جامعہ کے جنوں کی کہانی مسلسل ہے: ر جسٹرار جامعہ کا اظہار خیال

3
114

دوحہ میں جشن یوم تاسیس جامعہ ملیہ اسلامیہ

جامعہ کے جنوں کی کہانی مسلسل ہے، میرا جامعہ سے تعلیمی تعلق نہیں تھا پھر بھی میں نے جامعہ جوائن کیا۔ ان خیالات کا اظہار رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اے پی صدیقی (آئی پی ایس) نے98ویں یوم تاسیس کے موقع پر دوحہ قطر کے پانچ ستارہ ہوٹل ریڈیسن بلو کے جیوانہ ہال میں کیا ، جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی یوم تاسیس بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ منائی گئی۔
تقریب جامعہ ملیہ الومنائی ایسوایشن قطر کی طرف سے منعقد کی گئی تھی ، جس میں رجسٹرار جامعہ اے پی صدیقی (آئی پی ایس) بطور مہمان خصوصی کے طور پر شریک تھے ۔ انھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں جامعہ کے تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا، جامعہ کے نادار طلبہ کی تعلیم پر زور دیا تاکہ انھوں اعلی تعلیم کے حصول میں دشواری نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی کوششیں مزید بہتر کرنی ہوگی۔ انھوں نے جامعہ کے علاقائی سیاست کے منفی اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی۔
پروگرام کے مہمان اعزازی اور جامعہ سے تشریف لائے جامعہ کے میڈیا کوارڈینیٹر اور پی آر اوجناب احمد عظیم نے بھی جامعہ کی عمیروترقی کے لئے الومنائی کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔قطر کی معروف شخصیت اور مہمان اعزازی عظیم عباس نے کہا کہ تعلیم چراغ کی طرح ہے اور چراغ سے چراغ جلایا جاسکتا ہے۔
بزم صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین اور مہمان اعزازی شہاب الدین نے تعلیم سے متعلق زمینی حقائق سے آگاہ کیا اور تعلیم کے نام پر ڈونیشن دینے پر زور دیا۔اردو ریڈیو قطر کے پروگرامر اور مہمان اعزازی عبید طاہر نے جامعہ کی خدمات کو سراہااور جامعہ کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ڈبلو ڈبلو آئی سی ایس کے جی ایم اور مہمان اعزازی انور کریم بھی اس پروگرام میں بطور مہمان اعزازی شریک رہے، انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تاریخی پس منظر کو بیان کیا اور جامعہ الومنائی قطر کی کوششوں کو سراہا۔
ہندستان سے آئے ہوئے مہمان اعزازی دھیرج سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں جامعہ کا بڑا کردار رہا ہے، یہیں بانیان جامعہ محمد علی جوہر ، حکیم اجمل خان ، مختار احمد انصاری اور مہاتما گاندھی کے ساتھ دیگر قائدین آزادی کے ساتھ مل کر آزادی کے لئے منصوبہ بندی کیا کرتے تھے۔ ا س سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ الومنائی ایسوسی ایشن قطر کے روح رواں نجم الحسن خان نے سارے مہمانان اور شرکا کا استقبال کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ترانہ بھی پیش کیا گیا اور مہمانان، جامعہ کے بہی خواہان اور جامعہ الومنائی ایسوایشن کے کامیاب و سرگرم اراکین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں لوح سپاس سے نوازا گیا۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں شوکت علی ناز، احمد اشفاق، منصور اعظمی، ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی،افروز عالم‘ ڈاکٹر وصی بستوی، اطہر اعظمی اور راشد عالم راشد نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس پروگرام کی نظامت جامعہ الومنائی قطر کے رکن اور مضامین ڈاٹ کام کے خالد سیف اللہ فلاحی نے کی ،جامعہ الومنائی ایسوسی ایشن قطر کے رکن مجاہد حسیب خان کے شکریے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here