جے این یو پر حملہ ،ہندوستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ

0
22
جے این یو پر حملہ ،ہندوستان کے مستقبل پر حملہ ہے
جے این یو پر حملہ ،ہندوستان کے مستقبل پر حملہ ہے
 پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کی یاد میںغالب انسٹی ٹیوٹ میں تعزیتی جلسہ
پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کی یاد میںغالب انسٹی ٹیوٹ میں تعزیتی جلسہ
دہلی میں انتخابی بگل بج چکاہے۔زبردست اور کڑاکے کی کی گرمی میں شدت پیداہوگئی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو جہاں بیٹھے بیٹھائے مرکزی حکومت کو گھیرنے کیلئے ایک ایشو مل گیاہے وہیں بی جے پی اسے لیفٹ پارٹیوں کی سازش بتانے میں مصروف ہوگئی ہے۔شرپسند عناصر کے شکار 20طلباءکو انصاف مل پائے گا یا پھر ماضی کی طرح یہ بھی بھولابسرا سبق بن کررہ جائے گا۔آج کے لیڈروں کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے معاملے اورسنگین سے سنگین مسئلہ کو سیاست سے تعبیر کر کے انہیں ٹھنڈے کردیتے ہیں ۔پولس مظالم اور ہاسٹل میں گھس کر طلبہ کو پیٹنے کی کبھی کبھی خبریں موصول ہو جاتی تھیں لیکن ہاسٹل میں گھس کر طالبات کی پٹائی کرنا یہ شاید ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے،جس کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے۔ہندوستان ہی نہیں بلکہ ،امریکہ ،کناڈا،جاپان اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹیز کے پروفیسرس نے مشترکہ بیان جاری کرکے مذمت کی ہے۔گزشتہ ماہ جب مودی حکومت کے غیر آئینی فیصلہ کے خلاف مظاہرے کررہے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا پر دہلی پولس نے مظالم کے پہاڑ توڑے تو ہندوستان کی اکثر و بیشتر یونیورسٹیز نے ان مظالم کے خلاف آواز بلندکرتے ہوئے یکجہتی کا ثبوت دیا اور آج بھی جب جے این یو کے طلبہ پر شرپسندوں نے حملہ کیا تو تمام یونیورسیٹیاں ایک ساتھ کھڑی ہوگئی ہیں۔جے این یو کے تعلق سے معروف عالم دین مرحوم مولانا اسرارالحق قاسمی کا بیان بہت اہم کا حامل ہے کہ جواہرلال یونیورسٹی ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں معیاری تعلیم و ریسرچ اوراپنی مخصوص سکیولر شناخت کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے جہاں دنیا بھر کے مختلف مذاہب کے ماننے والے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ جب سے آرایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی بی جے پی بر سراقتدار آئی ہے، اس وقت سے دارالحکومت دہلی میں قائم تعلیمی ادارہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ان کے اور سخت گیر ہندو تنظیموں کے نشانے پر ہے۔کسی نے سچ کہاہے کہ بی جے پی کا دھیان جس قدر پاکستان پر ہوتا ہے، اتنا ہی جے این یو پر بھی رہتا ہے۔جے این یو آر ایس ایس کے افکارو خیالات کی ترویج میں بڑی رکاوٹ ہے اور وہ ہر جگہ اسے نہ صرف چیلنج کرتا نظر آتا ہے بلکہ ہندو سخت گیر تنظیموں کے پاس ان کا جواب بھی نہیں ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت دہلی میں موجود یہ تعلیمی گہوارہ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی کی مشعل تھامے ہوئے ہے اور یہی چیز سخت گیر تنظیموں کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔جے این یوگذشتہ 4 سال سے زیادہ سرخیوں میں ہے۔ اس دوران جے این یو کے خلاف اس قدرواویلا مچایاگیاہے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے بند کر دینا چاہیے۔ جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی اسے اپنے قبضے لینے کا عرصے سے آرزو مند رہا ہے۔ اس ادارے پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں۔اسے ماو ¿ نوازوں کی پناہ گاہ کہا گیا اور مرکزی وزیروں نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ ان کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ جے این یو کے کمیونسٹ طلبہ کا رشتہ سرحد پار سرگرم شدت پسند تنظیموں سے ہے۔حالانکہ اپنے قیام کے بعد سے عوام مخالف حکومتی پالیسی کے خلاف جے این یو نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔یہاں سے اٹھنے والی آواز ایک زمانے سے ملک کے طول و عرض میں سنی جاتی رہی ہے۔جے این یو کا خیال ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل کی موت کے بعد ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے طور پر پیدا ہوا اور پھر اس کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ کبھی بھی کانگریس پارٹی کی آنکھوں کا تارا نہ بن سکا۔یہ ادارہ ایمرجنسی کے دور (79-1977) میں سرخیوں میں اس وقت آیا جب وہاں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کی نافذ کردہ ایمرجنسی کی مخالفت زوروں پر ہوئی اور وہاں کے طلبہ نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسے شروع سے ہی بائیں بازو کے گڑھ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں پہلے مقابلہ بائیں بازو کے مختلف دھڑوں (ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، اے آئی ایس اے، یو ڈی ایف وغیرہ) کے درمیان ہی ہوتا تھا لیکن دنیا میں کمیونزم کے کمزور ہونے اور ملک میں ہندو قوم پرست جماعتوں کے قدم جمانے کے ساتھ جے این یو کی فضا بھی بدلی اور کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی اور بی جے پی کی اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی نے یہاں پاو ¿ں جمانے شروع کئے لیکن انہیں کبھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔جے این یو دوسری بار اس وقت دنیا میں سرخیوں میں آیا جب سویت روس کا دور ختم ہوا اور روس سے ایک درجن سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے۔ اس زمانے میں بھی جب جے این یو میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں مسلسل بائیں بازو کی جیت ہوتی رہی تو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں اس بات پر بحث ہوئی کہ آخر جے این یو میں بائیں بازو کے نظریات کمزور کیوں نہیں ہو رہے ہیں۔گزشتہ دنوں جے این یو اس وقت مزید سرخیوں میں آیا جب ملک مخالف نعرہ لگانے کے الزام میں کنہیا کمار کو ایک سازش کے تحت عدالت کے احاطہ میں زدوکوب کیاگیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاگیا۔طلباءاور نوجوان ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں لیکن کیا حکمراں طبقہ کے اس وحشیانہ رویہ کے بعد یہ ممکن ہے؟۔جو حکومت اپنے تعلیمی ادارے اور طلباءکا تحفظ نہ کرسکے ،اس سے ملک کی حفاظت کی کیا امید کی جاسکتی ہے؟۔
Attachments area
Preview attachment BAMS0338 – Copy.JPG

دہلی میں انتخابی بگل بج چکاہے۔زبردست اور کڑاکے کی سردی کے درمیان مودی کے سی اے اے،این آر سی اور این پی آرکے خلاف ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح پوری دہلی میں آگ لگی ہوئی ہے اور گزشتہ روز جواہر لال یونیورسٹی(جے این یو)میں نقاپ پوشوں کے قہر اور اس کی بربریت نے یہ واضح پیغام دے دیاہے کہ آر ایس ایس نظریات کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز دبادی جائے گی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بعد جواہر لال یونیورسٹی کے طلبا ءپر حملہ دراصل ہندوستان کے مستقبل پر حملہ ہے ۔انتہاپسندوں نے پورے ملک کو دہشت زدہ بنانے کا جو منصوبہ بنایاتھا ،انتظامیہ کی نااہلی اور مرکزی حکومت کی خاموش حمایت کی وجہ سے کسی نہ کسی حد تک وہ کامیاب ہوتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔جس نے عام انسانوں کو بھی سکتہ میں ڈال دیاہے۔موسم انتہائی سرد ہے لیکن سیاست کی گرمی میں شدت پیداہوگئی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو جہاں بیٹھے بیٹھائے مرکزی حکومت کو گھیرنے کیلئے ایک ایشو مل گیاہے وہیں بی جے پی اسے لیفٹ پارٹیوں کی سازش بتانے میں مصروف ہوگئی ہے۔شرپسند عناصر کے شکار 20طلباءکو انصاف مل پائے گا یا پھر ماضی کی طرح یہ بھی بھولابسرا سبق بن کررہ جائے گا۔آج کے لیڈروں کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے معاملے اورسنگین سے سنگین مسئلہ کو سیاست سے تعبیر کر کے انہیں ٹھنڈے کردیتے ہیں ۔پولس مظالم اور ہاسٹل میں گھس کر طلبہ کو پیٹنے کی کبھی کبھی خبریں موصول ہو جاتی تھیں لیکن ہاسٹل میں گھس کر طالبات کی پٹائی کرنا یہ شاید ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے،جس کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے۔ہندوستان ہی نہیں بلکہ ،امریکہ ،کناڈا،جاپان اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹیز کے پروفیسرس نے مشترکہ بیان جاری کرکے مذمت کی ہے۔گزشتہ ماہ جب مودی حکومت کے غیر آئینی فیصلہ کے خلاف مظاہرے کررہے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا پر دہلی پولس نے مظالم کے پہاڑ توڑے تو ہندوستان کی اکثر و بیشتر یونیورسٹیز نے ان مظالم کے خلاف آواز بلندکرتے ہوئے یکجہتی کا ثبوت دیا اور آج بھی جب جے این یو کے طلبہ پر شرپسندوں نے حملہ کیا تو تمام یونیورسیٹیاں ایک ساتھ کھڑی ہوگئی ہیں۔جے این یو کے تعلق سے معروف عالم دین مرحوم مولانا اسرارالحق قاسمی کا بیان بہت اہم کا حامل ہے کہ جواہرلال یونیورسٹی ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں معیاری تعلیم و ریسرچ اوراپنی مخصوص سکیولر شناخت کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے جہاں دنیا بھر کے مختلف مذاہب کے ماننے والے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ جب سے آرایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی بی جے پی بر سراقتدار آئی ہے، اس وقت سے دارالحکومت دہلی میں قائم تعلیمی ادارہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ان کے اور سخت گیر ہندو تنظیموں کے نشانے پر ہے۔کسی نے سچ کہاہے کہ بی جے پی کا دھیان جس قدر پاکستان پر ہوتا ہے، اتنا ہی جے این یو پر بھی رہتا ہے۔جے این یو آر ایس ایس کے افکارو خیالات کی ترویج میں بڑی رکاوٹ ہے اور وہ ہر جگہ اسے نہ صرف چیلنج کرتا نظر آتا ہے بلکہ ہندو سخت گیر تنظیموں کے پاس ان کا جواب بھی نہیں ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت دہلی میں موجود یہ تعلیمی گہوارہ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی کی مشعل تھامے ہوئے ہے اور یہی چیز سخت گیر تنظیموں کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔جے این یوگذشتہ 4 سال سے زیادہ سرخیوں میں ہے۔ اس دوران جے این یو کے خلاف اس قدرواویلا مچایاگیاہے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے بند کر دینا چاہیے۔ جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی اسے اپنے قبضے لینے کا عرصے سے آرزو مند رہا ہے۔ اس ادارے پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں۔اسے ماو ¿ نوازوں کی پناہ گاہ کہا گیا اور مرکزی وزیروں نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ ان کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ جے این یو کے کمیونسٹ طلبہ کا رشتہ سرحد پار سرگرم شدت پسند تنظیموں سے ہے۔حالانکہ اپنے قیام کے بعد سے عوام مخالف حکومتی پالیسی کے خلاف جے این یو نے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔یہاں سے اٹھنے والی آواز ایک زمانے سے ملک کے طول و عرض میں سنی جاتی رہی ہے۔جے این یو کا خیال ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل کی موت کے بعد ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے طور پر پیدا ہوا اور پھر اس کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ کبھی بھی کانگریس پارٹی کی آنکھوں کا تارا نہ بن سکا۔یہ ادارہ ایمرجنسی کے دور (79-1977) میں سرخیوں میں اس وقت آیا جب وہاں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کی نافذ کردہ ایمرجنسی کی مخالفت زوروں پر ہوئی اور وہاں کے طلبہ نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسے شروع سے ہی بائیں بازو کے گڑھ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جہاں پہلے مقابلہ بائیں بازو کے مختلف دھڑوں (ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، اے آئی ایس اے، یو ڈی ایف وغیرہ) کے درمیان ہی ہوتا تھا لیکن دنیا میں کمیونزم کے کمزور ہونے اور ملک میں ہندو قوم پرست جماعتوں کے قدم جمانے کے ساتھ جے این یو کی فضا بھی بدلی اور کانگریس کی اسٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی اور بی جے پی کی اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی نے یہاں پاو ¿ں جمانے شروع کئے لیکن انہیں کبھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔جے این یو دوسری بار اس وقت دنیا میں سرخیوں میں آیا جب سویت روس کا دور ختم ہوا اور روس سے ایک درجن سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے۔ اس زمانے میں بھی جب جے این یو میں اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں مسلسل بائیں بازو کی جیت ہوتی رہی تو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں اس بات پر بحث ہوئی کہ آخر جے این یو میں بائیں بازو کے نظریات کمزور کیوں نہیں ہو رہے ہیں۔گزشتہ دنوں جے این یو اس وقت مزید سرخیوں میں آیا جب ملک مخالف نعرہ لگانے کے الزام میں کنہیا کمار کو ایک سازش کے تحت عدالت کے احاطہ میں زدوکوب کیاگیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاگیا۔طلباءاور نوجوان ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں لیکن کیا حکمراں طبقہ کے اس وحشیانہ رویہ کے بعد یہ ممکن ہے؟۔جو حکومت اپنے تعلیمی ادارے اور طلباءکا تحفظ نہ کرسکے ،اس سے ملک کی حفاظت کی کیا امید کی جاسکتی ہے؟۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here