کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ، خاکہ نگاری کے فن کی بہترین مثال

0
89
کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ، خاکہ نگاری کے فن کی بہترین مثال
کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی ، خاکہ نگاری کے فن کی بہترین مثال
لاک ڈاؤن میں جن شخصیات نے جم کر قلم کاری کی ان میں ایک نام ابن کنول صاحب کا بھی ہے “کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی” پروفیسر ابن کنول کے تحریر کردہ خاکوں پر مبنی کتاب ہے ۔ اس طرح کی کتابیں دوستی محبت اور بے لوث رشتوں کی بہترین مثال پیش کرتی ہیں ۔ خاکہ نگاری ایک حد تک لطیف مزاح سے تعلق رکھتی ہے جس شخصیت پر خاکہ لکھا گیا ہے اس کے عیوب اور اچھائیوں کو مزاحیہ پیراےء میں پیش کیا جاتا ہے یہ بہت نازک فن ہے اس میں خاکہ نگار کی قوت مشاہدہ، احساس تناسب ، ایمانداری اور مصورانہ مہارت کا امتحان ہوتا ہے ۔جس میں بلا شبہ خاکہ نگار کی شخصیت کا بھی اہم رول ہے ۔ ایک اچھا خاکہ وہی کہلایا جاتا ہے جس میں کسی انسان کے کردار اور افکار دونوں کی جھلک ہو خاکہ پڑھنے کے بعد اس کا مزاج سیرت فکر و نظر خوبیاں خامیاں اجاگر ہو جائیں اور ذہن پر نقش چھوڑ جائیں ۔ یہ خاکے ان تمام خصوصیات سے پر ہیں ۔ یہ کام وہی انجام دے سکتا ہے جس نے اس شخصیت کو قریب سے دیکھا ہو اور ایک طویل وقت تک اس کو جانا سمجھا پہچانا اور پرکھا ہو ۔ یہ خاکے ابن کنول صاحب کے اساتذہ ، دوست اور ان کی نظر میں قابل احترام شخصیات پر قلمبند ہیں ۔ اس کی سچائی کا دعوی کرتے ہوےء وہ یوں رقم طراز ہیں “ان خاکوں میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس میں ایک ایک لفظ سچ ہے – میرا مقصد اپنوں کو اپنی نظر سے دیکھ کر پیش کرنا تھا ، کسی کی تضحیک یا دل آزاری میرا مقصد نہیں ہے – میں رشتوں کو مجروح نہیں کرنا چاہتا ، رشتے جو خون کے نہیں ہوتے بڑی مشکل میں بنتے ہیں ۔ مجھے اپنے اساتذہ سے بھی عقیدت ہے اور مجھے اپنے دوست بھی عزیز ہیں ۔ اگر کہیں قلم سے لغزش ہو گئ ہو تو صمیم قلب سے معزرت خواہ ہوں “
میں نے تقریبآ یہ تمام خاکے پڑھے بھی اور پروفیسر صاحب کی آواز میں سنے بھی ۔ ان میں سے بیشتر ادبی دنیا کی معتبر اور معروف شخصیات ہیں ۔ ایک آخری خاکہ غیر معروف شخصیت پر ہوتے ہوئے بھی بہت اہم ہے ۔البتہ خواتین میں موصوف عصمت آپا اور عینی آپا سے آگے نہیں بڑھے فائدہ ہی فائدہ اور خسارہ ہی خسارہ ۔ 😊
یہ خاکے دلچسپ دلکش شائستگی اور شگفتگی سے پر ہیں. زبان و بیان با محاورہ اور موئثر ہے اور خاکہ نگاری کے فن کی بہتر مثال ہیں. آپ بھی سن سکتے ہیں اور محظوظ ہو سکتے ہیں. یہ سب ان کی ف ب وال پر موجود ہیں ۔ اس طرح کی کتابیں آنا بھی ضروری ہیں تاکہ جسے نہیں جانتے جان سکیں ۔ 260 صفحات پر مبنی اس دلچسپ کتاب کی قیمت 300 روپیہ ہے جسے مرکزی پبلیکیشنز دہلی نے شائع کیا ہے ۔ بہت بہت مبارک پروفیسر ابن کنول صاحب ۔خدا کرے آپ خوب لکھیں بس لاک ڈاؤن نہ ہو
💥 نگار عظیم

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here