جگر کی زمین میں ایک غزل

بوجھ سرسے کئی اتارے ہیں
پوچھ مت کیسے دن گزارے ہیں

حالِ دل پوچھنے سے کیا ہوگا
آپ کی سازشوں کے مارے ہیں

ان کی زلفوں کے وہ گھنے سائے
شب ِتاریک کے اشارے ہیں

ان کو افسوس مار ڈالے گا
جو محبت کی جنگ ہارے ہیں

وہ ہمیں غیر کی صفوں میں ملے
جو یہ کہتے تھے ہم تمہارے ہیں

فخر کرتے ہیں ان پہ اب شاکر
خوشبوؤں کے جو استعارے ہیں

شاکر حسین اصلاحی ( مراد آباد)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے