عیسیٰ بلوچ ۔۔۔ اپنے فن کے آئنے میں افروز عالم

0
63
عیسیٰ بلوچ ۔۔۔ اپنے فن کے آینے میں
عیسیٰ بلوچ ۔۔۔ اپنے فن کے آینے میں

Image result for afroz alam

 

 

اشتراکیوں کی روحوں کا مجموعہ عیسیٰ نسلاََ بلوچ ہے۔ کال مارکس ، سید سجاد ظہیر ، فیض احمد فیضؔ جیسے فلسفیوں سے روحانی فیض حاصل کرتے کرتے ، نجم عکاشی جیسے کہنہ مشق شاعر سے مشورہ ٔسخن بھی رہے، اور پھر سبھی کی تعلیمات کو اپنے وجود اور ذہن کے اندر جذب کر لینے کے بعد کویت میں نثری نظموں کے نما ئندہ شاعر تسلیم کیے گئے ۔ آپ کی نظموں میں خوب صورت اور با معنی لفظیات کا استعمال محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ مشاعروں میں آ پ اپنی نظموں کو بہت دھیمے انداز میں سامعین تک پہچاتے ہیں۔آپ کی تخلیقات ہند وپاک کے علاوہ بیرونِ ممالک کے رسالوں میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں ۔ آپ کی نظموں کا مجموعہ “لفظوں کی پھوار (2008) ” اور شعری مجموعہ ” سفر پہ خوشبو نکل رہی ہے (2015) ” میں منظر عام پر آچکی ہے۔ ۲ فروری ۱۹۶۲ء کو آپ کی پیدائش کراچی کے علاقے لیاری میں ہوئی تھی۔ کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ صحافت سے بھی جڑے رہے۔ فرصت کے اوقات میں خوب خوب کرکٹ بھی کھیلا ۔ تعلیم و تربیت کے بعد عیسی بلوچ کی جو شخصیت و ذہنیت ابھر کر سامنے آئی تھی ، اس کے ساتھ پاکستان کے ماحول میں زندگی کرنے سے بہتر تھا کہ ـ حضرت ہجرت کر جاتے۔ تعلیم کے بعد رزق و معاش کا مسئلہ بھی درپیش تھا، ایسے میں عیسی بلوچ نے کویت کا رخ کیا، اور تلاش رزق کے بہانے سن ۱۹۹۱ میں کویت پہنچ گئے۔ سن ۴۰۰۴ میں جب انجمن ارباب فکر و فن(کویت) کا قیام ہوا ، تو دیوان ادب(خیطان) میں بلترتیب ادبی نششتوں کا اہتمام ہوا، اسی دوران ایک روز جناب نجم عکاشی کے ہمراہ عیسی بلوچ کی آمد ہوئی، عیسیٰ بلوچ سے میری پہلی ملاقات وہیں ہوئی تھی۔ عیسی سے ملاقاتوں کا دور شروع ہوا، جو رفتہ رفتہ گہری رفاقت میں تبدیل ہوتا گیا، ان دنو ں ہم لوگوں کی قریب قریب ہر روز ہی ملاقات ہوتی تھی، غیر رسمی ادبی محفل جمتی اور گھنٹو ادبی گفتگو ہوتی، ان محافل میں زیادہ تر نجم عکاشی صاحب (مرحوم) ، سعید روشن صاحب، جسبیر سنگھ دھیمان صاحب، صفدر علی صفدر، ساجد علی ساجد، بدر سیماب، کبھی کبھار محترم شاہد حنائی صاحب کے علاوہ اور بھی کئی ادبی دوست شامل ہو جاتے، یہ محافل کبھی مرقاب تو کبھی فروانیہ کے کسی مطم میں، کبھی میری رہائش گاہ، کبھی کامریڈ جاوید کا گھر، کبھی حاجی اشفاق حسین کا ڈیرہ ، کبھی عیسی بلوچ کے حجرے میں سجتی ۔ ان محافیل کی روداد بڑی طویل ہے، اس حوالے سے ساجد علی ساجد، جو کہ مارچ ۲۰۱۰ میں فیصل آباد، پاکستان منتقل ہو چکے ہیں، آج کل کویت کی یادداشت لکھ رہے ہیں، امید ہے یہ تحریر بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہوگی۔
کویت کے ادبی حلقے میں جب گروہ بندیاں اپنے عروج پر پہونچی تو کئی نئے چہرے رخِ ادب پر نظر نواز ہوئے۔ چشم ادب کی ان سے جب آنکھیں چار ہوئیں تو یہ بھید کھلا کہ کسی میں بلا کی فکر ہے تو کسی میں طلسماتی تغزل ۔ ان ہی نئے چہروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے راقم الحروف نے ایک شعری مجموعہ مرتب کیا، جس کا نام ’’فصلِ تازہ ( اشاعت:۔ ۲۰۰۵) ‘ ‘ تجویز کیا گیا ۔ ۱۶ ؍اہلِ قلم اپنی فنّی صلاحیت کے ساتھ ’’فصلِ تازہ ‘‘ میں دیکھے گئے۔ ان دنوں فیس بک اور واٹس اپ جیسی برق رفتار مڈیا کاظہور نہیں ہوا تھا۔ خلیجی ممالک سمیت پاک و ہند میں اس کتاب کی بہت دھوم مچی۔’ ’ فصلِ تازہ ‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کئی بڑے ادیبوں نے ان قلمکاروں کی فنی صلاحیت کی نشاندہی کی اور مستقبل میں اور بہتر ی کی امید باندھی ۔ اسی ۱۶ کی فہرست میں ایک نام جواں فکر شاعر عیسیؔ بلوچ کا بھی تھا ۔ جن کی فنّی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے معروف ادیب و شاعر جناب محمود شاہد نے ؔ لکھا
” عیسی بلوچ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں ۔ان کی نظموں میں تازہ اور کشادہ فضاؤں کا احساس ہوتا ہے۔ ان میں اپنی بات کہنے کا سلیقہ اور ہنر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں جہاں بیان کا حسن ہے وہاں معنی کی دلکشی بھی ہے۔ لفظوں کو بڑی کفایت شعاری اور احتیاط سے برتتے ہیں۔ جس کے سبب نظم میں غیر ضروری پھیلاؤ اور جھول نظر نہیں آتا ۔چھوٹے چھوٹے جملوں پرمشتمل نظمیں متاثر کرتی ہیں”۔
آج کل کے بیشتر شعرا کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کی شاعری کی اصل روح کیاہے،تاریخ،فلسفہ، ثقافت، عالمی سیاست کا منظر ا ور اس کا پس منظر، تغیرات کی وجوہات وغیرہ سے ان کو کوئی سروکار نہیں، بس کسی طرح سے کسی عالمی مشاعرے کے پوسٹر پر ان کی تصویر شائع ہو جائے، جس کے ذریعہ وہ عالمی شہرت یافتہ کے لقب سے سرفراز ہو جائیں، مشاعرے کے اسٹیج پر چاند چہرے دیکھنے کے دھن میں یہ بات سرے سے یاد ہی نہیں ر ہتی ہے کی کبھی کسی کتاب کا مطالعہ بھی کرناہے، ایسے شاعر نماز جمعہ سے پہلے ہونے والے خطبہ اور فرقہ پرست رہنمائوں کی تقریر کے زیر اثر اپنے فن کی تخلیق کر نے کے لئے مجبور ہیں ، جو کہ مصرع سازی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے، میرا خیال ہے کہ شاعر اگر مطالعہ اور غورو فکر نہیں کر سکتا ہے تو وقت بربادکرنے سے بہتر ہے، کوئی اور کام کر لے۔
میں یہ بات بہت ایمانداری سے کہ رہا ہوں کہ عیسی بلوچ جیسا شاعر آج کل بہت ہی کم ملتے ہیں، جو چار ہزار سال کی تاریخ، مختلف جغرافیہ میں رائج ریتی رواجوں اور رہن سہن کا علم، اور مارسسٹ دانشوروں کی لکھی ہوئی کتابوں کا عمیق مطالعہ کرتے ہوں۔ کراچی جیسے کثیر آبادی والے شہر میں پلے بڑھے عیسی ؔ بلوچ نے کراچی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کی ڈگری تو حاصل کی ہی ہے ، لیکن ایک عمر اسکولوں کالجوں میں وقت صرف کرنے سے یہ ضروری نہیں کہ ہر وہ انسان جو ایم اے کی ڈگری رکھتا ہو وہ وعیسی بلوچ کی طرح دور اندیس اور معاملہ فہم بھی ہو ۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کے کلاس کے اور بھی کئی ایسے طالبِ علم ہوتے جن کے قلم سے ’’ ایک نئی دوزخ اور نہ بنا لینا‘‘ جیسی فکر انگیز نظم تخلیقِ عمل ہوتی ۔ عیسی ؔ بلوچ نے بہت ساری خوبصورت نظمیں کہیں ہیں۔ ایک طویل نظم ’’ تم نے کہا تھا‘‘ سے ایک بند ملاحظہ فرمائیں۔

دیکھو میرا قد
جہاں تاب آفتاب سے بھی سوا ہے
وہ جس نے
کائنات کی جان ِ آفریں کو
اپنی بانہوں میں
سمیٹ رکھاہے
چاند تاروں کے لئے
جو آئینہ ٔ تمثال ہے
میرے قدموں کو
چھو‘نے سے قاصر ہے

’’ تم نے کہا تھا‘‘ ایک قدر طویل نظم ہے جس میں شاعر کی خیالی دوست ایک شام کی ملاقات میں شاعر سے محو گفتگو ہے۔ مزکورہ پیش خدمت بند میں عیسیؔ بلوچ کی تخلیقی صلاحیت ، الفاظ اور خیال کو منظم کرنے کا ڈھنگ بلکل واضح ہے۔ الفاظ کو صوتی آہنگ دے کر خوبصورت لفظوں سے مصرعوں میں  نکھار پیداکرنے اور تغزل بھر دینے کے فن سے واقفیت نظر آتی ہے۔ عیسیؔ بلوچ ترقی پسند تحریک کے حامی اور اس کے وکیل بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے مطالعے کو بروئے کار لاتے ہوئے، مارسسٹ نظریہ کے تناظر میں اس نظم کی تخلیق کی ہے اور بہت ہی خو بصورتی سے کامیابی حاصل کیا ہے۔ ان کی نظموں میں اپنے نظریئے کی پاسداری اور اس سے محبت عیاں ہے، جو کہ کسی بھی طرح چھپائے نہیں چھپتی ۔عیسی بلوچ کا مطالعہ بہت ہی عمیق ہے، اس لئے ان کی فکر میں گل خان نصیرؔ ، م۔ ر۔حسانؔ اور اجمل خنکؔ جیسے مفکروں کا شعور بھی شامل ہے۔ فکر کی پرواز جب جنون کی حد میں داخل ہوتی ہے تو ’’ ردِّ عمل‘‘ ’’مزاج کا پیرہن‘‘ ’’اے میرے شعور‘‘ اور ’’منڈی‘‘ جیسی فکر انگیز نظموں کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ فیض احمد فیضؔ کی نظموں جیسی کو ملتا اور پروین شاکرؔ کی نظموںجیسی حیا بٹورے ہوئے یہ نظمیں گھونگھٹ کی آڑ سے ہر کیفیت بیان کر رہی ہیں۔ بول تری آوازمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایسی ہی نظم ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔

دیکھ بدن کی کیفیت سے
پھول اظہار کے جھڑتے ہیں
خاموشی کے عالم میں بھی
آنکھیں باتیں کرتی ہیں
چاہ کا پنچھی سانس کی لَے پر
گیت خوشی کے گاتا ہے
بند لبوں پر مہر حیا کی
لفظوں سے دھل جاتی ہے
بول تری آواز میں جاناں
دیپک کی تاثیر رچی ہے

بدن کی کیفیت ، اظہار کے پھول، چاہ کا پنچھی، سانس کی لے، جیسے الفاظ کا مرکب حیا کی مہر اور دیپک کی تاثیر کو سمھنے کے لئے بہت خوب اشتعارہ ہے، شاعر نے اس نظم میں اشاروں اور کنایوں کا خوب خوب استعمال کر کے مصرعوں میں خوبصورتی اور بلاغت بھر دیا ہے، جو قاری کے ذہن پر اپنا اثر دیر تک بر قرار رکھتی ہے۔ یہ کیفیت کئی ایک نظموں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لفظوں کی دھڑکن میں کیفیات، مناظر، واقعات اورحسن کا سنگم بنا نظم ’ ’محیط‘‘ میں لیل و نہار کو کس طرح پیش کیا گیا ہے۔، محسوس کریں
محیط
صبح کا منظر
یوں لگتا ہے
جیسے سورج نئی تمازت لئے
زمیں کی کوکھ سے جنم لے رہا ہو

شام کا منظر
یوں آنکھوں میں اترتا ہے
جیسے جہاںتاب آفتاب
دن بھر کی مسافت سے چو‘ر
زمیں کی گود میں سونے کو بیقرار ہو
چہار جانب نظر دوڑاؤ
تو یوں گماں ہوتا ہے
جیسے آسماں
زمیں کے کان میں کچھ کہہ رہا ہو
مگر شب و روز کا یہی منظر ہے
کہ کھلتا ہی نہیں
ایک دائرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ٹوٹتا ہی نہیں

قیام کویت کے زمانے میں میرے چند خاص دوستو میں سے عیسیٰ بلوچ بہت ہی اہم دوست ہے ، سن۲۰۱۵ آتے آتے قریب قریب سبھی سنیئر شاعر دوست کویت چھوڑ کر اپنے اپنے ملک چلے گئے ، کچھ اللہ کو پیارے بھی ہو گئے، اپریل ۲۰۱۸ میں بھی کویت کو خیر آباد کہ کر دبئی منتقل ہو چکا ہوں۔ مارچ ۲۰۱۹ میں عیسیٰ بلوچ نے بھی رخت سفر باندھ لیا، وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ کراچی میں رہنے لگا ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ صخت مند رہے۔۔ ۔۔۔۔۔ اور لکھتا رہے ۔۔۔ابھی اس سے اور بہتر۔۔۔۔ اور کومل ۔۔۔۔اور فکر انگیز نظموں کی امید باقی ہے۔۔۔۔۔

افروز عالم ۔ صدر، گلف اردو کونسل

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here