عدالتوں کے فیصلے،میڈیا کی آزادی،مسلمان اور اسلامی ممالک

0
100
عدالتوں کے فیصلے،میڈیا کی آزادی،مسلمان اور اسلامی ممالک
عدالتوں کے فیصلے،میڈیا کی آزادی،مسلمان اور اسلامی ممالک

عدالتیں حکومت وقت کے در کی باندی اور رکھیل ہوا کرتی ہیں،اور عدالتوں کے فیصلے ان کے مرہون منت ،یہ بات سو فیصد تو صحیح نہیں مگر 95% تو صحیح ہی کہہ سکتے ہیں،کیوں کہ پوری دنیا کی عدالتوں نے حکومت وقت کے ہاتھ پراس طرح بیعت کر رکھی ہے کہ موجودہ سرکار کی منشا کے خلاف فیصلہ سنانا یا دینا ان کے لیے بڑا چیلنج یا ناممکن سا معاملہ ہوتا ہےجتنی بھی عدالتوں کے فیصلے سنے ہیں سب حکومت کے حق میں گئے ہیں ۔2019-2020 میں عدالت کی دہلیز سے دو ایسے فیصلے پیش کیے گئے جن سے پوری دنیا سے عدالتی رویے پر سوال اٹھے اور عدالتوں کے اصل چہرے بھی سامنے آگئے۔پہلا معاملہ بابری مسجد کا، جسے سپریم کورٹ کا ایک سیاہ، دھرم پکچھ اور اور سرکاری منشا پورا کرنے والا فیصلہ ہی کہا جا سکتا ہے۔موجودہ حکومت نے بابری مسجد کو اپنی سیاست کا عظیم سرمایہ شروع سے بنا رکھی تھی اوران کے پیشواؤں کا مسجد کو شہید کرنے میں اہم رول بھی رہا۔بی جے پی اور اس کے ہم نوا شروع سے اس نظریے کے حامی رہے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیرکرنا ہے،اور اسی وعدے کی بنیاد پر بی جے پی سرکار میں بھی آئی،اب جب کہ حکومت خود اس رام مندر کے حق میں ہے اب عدالت کے سامنے لاکھ ثبوت پیش کردیں کہ مسجدمندر توڑ کر نہیں بنائی گئی ہے،اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ فیصلہ وہی ہوتا ہے جو سرکاریں چاہتی ہیں اور وہی ہوا۔اسی طرح حاجیہ صوفیہ کا فیصلہ۔سوال یہ ہے کہ جن دلیلوں کی بنیاد پر موجودہ ترکی کورٹ نے مسجد کے حق میں فیصلہ دیا تو کیا اس وقت عدالت کے سامنے وہ ثبوت اور دلیلیں موجود نہیں تھیں جب مسجد کو میوزیم میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ اس وقت کی سرکار خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے حاجیہ صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنا چاہتی تھی تو عدالت نے بھی وہی فیصلہ دیا جو حکومت چاہتی تھی۔اب جب کہ موجودہ سرکار مسجد کے حق میں ہے تو عدالت نے بھی فیصلہ مسجد کے حق میں دیا۔ ہاں!عدالتیں اپنی مریادا کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ ایسے بھی فیصلے لیتی ہیں جن سے عدالتوں پر عوام کا بھروسہ بنا رہے۔
حکومت اگر سرکشیت اور ڈکٹیٹر شپ پر اتر آئے تو عدالتیں ان کی خواہشات کی تکمیل کا بہترین آلہ ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ تحریر ملاحظہ کریں:
’’ہمارے اس دور کے تمام حالات کی طرح یہ حالت بھی نئی نہیں ہے. تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی حکمران طاقتوں نے آزادی اور حق کے مقابلے میں ہتھیار اٹھائے ہیں تو عدالت گاہوں نے سب سے زیادہ آسان اور بے خطا ہتھیار کا کام دیا ہے. عدالت کا اختیار ایک طاقت ہے اور وہ انصاف اور نا انصافی دونوں کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے. منصف گورنمنٹ کے ہاتھ میں عدل اور حق کا سب سے بہتر ذریعہ ہے،لیکن جابر اور مستبد حکومتوں کے لیے اس سے بڑھ کر انتقام اور نا انصافی کا کوئی آلہ بھی نہیں۔
تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں”۔
حال میں نفرت پھیلانے والے ایک چینل پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کیا،مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد چینلز اپنے رویے کو تبدیل کر رہے ہیں؟ ملک میں صرف ایک سدرشن نیوز نہیں ہے بلکہ ایک پوری گروپ ہے جو سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہے اور ایک بڑے گروہ کومسلمانوں کے خلاف ہتھیارا بنا رہی ہے۔تبلیغی جماعت کو لے کر سرکار نواز چینلوں نے جو مسلمانوں کے ساتھ کورونا کوجوڑنے کی گھناؤنی کوشش کی،جس کے خطرناک نتیجے بھی سامنے آئے۔وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
ممبئی ہائی کورٹ نے مانا کہـ’’پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پروپیگنڈا چلا اور صورت بنانے کی کوشش کی گئی کہ غیر ملکی (تبلیغی مسلمان) بھارت میں کرونا پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔جب ملک میں وبا یا مصیبت آتی ہے،سیاست، سرکار بلی کا بکرا ڈھونڈتی ہے‘‘…اس نفرتی اور سوچی سمجھی پروپیگنڈا سے جو نقصانات ہوئے تھے ان کی تلافی کی بھی بات کہی تھی،مگر کیا ہوا؟میڈیا کے سیاہ رویے پرپہلے بھی عدالتوں نے خبردار کیا ہے لیکن اس کا حاصل زمینی سطح پر کچھ نہیں دیکھا گیاہے۔میڈیا کی آزادی اور بولنے  کی آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ جوچاہیں بکواس کریں اور نفرت پھیلاتے رہیں۔آج کا میڈیا انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرناک بم ہے،وہ کسی وقت بھی اپنی زہریری فضا سے انسانیت کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ نے اسی بحث میں کہا تھا کہ موجودہ معاملے کی کاروائی سے معلوم چلتا ہے کہ’’ ناگرکتا قانون کے خلاف  احتجاج کرنے والوں کے دل میں ڈر پیدا کرنامقصود ہو اور یہ اشارہ دیتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ بھی کیا جا سکتا ہے‘‘۔
آج مسلمانوں کے خلاف جب جوچاہتا ہے بکتا اور دل دہلانے والا کارنامہ انجام دیتا ہے مگر ان سب کے باوجود مسلمانوں اور ان کے رہبران میں کیا تبدیلی آئی وہ جگ ظاہر ہے۔مسلمان اپنے جن نام نہاد رہبران پر  تن من دھن سے قربان ہوتے ہیں وہ رہبران ان کے لیے کیا کرہے ہیں ان سے کوئی سوال کرنے والا نہیں؟جلسے، جلوس  کے نام پر قوم کے روپے پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔اس قوم کو ان کے مذہبی رہنماؤں نے اس قدر ڈرپوک بنا دیا ہے کہ وہ رہبروں کی غلطی پر سوال کرنا اپنی آخرت خراب کرنا سمجھتے ہیں۔واضح ہو کہ جس قوم میں  اپنے رہبروں سے سوال کرنے کی  قوت نہ ہو اس قوم میں عوام کی حالت ایک زندہ لاش کی طرح ہے۔
موجودہ بیشترخانقاہیں قوم کو بے وقوف بناکر ذخیرہ اندوزی کی مشینیں بنی ہوئی ہیں۔یہاں سے قوم کے لیے کوئی بنیادی کام ہو رہا ہے اور نہ ان کے مستقبل کے لیے کوئی قدم اٹھایا جارہاہے۔پیر صاحبان کے بچے مریدوں کے زر سے عیش و عشرت میں زندگی گزار رہے ہیں،اور بے چارہ مرید اسے جنت جانے کا سرمایۂ آخرت جانتا ہے۔ عصرحاضر میں پیری مریدی اور خانقاہوں کی نفس پرست سسٹم نے قوم کے درمیان نفرت اور منافرت گھول رکھا ہے۔ایک خانقاہ دوسری خانقاہ کو دیکھنا نہیں چاہتی۔ایک پیر کے مرید دوسرے پیر کے مرید سے نفرت کرتا ہے۔
مدارس اسلامیہ نے قدیم روش کا طوق اپنی گردن میں اس طرح ڈال رکھا ہے کہ بے چارے اسٹوڈینٹ فارغ ہونے کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ان طلبہ میں تربیت کا زبردست فقدان رہتا ہے،اسلام کے نام پر اپنے درمیان محبت کی دیپ جلانے کے بجائے مسلک و مشرب،دیوبندی،بریلوی،شیعہ اور اہل حدیث کے نام پر اپنے درمیان ہی کھائی پیدا کرنے میں رہتے ہیں،جس سے قوم روز بروز اس قدر اپاہچ ہوچکی ہے کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے یہ اسلامی ممالک کی طرف آس لگائے دیکھتے ہیں کہ ہمارے حق میں زباں کھلے مگراسلامی ممالک کی حالت خود قابل رحم ہے۔حال میں ہی بحرین اور عرب امارات نے ڈونالڈ ٹرمپ کی رہبری میں اسرائیل کے ساتھ دستخطی امن بیعت کرلی ہے،ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آدھا درجن دوسرے مسلم ممالک بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو اپنا مستقبل خود بنانا ہوگا کوئی آپ کی مدد نہیں کرنے والا۔وقتی طور پر آوازیں ضرور اٹھ جائیں گی مگر آقاؤں کے اشاروں سے پر یہ آوازیں ٹھنڈی پر جائیں گی۔اگر مدارس کو ہم جدید طرز سے چلاتے اور زیادہ سے زیادہ سسٹم میں اپنے آدمیوں کو شامل کرتے  جو آئے دن سرکاری نوکر شاہوں کے مظالم سے سامنے آتے ہیں، یہ نہ ہوتا۔پولیس کے دوہرے پن پر سابق آئی پی ایس آفیسر بیبھوتی نارائن کی کتاب ’’فرقہ ورانہ فسادات اور ہندوستانی پولیس‘‘ اس راز سے پردہ اٹھاتی ہے۔
اب بھی اس قوم کے پاس وقت ہے گرچہ بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ ہندوستان میں اپنے آنے والی نسلوں کی زندگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکرکریں اور کوئی لاحقہ عمل تیار کریں۔ورنہ

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!

غلام علی اخضر

Article on Media Muslims and Muslim countries by Ghulam Akhzar

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here