جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رینکنگ حکومت کے منھ پر طماچہ

0
65
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رینکنگ حکومت کے منھ پر طماچہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رینکنگ حکومت کے منھ پر طماچہ

 

جامعہ ملیہ اسلامیہ 1920 کی یادگار ہے جسے علی گڑھ میں قیام کے صرف پانچ برس بعد یعنی1925 میں دہلی منتقل کردیاگیاتھا۔ آزادی کے بعدحکومت ہند نے اسے قانونی طور پر یونیورسٹی کا درجہ دے کر ملک کی بڑی درس گاہوں میں شامل کردیا۔علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے والوں میں حضرت شیخ الہند،مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبد المجید خواجہ اور ڈاکٹرذاکر حسین کے نام سرِفہرست ہیں، جو اپنے وقت کی انتہائی قابل شخصیات اور آزادی کے متوالے شمار ہوتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کا مقصد بتاتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا تھا:’’جامعہ کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں کی آئندہ زندگی کا ایک ایسا نقشہ تیار کرے جس کا مرکز مذہب اسلام ہو اور اس میں ہندوستان کی قومی تہذیب کا وہ رنگ بھرے جو عام انسانی تہذیب کے رنگ میں رنگ جائے۔ جامعہ کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی آئندہ زندگی کے اس نقشے کو سامنے رکھ کر ان کی تعلیم کا مکمل نصاب بنائے اور اس کے مطابق ان کے بچوں کو جو مستقبل کے مالک ہیں، تعلیم دے، علم محض روزی کی خاطر جو ہمارے ملک کی جدید تعلیم کا اصول ہے اور علم محض علم کی خاطر جو قدیم تعلیم کا اصول تھا دونوں نظریے بہت تنگ اور محدود ہیں، علم کو زندگی خاطر سکھلانا جامعہ کا مقصد ہے جس کے وسیع دائرے میں مذہب، حکمت، اور صنعت، سیاست اور معیشت سب کچھ آجاتا ہے‘‘۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام اس زمانے میں تحریکِ حریت کو آگے بڑھانے کے سلسلے کی ایک کڑی بھی تھا۔ یہ ادارہ اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں سے نکل کر عصری علوم میں یگانہ اور اسلامی ذہن و فکر کی حامل شخصیات معاشرے کا حصّہ بنیں۔ جامعہ ملیہ کا مقصد انگریز سرکار کی امداد سے دور رکھ کر ایسی فضا کو پروان چڑھانا تھا جس میں ہندوستان کی آزادی کا جوش اور ولولہ محسوس ہو اور ساتھ ہی عصری تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت بھی کی جاسکے۔ ان راہ نماؤں کا مقصد یہ تھاکہ نوجوان سیاسی و سماجی طور پر مستحکم ہوں اور اپنے وطن کو آزادی کے بعد ترقی و خوش حالی کے راستے پر لے جاسکیں۔دہلی منتقلی کے بعد حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی بے لوث اور علم دوست ہستیوں نے اس کا وقار بلند کیا اور اسے تن آور درخت بنانے کے لیے اپنا وقت دیا۔ اس جامعہ کو گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسی شخصیات کا تعاون اور ان کی حمایت بھی حاصل تھی۔22 نومبر 1920 کو حکیم اجمل خان اس درس گاہ کے پہلے چانسلر منتخب کیے گئے جب کہ مسلمانوں کے عظیم لیڈر اور حریت پسند راہ نما مولانامحمد علی جوہر کو وائس چانسلر کا عہدہ سونپا گیا تھا۔پانچ سال کے بعد1925میں جامعہ ملیہ نے علی گڑھ سے ہجرت کرکے دہلی کو اپنا مستقل ٹھکانہ قرار دیا۔ یہاںبھی اُسے حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسے بے لوث خادم ملے جنھوں نے اپنے خون جگر کا آخری قطرہ تک اس ننھے پودے کو تناور درخت بنانے میں صرف کردیا۔
جامعہ ملیہ کے بانی وہ تمام قوم پرست مسلمان لیڈر ہیں جنھوں نے تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس ادارے کو روز اول سے گاندھی جی کی تائید وحمایت حاصل رہی ہے، جب بھی موقع ملتا گاندھی جی جامعہ ملیہ تشریف لے جاتے۔ پروفیسر محمد مجیب نے لکھا ہے کہ گاندھی جی ہمیشہ کہا کرتے تھے’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مسلم اور قومی درس گاہ ہے، سیاسی اختلافات کی فضا میں اپنے تہذیبی کردار کو باقی رکھتے ہوئے اسے اپنی راہ چلنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ ایک موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے کسی قریبی ساتھی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے’اسلامیہ‘ نکالنے کی تجویز رکھی ہے تو انھوں نے کہاکہ اگر اسلامیہ کا لفظ نکال دیا گیا تو انہیں اس ادارے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی‘‘۔
یہ تھا جامعہ ملیہ کے قیام کا مختصر خاکہ ۔۔۔اب بات موجودہ صورتحال کی۔فی زمانہ جن تعلیمی اداروں پر میڈیا اور حکومت کی جانب سے’’ ملک سے غداری کی سرگرمیوں‘‘ کا اڈہ ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، ان کا تعلیم کے میدان میںہونے والی درجہ بند میں سرفہرست آنا کیا اشارہ کرتا ہے؟ کیا واقعی یہ تعلیمی ادارے ملک سے غداری کے اڈے رہے ہیں یا کسی خاص نظریہ کی وجہ سے انھیں ٹارگیٹ کیا جارہا ہے؟
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بعد امسال جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی نے وزارت تعلیم کی درجہ بندی کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس فہرست میں پہلی چار میں سے تین یونیورسٹیاں ایسی ہیں جو گذشتہ پانچ ، چھ سالوں سے میڈیا ، حکومت اوراس کے وزراء کے ذریعہ مسلسل تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔اس فہرست کے پہلی چار یونیورسٹیوں میں ایک بار پھر جے این یو کا نام بھی آیا ہے ، اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام بھی شامل ہے۔
جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں، طلبا کی سرگرمیوں کو مستقل طور پریہ کہہ کر فروغ دیا جاتا رہا ہے کہ یہاں ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ پیدا ہوتا ہے نیز پلتا اور بڑھتا ہے۔جے این یو میں کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں پر ملک سے غداری کا معاملہ آج عدالت میں ہے جبکہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آوازاُٹھانے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی نشانے پر رہے ہیں۔
مودی حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ’ملک مخالف‘، ’غدارِ ملک‘، ’دہشت گرد‘ کہنے سے لے کر ان پر حملوں کے بہت سے واقعات ہوئے ہیں اوران ہی واقعات کی وجہ سے حکومت پر تعصب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔جے این یو کے بعد اب جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی وزارت تعلیم کی درجہ بندی کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگئی ہے۔ جامعہ کو 90فیصد کا اسکور ملا ہے۔ جامعہ ایک سو سالہ قدیم یونیورسٹی ہے، اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں مہاتما گاندھی جیسے شخص کا نام بھی شامل ہے۔اس یونیورسٹی کے پہلے خزانچی جمنا لال بجاج تھے جو مہاتما گاندھی کے گود لیے بیٹے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس وقت جامعہ نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن جب CAAاورNRC کی مخالفت ہوئی اور یہاں کے طلبہ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا تو یہ تعلیمی ادارہ میڈیا کے نشانے پر آگیا۔ یونیورسٹی کیمپس میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا، لائبریری اور ہاسٹل تک میں پولیس کے گھسنے اور طلبہ کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے واقعات ہوئے۔جب یونیورسٹی کے طلبہ احتجاج کررہے تھے تو پولیس کی موجودگی میں ایک باہری شخص نے فائرنگ کی ۔ میڈیا میں طلبہ پر ملک سے غداری جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔اور بہت کچھ کہا گیا ۔یہاں کے طلبہ ایک مشکل دور سے گزرے مگر صبر و شکر کو کام یابی کا وسیلہ بنایا۔اپنی جدوجہد کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور اسی لیے ایک بڑی کام یابی نے ان کے قدم چومے ۔
وزارت تعلیم کی سنٹرل یونیورسٹی نے ملک کے مختلف اداروں میں تعلیم کی کارکردگی پر گریڈنگ؍ اسکورنگ کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو نمبر ایک پر پایا۔دوسری نمبر پر اروناچل پردیش کی راجیوگاندھی یونیوسٹی ہے جس نے 83فیصد اسکور حاصل کیا ہے ،82فیصد اسکور کے ساتھ جے این یو تیسری پوزیشن پر ہے اور 78فیصد اسکور کے ساتھ تمام تنازعات میں بری طرح گھری علی گڑھ یونیوسٹی کا نام شامل ہے۔ 1920میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا اور 2020میں وہ تعلیمی درجہ بندی میں ملک کی نمبر ایک پوزیشن والی یونیورسٹی بن گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کی انتظامیہ کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بدنام کرنے کے لیے دانستہ طور پرجو کوششیں کی جارہی تھیں ان میں کتنی صداقت ہے ؟کیونکہ سرکار کی ہی ایک ایجنسی تعلیمی طور پر جامعہ کو اول قرار دیتی ہے ۔اس سے جامعہ کے طلبا کا وہ نعرہ درست قرار دیا جاسکتا ہے کہ پڑھے گا جامعہ ،لڑے گا جامعہ ،بڑھے گا جامعہ


٭٭٭محمد اویس سنبھلی
رابطہ: 9794593055

Article by Mohd Owais Sambhli

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here