنس ، کمپیوٹر اور تجارت کی دنیا کے آدمی ہیں۔ تلاش رزق میں ہندوستان کے ایک دوردراز علاقے سے خلیج کے ممالک میں آئے ہیں۔ مشام جاں کو معّطر کرنے والے کاروبار سے وا بستہ رہے ہیں اور پوری دنیا کو بازار ہستی سمجھ کر کوچہ گردی میں مصروف رہتے ہیں مگر اردو کی محبت ساتھ نہیں چھوڑتی ۔ ایسے ہی اور بھی لوگ ہیں جن کی چند امتیازی خصوصیات کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا مگر لطف یہ ہے کہ اپنی اپنی مختلف النوع مشغولیتوں کے باوجود وہ لیلائے اردو کی محبت میں گرفتار ہیں۔ ان سے افروز عالم صاحب نے اکثر معاصرین اور بعض بزرگ ادیبوں پر مقالے لکھوائے ہیں اور قابل ذکر امر یہ ہے کہ اکثرلکھنے والوں پر بھی دوسروں کو اظہار خیال کی دعوت دی ہے بلکہ جن اہل قلم پر دوسرے قلم کاروں سے مضامین کسی سبب سے نہیں لکھوا سکے ان کا بھی تعارف پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے میمونہ علی چوگلے کے دو مضامین ’’سکندر علی وجد‘‘اور’’ فانی نہیں جاودانی ہیں ہم‘‘ شریک کتاب کئے ہیں اور اس سے قبل خود میمونہ علی چوگلے کا تعارف کرانے کے بعد ان پر صابر عمر گالسولکر سے ایک مضمون لکھوایا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا جن لوگوں پر وہ مضامین نہیں لکھوا پائے ان کا کم از کم مختصرسوانحی خاکہ ضرور پیش کیا ہے مثلاً اسلم عمادی، حاجی اشفاق حسین جعفری، رانا اعجاز حسین، پروفیسر تسلیم اکبر شاہ ، زیبا صدیقی، شاہین رضوی، مسعودحساس وغیرہ۔یہ کام بھی آسان نہیں ہے کیونکہ ادبی شخصیتوں کے سوانحی حالات آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔ بہرحال ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ زاہدہ حنا کا ایک خوب صورت مضمون ؍ خاکہ شائع کرنے کے باوجود انہوں نے تعارف شاہد حنائی کا کیوں شائع کیا؟ (۳)
عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ خلیج میں رہنے والے اردو کے فنکار صرف شاعری کے گیسو سنوار رہے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ کم و بیش سبھی اصناف ادب پہ یہاں طبع آزمائی ہو رہی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں خاص طور پر ہند و پاک سے یہاں آنے والے اپنی اپنی ادبی ترجیحات بھی ساتھ لے کر آئے اور یہاں ان ترجیحات کی آب یاری میں مصروف رہے۔ اب یہی دیکھئے کہ خود افروز عالم شاعر کی حیثیت سے دنیا بھر میں مشہور ہیںمگر وہ نثرنگار بھی ہیں اور اردو زبان و ادب کے تحریک کار بھی ۔ اس لئے اپنی اس کتاب کوافروز عالم صاحب نے بجا طور پر مختلف ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ’’مضامین ‘‘ کے تحت شاعروں اور نثر نگاروں دونوں کا جائزہ ہے۔ ’’افسانے‘‘ کے عنوان سے جو باب ہے اس میں متن بھی ہے اور اس پر تبصرہ بھی ۔ مثال کے طور پر زیبا صدیقی یا شاہین رضوی کے دو دو افسانے ہیں اور ان دونوں کا تعارف بھی ہے جب کہ پہلے حصے میں ان کی افسانہ نگاری کا تذکرہ موجود ہے۔ اس طرح کویت میں اردو افسانے کے دوسرے اہم نام بھی ہیں جن کی تخلیقات مع تعارف شریک اشاعت ہیں۔ ایک باب ’’کالم‘‘ کا بھی ہے جو حیرت انگیز ہے کیونکہ ہمارے یہاں کالم نویسی کو ابھی تک ادبی صحافت کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ بہر حال یہ پیش کش بھی قابل تعریف ہے لیکن ’’خاکہ نگاری‘‘ کے زمرے میں صرف ایک خاکے کی شمولیت اس صنف سے ہماری عام بے اعتنائی کا اشاریہ ہے جو افسوس ناک ہے(۴)۔ ’’مزاح‘‘ کا باب بھی مختصر ہے جس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی(۵)۔ آخر میں ’’رفتگان کویت‘‘ کے زیر عنوان ایسے لوگوں کا تذکرہ ہے جو کویت میں ایک عرصے تک رہے اور شعر و ادب سے وابستہ بھی رہے مگر واپس لوٹ گئے۔ ویسے تو افروز عالم صاحب کی محنت ابتداء سے آخر تک آشکار ہے مگر آخری باب کے اشاریے ترتیب دینے میں انہیں جن مرحلوں سے گزرنا ہوا ہوگا انہیں اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے جس طرح تصنیفات تک رسائی حاصل کی پھر مختلف مصنفین کے لکھے ہوئے اور ان سے متعلق لکھے گئے مضامین تلاش کئے اس کے لئے وہ پوری طرح انعام و اکرام کے مستحق ہیں اور اردو کے اہم اداروں کو ان کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

مجموعی طور پر ’’کویت میں ادبی ؛پیش رفت‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جس کے مطالعہ سے افروز عالم کی ان تھک محنت اور غیر مشروط ادبی وابستگی کے علاوہ اور بھی کئی اہم باتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔اوّل تو یہ کہ کویت میں مختلف سطحوں پر کم از کم اب تک اردو زبان و ادب کے لیے ایک سازگار ماحول قائم ہے اور ہندوپاک کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے وہاں بسنے والے اردوداں حضرات اپنی تہذیبی شناخت سے الگ نہیں ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ سرکاری یانیم سرکاری سطح پر اردو زبان و ادب کے خلاف کوئی تعصب یا طرف داری یہاں نہیں ہے۔ لیکن اردو کے ہمدرد اپنی سطح پر خود اپنے ہی وسائل سے ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویسے کویت ریڈیو سے اردو کے پروگرام ہوتے ہیں اور اردو کے رسالے یا اخبارات بھی وقتاً فوقتاً منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ یہ صورت حال حوصلہ خیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو زبان و ادب کے فروغ کو سرکاری سرپرستی کا محتاج سمجھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ بجا طور پر افروز عالم صاحب کی یہ کاوش وہ نوشتۂ دیوار ہے جسے پڑھ کر دوسرے خلیجی ممالک یا دیگر مغربی ممالکوں میں رہنے والے اردو دوست اپنے اپنے علاقوں کی ادبی تاریخ مرتب کر سکتے ہیں۔ حالانکہ اس کتاب کی بھر پور پذیرائی ہوئی ہے مگر مزید ہونی چاہئے۔

صدر شعبہ اردو، پٹنہ کالج۔ پٹنہ
Email:-zarnigaryasmeen@gmail.com

محترمہ ڈاکٹر زر نگار صاحبہ
آداب
اللہ آپ کو مسلسل صحت مند رکھے۔ ۔۔۔ تندرستی ہزار نعمت ہے، لیکن اس کو “کروڑ” ہونے سے بچایئے گا۔ ۔۔۔۔ امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے۔میری کتاب” کویت میں ادبی پیش رفتــ” پر آپ کا تبصرہ ای میل کے ذریہ این پیج فائیل موصول ہوا ، اول تو میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری کتاب کا بغور مطالعہ کیا اور اس لائق سمجھا کہ اس پر تبصرہ کرنا چائیے، اس عرق ریزی کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں۔ خاکسار آپ کو جتنا جانتا ہے اس میں یہ پایا ہے کہ آپ کے مزاج میں” تنقید ـ”ہے اس لئے آپ کا قلم قدرتی طور پر اس سمت میں چلت پھرت کا عادی ہے۔ مجھے مسرت ہوئی کہ آپ نے اپنے تبصرے میں بصیرت بھر ایمانداری سے چند سوال اٹھائے ہیں۔ انشاء اللہ ، ذیل میں جواب دینے کی کوشش کرونگا، امید ہے آپ مطمئین ہونگی۔

۱:۔ کویت کے حوالے سے اس سے پہلے میں نے کوئی کتاب تحریر نہیں کی بلکہ کویت کے شعرا کے متعلق “فصل تازہ” اور “کویت کے اہل قلم” نامی دوشعری مجموعے ترتیب دیا، جبکہ “تاریخ اردو ادب، کویت (۲۰۰۵) از سعید روشن ” ، ماہنامہ شاعر(،ممبئی)، ماہنامہ پرواز(لندن) اور سہ ماہی خیال وفن (دوحہ ۔ لاہور) کے کویت نمبر کی ترتیب و اشاعت میں پیش پیش رہا ، ساتھ ہی یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ روزنامہ کویت ٹائمز(اردو) میں کویت کی سئنیر ترین ادیبہ اور شاعرہ محترمہ مسرت جبیں زیبا کا ہفتہ وار کالم “کویت میں اردو ” کا مسلسل قاری بھی رہا۔ جس کی بدولت “کویت میں ادبی پیش رفت” کو مرتب کرنے کی تحریک ملی اور ا ٓسانی ہوئی۔

۲:۔ اس نقطے کو آپ نے بلکل صحیح محسوس کیا ہے، پردیس میں کسی کی رزق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔ پر لگا دیتا ہے رزاق ہر ایک دانے پر

۳:۔ نثر نگاروں کے حوالے سے جو باب ہے اس میں ہر نثر نگار کا کوائف کی شکل میں مختصر تعا ر وف اور اس کے بارے میں ایک مضمون اور اس کا لکھا ہوا دو نثر پارے شامل کئے گئے ہیں، لیکن محترم شاہد حنائی کا مواد کم ہے، اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف ایک ہی نثر پارہ جو کہ محترمہ زاہدہ حنا کا حاکہ ہے نثر کے طور پر اتنی تاخیر سے شامل کروایا ، کہ ان کے کوائف کے علاوہ ان پر مضمون لکھنے کا نہ تو میرے پاس وقت بچا تھا نہ تو ا تنی جلدی میں کوئی اور لکھ سکا، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شاہد صاحب کے بارے میں اس وقت تک ہلکی فلکی کوائف کے علاوہ معلو مات بھی بہت کم تھی۔ اس لئے اس باب میں صرف ان کا ادبی کوائف اور محترمہ زاہدہ حنا پر ان کا لکھا ہواخاکہ نمونے کے طور پر شامل کیا جا سکا۔ نیز کتاب کا فائنل پروف ریڈنیگ بھی شاہد حنائی صاحب نے کیا تھا۔

۴:۔ کویت میں اس وقت تک صرف محترم شاہد حنائی ہی ایک مستند خاکہ نگار تھے ، بعد میں راقم الحروف کے علادہ محترمہ شاہ جہاں جغفری حجاب اور عزیرم صابر عمر نے بھی اس صنف میں اپنے قلم آزمائے۔ واضع رہے کہ شاہد حنائی سن ۲۰۰۵ میں پاکستان سے کویت آئے تھے اور خاکہ نگاری میں وہ اپنی شناخت رکھتے تھے، تاہم موصوف نے کویت کی سر زمیں پر پہلا خاکہ “فروزا ں فروزاں عالم” کے عنوان سے افروز عالم پر ۲۰۰۵ میں لکھا جو کہ انہی دنوں کویت ٹائمز کے ادبی صفحہ کی زینت بنا۔ اس کے بعد شاہد صاحب نے کئی خاکے لکھے جو بعد میں “فروزا ں فروزاں عالم” کے نام سے شائع ہونے والی ان کی کتاب میں شامل ہوئے ۔ اس کے بعد سن ۲۰۱۰ میںمحترمہ شاہ جہاں جعفری نے اپنا پہلا خاکہ” چارج شیٹ بنام فروز عالم” سے خاکہ نگاری کی شروعات کی جبکہ عزیزی صابر عمر نے ۲۰۱۶ میں اپنا پہلا خاکہ “ایک گلنار جیون: افروز عالم” لکھ کر خاکہ نگاری کا آغاز کیا۔ راقم الحروف نے ۲۰۰۵ میں اپنا پہلا خاکہ “ہر دل عزیز : نور پرکار ” کے عنوان سے لکھا تھا جو کہ ماہنامہ پرواز(لندن) میں شائع ہوا تھا۔ وہ خاکہ کتاب ہذا میں بھی شا مل ہے۔

۵:۔ کویت میں نثری ادب کے حوالے سے خالد اکبر صاحب ہی اکلوتے مزاح نگار اقامہ پزیر ہوئے، نہ تو ان سے پہلے کوئی وہاں آیا تھا، نہ ان کے بعد کوئی آیا، البتہ کبھی کبھی شاہد حنائی صاحب اپنے کسی کسی خاکے اور مضمون میں مزاح کا رنگ بھرنے میں بہت کامیاب ہوئے، لیکن شاہد حنائی صاحب کی شناخت خاکہ نگار کی حیثیت سے ہے نہ کہ مزاح نگار کی حیثیت سے۔

امید ہے میری وضاحت سے آپ اتفاق کرینگی۔

دعا گو
افروز عالم، جدۃ .سعودی عرب

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here