جوش کی شراب نوشی اورنہروجی کی قوت برداشت

0
35
جوش کی شراب نوشی اورنہروجی کی قوت برداشت
جوش کی شراب نوشی اورنہروجی کی قوت برداشت

ڈاکتر راحت مظاہری

آج14 نومبرآزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم اوربچوں کے چاچا شری جواہرلال نہرو کایوم پیدائش ہے ، چونکہ نہروجی بچوں کودیش کامستقبل مانتے تھے اسی لئے وہ اپناجنم دن ان کے ساتھ منایاکرتے تھے ،اسی مناسبت سے ان کےیوم ولادت کوپورے ملک میں یوم اطفال( بچوںکے دن) کے نام سے منایاجاتاہے،لہٰذااس روز ملک کے تمام ہی اسکولوں، تعلیمی اداروں میں اسی عنوان سے متعدد پروگرام ہوتے ہیںنیز اخباروں، ریڈیواورٹی وی وغیرہ پر بھی نہراوربچوںکے تعلق سے خبریںاورپرگروم نشرکئےجاتے ہیں لہٰذا ہم بھی آ پ کونہروجی کی زندگی کاایک خاص اورپرسبق آموز واقعہ سناتے ہیں، جوشاید زندگی بھرآ پ کے بھی کام آئے۔
یوم جمہوریہ پرلال قلعہ کا مشاعرہ ہندستان کے مایہ ناز سپوت اورہندومسلم اتحاد کے بڑے ستون، استاذ الشعرا کنورمہندرسنگھ سحرؔ بیدی جوکہ راجدھانی دہلی کے علاوہ غیرمنقسم ہندستان میں بھی بہت سارے شہروںمیں مجسٹریٹ اورمنصف کے عہدے پررہے ہیں آزادی کے بعد اظہارمسرت کے لئے ان کے مشورہ سے نہروجی نے لال قلعہ کا تاریخی مشاعرہ شروع کرایا، پہلامشاعرہ تھا، چونکہ جوشؔ ملیح آبادی ایک مشہورانقلابی شاعرتھے، ، وہ بھی ملک کی آزادی میں اپنی نظموں سے پیش پیش رہے،اورآزادی کے اہم ہیرواور بیدی جی کے گہرے دوست بھی تھے اس لئے اس مشاعرہ میں ان کو بھی بہت ہی شان وشوکت سے پیش کیاگیا۔
چونکہ ملک کی پالیسی کے مطابق نہروجی شراب بندی کے قائل تھے اورجوش صاحب بلاکے پیکڑ، اس لئے جوش لال قلعہ کی مشاعرہ گاہ میں بھی شراب کے نشے میں دُھت نظرآئے ،اپناکلام پیش کرتے ہوئے جوش ؔنےشراب بندی کے خلاف ایسے اشعارپڑھے ، جونہروجی کی کی کھلی توہین تھی۔
بیدی جی کابیان ہے ،اس وقت میراوہ براحال تھاکہ زمین پھٹے توسماجائوں مگرجوش صاحب تھے، کہ باربار ان ہی شعروں کی تکرارکرتے رہے مگرنہروجی اپنی اعلیٰ ظرفی و قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گردن نیچی کئے بیٹھے رہے، مشاعرہ کے ختم پر نہروجی خاموشی سے رخصت ہوگئے، اورمیں ان کاچور بنارہا۔
جوش صاحب کوجب بعدمیں میری رسوائی، نہروجی کی بے عزتی اورناراضگی کااندازہ ہواتوکئی روزتک شرم کی وجہ سے میرے پاس نہیں آئے، اورجب آئے تو میں نے بھی سخت بازپُرس کی، جوش نے اپنی غلطی کااعتراف کیا اورمجھ سے پوچھاا، ب اس کا کیا حل ہے؟
میں نے غصہ میں جھنجلاکرکہا: حل کیاہوتا؟ اب آپ بھی اپنے گھربیٹھو اورمیں توبیٹھاہی ہوں، تم نے میرے لئے نہروجی کادروازہ توبند کراہی دیا۔
جوش اس پراورجذباتی ہوگئے ، اوربولے نہیں بیدی جی !ایسانہیں ۔آپ اس کا کوئی حل نکالو، میں بہت شرمندہ ہوں اورنہروجی سے معافی مانگناچاہتاہوں۔
جب جوش نے معافی کی بات کہی ،تومجھے بھی ہمت سی ہوئی اورمیں نے کہا: ٹھیک ہے ، لیکن تم معافی خود حاضرہوکرمانگوگے، ہاں! البتہ میں تمہارے ساتھ رہوںگا۔
بس ہم دونوں نہروجی کی کوٹھی پر ساتھ ساتھ پہنچ گئے،چونکہ پیشگی اجازت میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا اس لئے اردلی نے بھی ہم کوڈائریکٹ اندر جانے دیا، اورنہروجی کوجاکر بتادیا۔
نہروجی اس وقت اپنے دفتر کی فائلوں میں مشغول تھے،ہم لوگ جیسے ہی حاضر ہوئے ، نہروجی نے ایک ترچھی سی نظراٹھائی اورہم کوبھانپ لیا، مگرپہلے کی طرح نہ کوئی مسکراہٹ اورنہ ہی خوشی یااستقبال کااظہار۔ البتہ چہرہ ان کی شیروانی کے گلاب سے بھی زیادہ سے سرخ مگرغصہ کی تمتماہٹ کے ساتھ۔، اتنے میں ان کی بیٹی اندراجی بھی آگئیں مگراپنےطیش میں وہ ان سے بھی کچھ نہیں بولے، اندراجی بھی ہماری موجودہ کیفیت اورپرانی صورت حال پر خاموش ہی رہیں،لیکن سمجھ سب رہی تھیں۔
میرے دل کی حالت اورخراب ہونے لگی۔ کہ ہائے اللہ! اب کیاہوگا؟
اگرنہروجی نے ہم سے بات نہیں کہی اوریونہی جاناپڑاتوآئندہ تمام عمر کے لئے یہ راستہ بند ہوجائے گا۔ مگرقربان جائیے ،نہروجی کی اعلیٰ ظرفی اور قوت برداشت پر۔
کچھ دیرخاموشی کی سزادینے کے بعد نہروجی ہم دونوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولے:کیاابھی کچھ اوربھی میری بے عزتی کی خواہش یاتمناہے ؟کچھ رہی سہی کسرباقی ہوتواس کوبھی پوری کرلو۔
نہروجی کے یہ الفاظ سن کے ہم لوگوں کی آنکھوں سےندامت کے آنسوبہنے لگے، مگربولاکچھ نہیں جاسکا، بس اس ہماری شرمندگی اور خاموش کی تصویرہی خودگویاتھی کہ ہم آ پ کے اقبالی مجرم ہیں۔
اس کے بعدنہروجی نے بس اتناکہا:اگرتم کویہ سب کرناہی تھاتوپھراتنے بڑے مجمع میں مجھکو گھسیٹنے اوررسواکرنے کی کیاضرورت تھی؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here