حکومت نے مزدوروں کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دیاہے

0
30
حکومت نے مزدوروں کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دیاہے۔رویہ بدلنے کی ضرورت
حکومت نے مزدوروں کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دیاہے۔رویہ بدلنے کی ضرورت
  ڈاکٹر ابوذر اصلاحی  پھول پور آعظم گڈھ
  کوروناکی بیماری آج پوری دنیا پر مسلط  ہے اس کے اثرات کم و بیش ہر ملک میں  ہیں ۔ اس سے نجات ہماری تدبیر نہیں بلکہ تقدیر ہی دے سکتی  ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کی حکومت سے لے کر عوام تک اپنا رویہ تبدیل کریں اور ہر طرح کی دھونس دھاندلی ظلم و زیادتی کالابازاری تعصب مذہب و ملت کی تفریق الغرض کی ہر وہ خرابی ختم کریں جو شیطان کا خاصہ ہیں اور انسان بنیں اور انسانیت کا بول بالا کریں تاکہ مالک ہم سے خوش ہو۔لیکن  معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اتنی بڑی مصیبت سے ہم کوئی عبرت نہیں لے رہے ہیں بلکہ ہر کوئی اپنی دنیا میں مست ہے۔ سیاسی لوگ اپنی سیاست کی روٹی سینک رہے ہیں بزنس مین اپنی جھولی بھر رہے ہیں دکاندار تین کی چیزیں تیرہ میں بیچ  رہے ہیں کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اپنے نام نمود کے لیے فوٹو کھنچوا رہے ہیں مطلب یہ  کہ اس ہلاکت خیز مصیبت میں بھی اکثریت کے اندر خوف خلوص اور رحم نہیں ہے جو اپنا مفاد بھول کر غریبوں کی مدد کریں۔ ہماری حکومت کا رویہ بھی افسوسناک ہے جس کی سزا پورا ملک بھگت رہا ہے ہوا یہ کہ جب چین سے ہندوستانیوں کو لایا گیا تو انہیں کسی الگ مقام پر مستقل رکھنا چاہیے تھا اور انہیں ہر طرح کی سہولیات  وہیں دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی پروگرام کے تحت وہاں سے لایا گیا اور اس کی آڑ میں کچھ اور ہی گل کھلایا جانے لگا جس کی بھرپور تائید بھی کمل ناتھ سابق وزیر اعلی مدھیہ پردیش کا بیان کرتا ہے جو انقلاب 13 اپریل میں شائع ہوا تھا تھا جس کا آخری ٹکڑا ہے۔ ُُکو رونا کے سبب 26 مارچ تک کے لئے ایوان کی کارروائی اسپیکر کی جانب سے ملتوی کر دی گئی لیکن اس کا مذاق اڑایا گیا بی جے پی اور مرکزی حکومت کے لوگوں نے کہا کورونا ہے کہاں سب فرضی ہے۔ٗٗ سیاسی کھیل کھیلنے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے ایک بیماری نے چین، اٹلی،اسپین ،ایران ، وغیرہ میں مہاماری پھیلائی ہے اور بی جی کو مذاق نظر آرہا ہے۔ اور جب کھیل بن گیا تو و ہی مذاق مصیبت نظر آنے لگا اور لاک ڈاؤن کردیا گیا ۔اور اس کے ذریعہ عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا۔ لاک ڈاؤن  کرنا تھا تو حکومت کو چاہیے  تھا کہ بر جستہ کہتی  کہ ہر آدمی جہاں بھی ہے دو تین دن  کے اندر اپنے گھر چلا جائے ہم ملک بند کرنے جا  رہے ہیں ۔ لیکن ہوتا کیا ہے ؟ عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے ایک دن  کا لاک ڈاؤن ہوگا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مزدور غریب کسان پردیسی بد سے بدتر حالت میں پہنچ گئے۔ اس پر مزید اضافہ یہ کہ سرکار نے بھی ان غریبوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور جب وہ بیچارے بھوکے پیاسے  پیدل نکلے تو بجائے کسی انتظام کے اور ان پر سختی کر دی۔ اب ان کو لانے کی بات ہو رہی ہے تو ان سے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے اور بڑے بڑے بھگوڑے کا قرض معاف کیا جا رہا ہے  ۔ آخر پی،ایم اکاونٹ میں  کروڑوں روپے جو آئے وہ کس غریب کو  دیا گیا؟ اس سے تو یہ لگتا ہےکہ نہ حکومت کی نیت صاف ہے اور   نہ ہی دینے والوں کی۔ لگتا ہے حکومت الیکشن کی تیاری اور مہاراشٹر گورنمنٹ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اور دینے والے نے اس غرض سے دیا کہ میں لاکھوں دونگا کروڑوں منافع لونگا اس معاملے میں دونوں مخلص نہیں ہیں ۔اگر ان کو غریبوں سے محبت ہوتی تو پیسہ سیدھے ان کے اکاؤنٹ میں ڈالتے۔ لیکن یہاں تو کچھ اور ہی غریبوں کے نام پر گیم کھیلنا تھا۔  پھر مذاق دیکھیں کہ  حکومت کس طرح سے کمانے پر لگی ہے۔ آج عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت اتنی گرچکی ہے کی جتنا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ جو تیل 45 سے 50 ڈالر فی بیرل تھا آج وہ پندرہ ڈالر فی بیرل ہو گیا لیکن نہ تو تیل نہ گیس نہ بجلی ا ورنہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی کی جارہی ہے بلکہ اوپر سے کمائی بڑھانے کے لئے ٹول ٹیکس بڑھایا جارہا ہے اور یہاں تک کہ ماسک وغیرہ جو فری میں دینا چاہیے تھا وہ  جی ایس ٹی لگ کر آ رہا ہے۔ کہاں دہلی الیکشن میں بی جے پی دعویٰ کر رہی تھی کہ اگر ہماری حکومت بنے گی تو ہم بجلی فری  کر دیں گے حالانکہ یہ بات کہنے کی نہیں تھی بلکہ جہاں تمہاری حکومت تھی وہاں فری نہ سہی سستی کرکے دکھانے کی تھی۔ کم از کم یوپی میں جہاں پر بجلی پورے ملک میں سب سے مہنگی ہے۔ جو حکومت اتنی بڑی مصیبت میں اپنی عوام کو کوئی پلان نہ دے سکے اس سے کتنی اور کیسی امید کی جاسکتی ہے اسے ہر عقل والا سمجہ سکتا ہے ۔  تاجر بہی اسی ڈھرے پر چل کر مال سمیٹ رہا ہے کسی کو کسی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کورونا کے آنے سے سب کی لاٹری کھل گئی اور سیاسی اور تجارتی ادارے مل کر غریبی نہیں غریبوں کو ہی ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ جو لوگ مالی اعتبار سے بہتر اور بیماری سے بچے  ہیں ان پر یہ وقت امتحان ہے ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی روش سے قدرت کے انتقام کی زد میں  آجائیں۔ اسی بیماری میں اس سے بھی خطرناک بیماری میڈیا اور بی جی پی پھیلا رہی ہے کہ کورونا وائرس جماعت تبلیغ والوں سے پہیلا ہے سوچیں بیماری کو بھی فریق بنا دیا گیا اور اس کی مخالفت میں مودی جی کا بیان تب آیا جب یہ زہر میڈیا نے لوگوں کی نس نس میں بھر دیا۔ کون سی ذمہ داری اور انسانیت پیش کی جارہی ہے۔میڈیا کے پاس کوئی کام نہیں بچا ہے صرف جھوٹ بیچنے اور نفرت پھیلانے کے۔ یہ نہایت شرمناک بات ہے ۔میڈیا کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے میڈیا کاکام خرابی پر تنقید کرنا  اصلاح کرنا خواہ کسی جانب سے ہو اور اپنی عوام کوصحیح واقفیت دینا ہے۔لیکن ہماری میڈیا توسب کو سپر سیڈ  کرچکی ہے۔ اگر میڈیاکا یہی حال رہا تو یہ کسی دن ملک کو بلاوجہ جنگ میں جھونک دے گی۔اب میڈیا اور بی جے پی دونوں بتائںں کہ  اگرکرونا تبلیغیوں سے پہیلا تو چین سے جو آئے تھے وہ کہا لےکر آئے تھے؟ان کا یہی رویہ شک میں ڈال رہاہےکہ آیا واقعی اس بیماری کا اثر بڑے پیمانے پر ہے بھی یاکسی مفاد کے تحت عوام کو ہڑکا کرگھروں میں قید رکھنا ہے۔اوراگر واقعی یہ بیماری بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے جیسا کہ  میڈیا بتارہاہے تو لاک ڈاؤن کا مقصد اوربے مقصد لاک ڈاؤن کب تک ؟ ہاں مقصد بی جی پی  کا حل ہو رہا ہے۔ مدھیہ پردیس کی سرکار بن گئی، شیلا نیاس ہو گیا،این آر سی احتجاج ختم ہوگیا، دہلی فساد کی کہانی ٹھن8ڈے بستے میں چلی گئ، کشمیر مسٔلہ ختم ہوگیا، بے روزگاری اور مہنگائی پر تبصرہ بند ہوگیا ،مسلمانوں پر بدنامی کا کالک مل دیا گیا اور اپنی ہر طرح کی ناکامیوں کو دفن کر دیا گیا۔یہ ہے ہماری حکومت کی پالیسی جس میں امیروں کےلئےتو بہت کچھ ہے غریبوں کےلئے کچھ نہیں۔یہ چیز زار روس کے عہد کو تازہ کر رہی ہے۔اب یہ عوام کے سوچنے کا کام ہے کہ وہ اس طرح کی پالیسیوں کے ساتھ کتنی دیر چل سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here