اسلام کا ہر قانون اپنے بندوں کی فلاح اور آسانی کے لئے ہے”

0
49
اسلام کا ہر قانون اپنے بندوں کی فلاح اور آسانی کے لئے ہے
اسلام کا ہر قانون اپنے بندوں کی فلاح اور آسانی کے لئے ہے"

عارفہ مسعود عنبر، مراداباد

رمضان کا تیسرا عشرہ چل رہا ہے عنقریب ہی عید آنے والی ہے حدیث شریف میں ہے کہ رمضان کا چاند دکھتے ہی اللہ کریم کی رحمتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے،رمضان کے مقدس مہینے میں شیطان کو زنجیروں میں قید کر دیا جاتا ہے اور اللہ کریم اس ماہ مقدس میں ہر عبادت کا ثواب 70 سے 700 گنا بڑھا دیتا ہے ،لیکن اسلامی تاریخ میں یہ پہلا رمضان ہے جس میں رمضان المبارک کے اس مہینے میں شیطان سے پہلے ہی انسان گھروں میں قید ہے ،مسجدوں کو بند کر دیا گیا ہے ہم مساجد میں عبادت نہیں کر سکتے ،تراویح کی نماز نہیں پڑھی جا سکتی ،ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے سڑکوں پر ویرانیاں چھائ ہیں ،عید کی نماز بھی عیدگاہ میں پڑھنا ممنوع قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ کورونا وائرس
تمام عالم پر قہر بن کر نازل ہوا ہے اور اس سے حفاظت کے لئے ہی ہم سب کو ان تدابیر پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، کہ ہم ایک دوسرے سے دور رہیں،دوری بنا کر رکھیں ایک جگہ جمع نہ ہو، بھیڑ جمع نہ کریں مومنین کے لیے یہ انتہائی کرب ناک عمل ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں اپنی عبادت گاہوں سے دور ہیں ، ہمیں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اپنے آپ کو پیش کرکے خود سے سوال کرنا چاہیئے کہ اے میرے رب ہم سے ایسا کون سا گناہ عظیم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارا رب ہم سے اتنا خفا ہو گیا کہ اس نے ہمیں اپنے در سے محروم کر دیا ،ہمیں مساجد میں جانے سے روک دیا گیا ،ہمیں اپنی حیات کا جائزہ لینا ہوگا ،اپنی شخصیت کا ادراک کرنا ہوگا ،اور اللہ تبارک و تعالی کی ناراضگی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی، رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے ہمیں اپنے رب کو راضی کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم پر رحم و کرم فرما دے ،وہ رب العالمین بہت پاک ہے، رحیم ہے ،کریم ہے ،ستار ہے غفار ہے ،وہ ہماری خطاؤں کو بخش دیگا اور یقیناً ہم پر رحم فرمائے گا ،کورونا وائرس کے قہر کے سبب اس وقت ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات بہت خراب ہو گئے ہیں ان حالات نے غریب، مزدور ، یومیہ کامگار محنت کش افراد کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے روز کما کر گزارہ کرنے والوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں اپنے گھر کے اخراجات سہولیت کے ساتھ چلا سکیں ان کے کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں گھر کی دوسری ضروری اشیاء کے لئے بھی رقم نہیں ہے ،لیکن اسلام اتنا خوبصورت مذہب ہے جس نے ہماری حیات کے ہر پہلو کو ہی خیال میں رکھ کر اسلامی شریعت کے قوانین تیار کیے ہیں کہ اس نے ہر صاحب نصاب پر انکی جائداد کا ڈھائ فیصد مال غریب پڑوسیوں رشتہ دار ،احباب ،کے لیے طے کیا ہے ،اس وقت ہمیں اپنے آس پاس پڑوسی رشتہ داروں میں پتہ لگائیں کہ کس کے پاس کھانے پینے کو نہیں ہے اور اگر کھانے پینے کا سامان ہے بھی تو دوسری ضروریات کے لیے پیسے ہیں یا نہیں ایسے غریبوں کی مدد ہمارا فریضہ اول ہے ،،حقیقت یہ ہے کہ عید انعام خدا وندی ہے جسے اللہ تعالیٰ روزوں کے اختتام پر رکھا ہے حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ عید الفطر کی رات کو آسمانوں میں لیلتہ الجزاء یعنی انعام کی رات کہا جاتا ہے ،نبی کریم کا فرمان ہے جس نے اللہ کے لیے عید کی رات میں عبادت کی اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے یعنی قیامت کے دن جب لوگوں پر سختیاں ہوں گی اس دن ان راتوں کی قدر کرنے والوں کے دل بالکل بے خوف ہو۔ گے،عید کی رات اللہ کریم اپنے بندوں کو انعام سے سرفراز کرتا ہے اور جب اس کی صبح ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیج دیتا ہے ،وہ زمین پر اتر کر تمام سڑکوں اور گلیوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو انسان اور جنات کے علاوہ تمام مخلوقات سنتی ہے پکارتے ہیں ،اے محمد کی امت اس رب العالمین کی بارگاہ میں چلو جو بہت زیادہ عطاء کرنے والا ہے اور تمام قصور معاف کرنے والا ہے،اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ اے فرشتوں میں نے ان کے رمضان کے روزے اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضاء اور مغفرت عطا کر دی اور بندوں سے خطاب فرماء کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندوں مجھ سے مانگو میرے جلال کی قسم، میری عزت کی قسم ،آج کے دن میں تمہیں عطا فرماؤں گا ،اور تم آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطا کرویں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اس میں تمہاری مصلحت پر عمل کروں گا ،میری عزت کی قسم جب تک تم میرا خیال کروگے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا، میری عزت کی قسم ،میرے جلال کی قسم ،تمہیں مجرموں کے سامنے ذلیل اور رسوا نہیں کروں گا بس اب بخشے بخشاے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ،تم نے مجھے راضی کر دیا اب تم بخشے بخشاے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ،تم نے مجھے راضی کر دیا میں تم سے راضی ہو گیا لیکن اس بار ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اپنے اللہ کو راضی کرنے عید گاہ کے میدان میں اجتماع نہیں کر سکتے اس لیے ہمیں اپنے اپنے گھروں پر رہ کر ہی اپنے رب کو راضی کرنا ہوگا اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے اختتام کی خوشی میں شکریہ کے طور پر مسلمانوں پر صدقہ مقرر فرمایا ہے جسے صدقہِ فطر کہتے ہیں اس کا ایک فایدہ حدیث شریف میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رمضان شریف کے روزوں میں جو فضول اور بے کار باتیں ہو جاتی ہیں صدقہِ فطر ان کو ختم کرکے روزے داروں کو بالکل پاک صاف کر دیتا ہے عید کی نماز کو جانے سے پہلے صدقہِ فطر ادا کر دیا جانا چاہیے،صدقہ فطر ہر صاحب نصاب پر فرض ہے اور اپنی جانب سے اور اپنی اولاد کی جانب سے اداء کرنا واجب ہے ،عید کے موقع پر غریبوں کا خیال رکھنا اور انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کرنا بھی صدقہِ فطر کا مقصد عظیم ہے ،اللہ کریم کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسے عظیم پاک اور خوبصورت مزہب،مزہب اسلام میں پیدا کیا ہے جس کا ہر قانون اپنے بندوں کی فلاح اور آسانی کے لیے مقرر کیا ہے ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here