ایک اہم مضمون۔شاہین باغ تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش غیر دستوری

0
37
ایک اہم مضمون۔شاہین باغ تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش غیر دستوری
ایک اہم مضمون۔شاہین باغ تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش غیر دستوری

سہیل ارشد

 

 

 

 

 

 

 

 

آر ایس ایس کے ترجمان اخبار ہفتہ وار پنچ جنیہ کے 27 مارچ ء 2020 کے شمارے میں ایک مضمون شائع ہواہے جس کا عنوان ہے ’’کیا گارنٹی ہے کہ پھر سے نہیں لوٹے گا شاہین باغ‘‘۔ اس مضمون مین اس فکرمندی کا اظہار کیاگیا ہے کہ شاہین باغ جو فی الحال کورونا کی وجہ سے رک گیاہے وہ پھر سے زندہ ہوسکتاہے ۔ اس لئے اس مضمون میں شاہین باغ کو القاعدہ ، سیمی اور چین کے بھار ت مخالف ایجنڈے سے جوڑ کر حکومت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر یہ تحریک پھر سے زندہ ہوئی تو ملک کے لئے نقصان دہ ہوگی ۔ اس مضمون میں شاہین باغ کے مظاہرے اور پورے ملک میں اسی طرز پر چلنے والے این آر سی سی اے اے مخالف پرامن اور جمہوری مظاہروں کو اسلامی جہادی تحریک اور دہشت گرداور ملک مخالف عناصر کی تحریک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اور اس کے لئے غلط سلط دلائل اور جھوٹ کا سہارا لیا گیاہے ۔ لہذا، اس مضمون میں پیش کی گئی دلیلوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی تردید ضروری تھی ورنہ حکومت ہند اس گمراہ کن مضمون سے متاثر ہوکر شاہین باغ کے جمہوری اور پر امن مظاہروں کو غلط زاوئیے سے دیکھ سکتی ہے اور غلط فیصلے لے سکتی ہے ۔
اس مضمون میں ’’شاہین باغ ‘‘ کے جز لفظ ’’شاہین ‘‘ کی غلط تشریح پیش کرکے اسے دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مضمون نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علامہ اقبال نے شاہین کی علامت کے ذریعے سے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو فروغ دیا۔ جو کہ بے حد خلاف حقیقت ہے ۔مضمون نگار لکھتاہے ۔
’’پاکستان کی حمایت میں اپنی تقریر وں میں انہوں نے بار بار یہ واضح کیاکہ ان کا شاہین بھارت کا مسلمان نوجوان ہے اور اس کا شکار بھارت کی ایکتاہے جسے توڑ کر اسے پاکستان حاصل کرنا ہے ۔‘‘
شاہین کو علامت کے طور پر اردو میں سب سے پہلے علامہ اقبال نے پیش کیاتھا۔ وہ مسلمانوں میں غیرت ، خودداری ، عزم و حوصلہ اور جذبہ ء عمل کی صفات پیدا کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ خانقاہی طرز زندگی کو مسلمانوں کے لئے سم قاتل سمجھتے تھے ۔اقبال شاہین کی علامت سے مسلمانوں کے ملی و قومی کردار کی تشکیل کا کام لینا چاہتے تھے ۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ شاہین کو غیرت مندی ، خودداری اور فقر و استغناء ، جفاکشی کی علامت کے طور پر اقبال نے ہی استعمال نہیں کیا بلکہ ان سے قبل امیر خسرو اور سترہویں صدی میں عظیم پشتو شاعر اور قبائلی سردار خوش حال خان خٹک نے بھی استعمال کیا۔ اقبال نے شاہین کی علامت خوش حال خان سے مستعار لی ( اس موضوع پر میرا ایک مضمون شائع ہوچکاہے )۔ خوش حال خان اورنگ زیب کی فوج میں کمانڈر تھے مگر کچھ اختلافات کی وجہ سے وہ مغلوں کے دشمن ہوگئے اور آخری دم تک مغلوں سے برسرپیکار رہے اور کبھی ان کے آگے سر خم نہیں کیا۔ انکی شاعری میں باز اور شاہین متعدد بار استعمال ہوئے ہیں ۔لہذا، شاہین اور باز کا استعمال فارسی اور پشتو شاعری میں مثبت معنوں میں ہوچکاہے اور انہی معنوں میں اقبال نے شاہین کا استعمال کیا۔
مضمون میں القاعدہ اور سیمی کے شاہین ویمن فورس سے علامہ اقبال کے شاہین کا رشتہ جوڑکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اقبال دہشت گردی کی حمایت کرتے تھے جبکہ القاعدہ کی دہشت گردی اقبال کی وفات کے بہت بعد کی چیز ہے ۔ لہذا، اگر کوئی بعد میں وجود میں آنے والی دہشت گرد تنظیم خوش حال خان، امیر خسرو اور اقبال کے شاہین یا باز کو اپنے دہشت گردانہ مقاصد کے لئے استعمال کرے تو اس کے لئے اقبال خوش حال خان یا امیر خسرو کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ علامہ اقبال کو پاکستان کا حامی اور بنیاد گزار بتایاگیاہے ۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ پہلے بھی ان کے خلاف کیا جاچکاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی وفات 1938میں ہی ہوچکی تھی جبکہ پاکستان کا مطالبہ 1940 کے بعد کیاگیا۔ اقبال نے بھارت کو توڑ کر مسلمانوں کے لئے پاکستان بنانے کا مطالبہ نہیں کیاتھا ۔ انہوں نے صرف یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان کے اندر ہی مسلم اکثریتی علاقوں کو ملاکر ایک یا ایک یا زاید ریاستوں کا کن فیڈریشن بنایا جائے جہاں مسلمان دستور ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے شرعی احکام کے مطابق زندگی گزارسکیں اور اپنی معاشی اور سیاسی ترقی کے لئے بہتر فیصلے لے سکیں کیونکہ بیسیویں صدی کی تیسری دہائی تک انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اور ہندومہاسبھا اور دیگر فرقہ پرست ہندوتنظیموں کے مسلم مخالف پروپیگنڈے کی وجہ سے اقبال کو یہ اندیشہ ہونے لگا تھا کہ تقسیم کے بعد مسلمان اقلیت میں آجائینگے اور ان کا ملی ، تہذیبی اور سیاسی تشخص خطرے میں پڑجائے گا۔محمد علی جناح کو لکھے گئے انکے خط مورخہ 28مئی 1937 سے اقبال کا موقف واضح ہوجاتاہے ۔
’’لیکن جیسا کہ اوپر عرض کرچکاہوں کہ مسلم ہند کے ان مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب کہ ملک کی ازسر نو تقسیم کی جائے اور ایک یا زائد مسلم ریاستیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہو وجود میں لائی جائیں ۔ کیا آپ کے خیال میں اس مطالبے کا وقت نہیں آن پہنچاہے ؟‘‘
اقبال کا یہ فارمولہ آگے چلکر ملک کی دوسری اقلیتوں نے بھی اپنایا اور آؔزادی کے بعد عیسائیوں اور سکھوں کی اکثریت والی ریاستیں وجود میں آئیں ۔
مضمون میں ایک جھوٹ یہ بھی پیش کیاگیاہے کہ علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ کو پاکستان کے بننے کے بعد’’سارے جہاں سے اچھا پاکستان ہمارا‘‘ کردیاتھا ۔ اقبال کی وفات پاکستان کی تشکیل سے پہلے ہی ہوچکی تھی اس لئے ایسا کرنے کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی تشکیل کے بعد جناح کی فرمائش پر ڈاکٹر جگن ناتھ آزاد نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا تھا ۔
اس مضمون میںشرجیل امام کے متنازع بیان کو جس میں اس نے مبینہ طور پر شمال مشرقی ریاستوں کو ہندوستان سے الگ کرنے کی بات کی تھی شاہین باغ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اس کی بنیاد پر شاہین باغ کو ملک مخالف تحریک ثابت کیاجا سکے ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق شرجیل نے وہ بیان شاہین باغ کے اسٹیج سے نہیں بلکہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے جلسے میںدیاتھا ۔ یہ غلط فہمی سمبت پاترا کے ایک ٹویٹ سے پیداہوئی تھی ۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ شاہین باغ کے اسٹیج سے ہندوؤں کی مخالفت کی بات کی جاتی تھی ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں کی سرکردہ شخصیات شاہین باغ آکر اس تحریک کو اپنی حمایت کا اعلان کرتی تھیں اور شاہین باغ قومی یکجہتی کی ایک جیتی جاگتی علامت بن گیاتھا ۔وہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے تھے اور اپنی بات رکھتے تھے۔ وہاں پرامن اور جمہوری طریقے سے حکومت کے چند قوانین اور فیصلوں کی مخالفت اور ان کے تئیں عوام کے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیاجاتاتھا ۔ شاہین باغ کے اسٹیج سے دستور ہند اور ملک کی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچانے کے عزم کا اظہار کیا جاتاتھا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاہین باغ کی تحریک میں مسلمانوں نے کٹھ ملاؤں کو جگہ نہیں دی تاکہ اس تحریک کا سیکولر کردار قائم رہے ۔خاص طور پر اس تحریک میں ایسے ملاؤں کو قریب بھی آنے نہیں دیا گیا جنہوں نے پانچ سال قبل داعش کی کھلے یا چھپے طور پر حمایت کی تھی ۔ اس لئے اس تحریک کو دہشت گردی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے جوڑنا غلط ہے ۔
میڈیا میٰں شاہین باغ کی خواتین پر پانچ سو روپئے کی خاطر دھرنے میں شامل ہونے کا پروپیگنڈہ کیا گیاتھا۔ اس مضمون میں اسی پروپیگنڈے کی حمایت میں دلیل پیش کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتاہے کہ سیکوریٹی ایجنسیوں کو ملی جان کاری کے مطابق غیر ملکوں سے شاہین باغ کے کچھ کھاتوں میں 160 کروڑ روپئے ڈالے گئے تھے اور ان روپیوں کو دوسرے کھاتوں میں کھسکا دیاگیاتھا ۔ اسی لئے اس یقین کو طاقت ملی کہ شاہین باغ کی عورتوں کو روپئے دیئے گئے ۔ اگر واقعی شاہین باغ کو غیر ملکوں سے غیرقانونی طور پر فنڈ فراہم کیاگیا تھاتو ابھی تک اس سلسلے میںکوئی کیس کیوں نہیں درج کیاگیا یا کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی ؟ صرف مفروضوں پر کسی پر الزام لگادینا غلط ہے ۔
چونکہ شاہین باغ کے دھرنے میں مسلم خواتین کی اکثریت تھی اس لئے اس مضمون کے ذریعے سے مسلم خواتین کو القاعدہ اور سیمی کے شاہین فورس کاکا رکن ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ۔ اور اس کے لئے لفظ ’’شاہین ‘‘ کی غلط تاوہل کو بنیاد بنایاگیاہے ۔ القاعدہ اور سیمی کی خواتین سیل کا نام بھی شاہین پر تھا صرف اس بنیاد پر شاہین باغ کے مظاہرین اور خواتین کا ان دہشت گرد تنظیموں سے رشتہ جوڑنا نہ صرف گمراہ کن بلکہ مضحکہ خیز ہے ۔ یہ ٹھیک ایسا ہی ہے جیسے ناتھو رام نام کے ہر شخص کو دہشت گرد اور مجرمانہ مزاج رکھنے ولا سمجھا جائے ۔
ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی بھی کسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں القاعدہ ، سیمی اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں پنپ نہیں پائیں ۔ہندوستانی مسلمان اسلام کی روح اور اس کے پیغام امن و مساوات کو سمجھتے ہیں اور اس کے امین ہیں اس لئے چند گمراہ افراد کو چھوڑکر مسلمانوں کی اکثریت ان کے دام میں نہیں آئی؎؎ ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے ہر مسئلہ کا حل ہندوستانی دستور اور قوانین کی روشنی میں پرامن اور جمہوری طریقے سے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کبھی تشدد کا سہارا نہیں لیا۔ سی اے اے یا این آر سی کے خلاف ملک گیر پیمانے پر جو مظاہرے ہوئے ان میں ملک کے مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو ، سکھ ، عیسائی ور دلتوں نے بھی سرگرمی سے حصہ لیا کیونکہ انہیں یہ خوف تھا کہ ان قوانین سے انکے حق شہریت اور انکے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ حکومت انکے خدشات کودور کرنے اور ان کا اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ۔ بلکہ ان پر تشدد کیاگیا اور اس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید ہوگئے ۔ کچھ شرپسندوں نے ان پر گولیاں بھی چلائیں مگر انہوں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے اصول کو نہیں چھوڑا ۔ یہ خواتین جن میں کمسن بچیوں سے لیکر ضعیف العمر خواتین بھی تھیں صرف اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے کڑاکے کی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے ڈٹی رہیں مگر کبھی تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا بلکہ تشدد کرنے والوں کو معاف کردیا۔ایسی امن پسند اور وطن پرست خواتین کا رشتہ دہشت گرد تنظیموں سے جوڑنا انتہائی شرمناک اور مذموم فعل ہے ۔ ملک کے کسی حصے میں اگر کوئی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بھی ہوا ہو تو اس کا رشتہ شاہین باغ کی خواتین سے کیسے جوڑا جاسکتاہے ؟
یہ بات تشویش ناک ہے کہ ملک میں دلی اور آ سام سے سی اے اے مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کو یواے پی اے کے تحت دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جارہے ۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اس مضمون کی اشاعت کے بعد سے ہی یہ سلسلہ شروع ہواہے ؟اس مضمون کے گمراہ کن مفروضوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید اس لئے بھی ضروری تھی کہ یہ آر ایس ایس کے ترجمان اخبار میں شائع ہواہے اور موجودہ حکومت آر ایس ایس کے ایک سیاسی ونگ کے زیر اقتدار چل رہی ہے ۔ اس لئے حکومت اس کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر شاہین باغ کی تحریک کو غلط زاوئیے سے دیکھ سکتی ہے اور حالیہ چند گرفتاریوں سے اس کا اشارہ بھی مل رہاہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سی اے اے مخالف مظاہروں کو محض ایک گمراہ کن پروپیگنڈے پر مبنی مضمون کی بنیا دپر کوئی پالیسی مرتب نہ کرے بلکہ عوام کے حق اظہار رائے اور حق مخالفت کا احترام کرتے ہوئے محصور افراد کو رہا کرے ۔
۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here