اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنی ہے

0
25
*اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنی ہے
*اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں کرنی ہے
سرفراز احمد ملی القاسمی حیدرآباد
ایک ماہ سے زائد ہوگیا ہمارا یہ ملک تاریخ کے عحیب اورنازک دور سے گذررہاہے،ہرطرف احتجاج احتجاج کی صدا اورعام ماحول ہے،اور اس احتجاج میں کسی ایک طبقے کے افراد ہرگز شامل نہیں، اس میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے،عمر دراز خواتین بھی ہیں،80/90 سال کے بوڑھے مرد بھی،چھوٹے چھوٹے بچوں کے علاوہ نوجوان جو تعلیم اوراپنا کاروبار سب کچھ بھول کر اس تحریک کاحصہ ہیں،اس میں کسان بھی ہیں، ڈاکٹروں کی ٹیم بھی ہے،کورٹ سے وابستہ سابق جج اوروکلاء بھی ہیں اسکول و یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء بھی،تجارت اورکاروباری حضرات  بھی،آخر پہ سب لوگ کیوں اس تحریک میں شامل ہیں؟کیااسکے پیچھے کوئی سیاسی لیڈر ہے؟کیایہ آواز کسی لیڈر نے اٹھائی ہے؟اسکا جواب یہ ہے کہ یہ سب تحریک کاحصہ اسلئے بنے ہیں کہ اگر انصاف کی جنگ اگر ہم ہار گئے تو ملک آنے والے وقت میں غلامی کے اندھیروں میں چلاجائے گا،ملک تقسیم ہوجائے گا اور فسطائی طاقتیں اس بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گی،یہ تحریک کسی سیاسی لیڈر کی آواز پر ہرگز نہیں چلی ہے اورنہ ہی اس میں کوئی سیاسی لیڈر شامل ہے،ملک کھوکھلا کردیا گیا،خزانہ خالی ہے اور خبر یہ بھی ہے کہ پھر حکومت نے آربی آئی سے ایک بڑی رقم یعنی 45 ہزار کروڑ طلب کیا ہے،اس احتجاج  میں شامل افراد کا عمومی خیال یہ ہے کہ یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے جھوٹے وعدے اور جھوٹ درجھوٹ پر یہ حکومت قائم ہے،ملک کے شہریوں کی ہرگز انہیں کوئی فکر نہیں،نفرت انکا ایجنڈا اور اوڑھنا بچھونا ہے اور اسی نفرت کے کھیل سے یہ اپنی حکومت چلانا اور بچانا چاہتےہیں، لیکن انھیں شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ملک ہندوستان  اوراسکی سرزمین نفرت کی پجاریوں کو ہرگزبرداشت نہیں کرسکتی،محبت اسکے خمیر میں ہے اورسالوں سے یہ ملک امن سلامتی اور محبت کاگہوارہ رہاہے،اسکی تاریخ میں محبت پنہاں ہے اسکو نفرت کے ایجنڈے سے ہرگز نہیں چلایا جاسکتا،بس اسی لئے یہاں  کی عوام سڑکوں پر ہے،ایک سیلاب اور طوفان آیا ہواہے،دہلی سمیت مشرقی  ہند کی شدید سردی میں ملک کے باشندے سڑکوں پرسراپا احتجاج  ہیں، شاہین باغ کی زندہ دل اور بے باک خواتین 35 دنوں سے مسلسل کیمپ کئے ہوئی ہیں،جامعہ ملیہ، جواہر لال نہرو یو نیورسٹی دہلی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،گیا، پٹنہ،دربھنگہ سمستی پور، حیدرآباد چننئ اور کیرلہ سمیت درجنوں  شہروں میں اسی طرح کی صورتحال ہے اور وہاں خواتین نے بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر کیمپ کیاہواہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جارہاہے،اسکا دائرہ وسیع ہورہاہے،عجیب و غریب اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس تحریک کی قیادت کوئی سیاسی لیڈر نہیں کررہاہے،بلکہ کسی قائد کےبغیر یہ  ملک گیر تحریک انتہائی  جوش و جذبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،
سوال یہ ہے کہ کیااپنے حقوق کےلئے سڑکوں پر اترنا اور احتجاج کرنا جرم ہے؟پھر کیوں یہ سنگھی حکومت احتجاجیوں سے ظلم و بربریت کاسلوک کررہی ہے؟اس حکومت نے کیا نہیں کیا؟ جامعہ ملیہ، جے این یو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سمیت یوپی میں جس طرح حیوانیت کا کھیل کھیلا گیا اورجسطرح خون کی ہولی کھیلی گئی، حکومت و طاقت کا
جس بےدردی سے استعمال کیاگیا
یہ ملکی تاریخ کا حصہ بھی بنے گا اورتاریخ میں نمایاں حروف سے لکھاجائے گا،طاقت کاغرور اوراسکانشہ بلآخر انسان سے کرسی چھین ہی لیتاہے یہ الگ بات ہے کہ اس میں تھوڑی دیر ہی لگے لیکن اقتدار بہرحال ایسے ناہنجاروں سے چھن ہی جاتاہے،یاد رہناچاہئے،جسطرح حیوانیت کامظاہرہ کیاگیااور خون کی ہولی کھیلی گئی،گولیاں برسائی گئی 30سے زائد لوگ اب تک اپنی جان گنوا چکےہیں،ان میں سے اکثرکو پولس کی گولیوں کانشانہ بننا پڑا،جے این یو،جامعہ ملیہ اورعلی گڑھ اسکے گواہ ہیں کہ کس طرح وہاں درندگی کا مظاہرہ کیاگیا،مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ یہ سیاہ اور کالاقانون جولایا گیا ہے یہ درحقیقت سنگھیوں کا بھارت میں مسلم نسل کشی کا طے شدہ اور منصوبہ بند اعلان ہے،چنانچہ روزنامہ  سیاست حیدرآباد کے مطابق Genocide Watch کے بانی Dr Gregory Stanton  12 دسمبر 2019 واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سرکاری عہدے داروں اور کانگریس ممبران کوکشمیر اورNRC پر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان اسوقت یقنی طورپر نسل کشی کے راستے میں ہے،اور انھوں نے بتایا کہ آسام اور کشمیر میں مسلمانوں پر تشدد دراصل Genocide سے پہلے کا اسٹیج ہےاسکے بعد Extermination کامرحلہ آئے گا جس میں مسلمانوں کاقتل و خون کیا جائے گا اورانکو تباہ و برباد کیا جائےگا،واضح رہے کہ dr stanton نے نسل کشی کے دس مراحل بیان کئے ہیں اور یہ دس مراحل بہت مشہور و معروف ہوئے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں وہ دس چیزیں کیا ہیں؟1 Classification یعنی درجہ بندی” Us Versus Them” (ہم  بمقابل وہ)مثال کے طور پر ہندو بمقابل مسلمان،2 Sy mboliztion یعنی متاثرین کو” Foreigner” بیرونی جیسے نام دینا-جس طرح ارنب گو سوامی  جیسے لوگ آسام کے باشندوں کو بار بار Foreigners کہکر بلارہے ہیں
3 Discrimination تفریق کرنا یعنی متاثرین کو شہریت کے حامل افراد سے الگ کرنا تاکہ بحیثیتشہری انکے کوئی  حقوق نہ رہیں،4 Determinization  جب انکو شہریت سے محروم کردیں تو پھر انکو بدنام کیا جائے کہ وہ مثال کے طورپر دہشتگرد ہیں،یاانسان نہیں بلکہ بلکہ جانور ہیں،اسی طرح کی حرکتیں  موجودہ حکومت آسام کے باشندوں کے بارے میں کررہی ہے،5 Organization یعنی نسل کشی کرنے کےلئے کوئی  تنظیم بنانا،مثال کے طور پر کشمیر میں آرمی نے یہ کردار اداکیا،6 Polarization  یعنی  پرو پیگنڈہ  وغیرہ کے ذریعے متاثرین کو علیحدہ کرنا،7 Preparation یعنی تیاری کرنا،8Persecution یعنی جلاوطنی،جبروتشدد،دباؤ،کشمیراورآسام نسل کشی کےاسی آٹھویں مرحلے میںہے،اسکے بعد نواں مرحلہ ہے،9 Extermination قتل و خون اور تباہی وبربادی کا ہے،اس لحاظ سے کشمیر اور آسام تباہی اور قتل وخون کے دہانے پر ہیں، اسکے بعد دسواں اور آخری مرحلہ رہ جاتاہے جسکو Denied  ہے کہ اب سرے سے انکار کردیا جائے گاکہ کوئی  نسل کشی نہیں کی گئی ،یہ سب جھوٹ ہے،لوگوں کو گمراہ کیاجارہاہے،کوئی نسل کشی نہیں کی گئی، حالات قابو میں ہیں بلکہ ہندو دہشت گردوں کو ہی سزا دی گئی ہے،انھیں دس مراحل میں برما اورمیانمار میں نسل کشی کی گئی اور وہاں کی حکمراں”سوکی”نےبرملا فوج کی نسل کشی کی تردید کی ہے”(دیکھئے روزنامہ سیاست 20دسمبر  )
اوپر کے ان اقتباس سے آپ نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ موجودہ حکومت کے عزائم کتنے بھیانک اور خطر ناک ہیں،اور وہ ہندو راشٹر کے قیام کےلیے جلد بازی میں بھی ہیں،وہ بہر صورت یہ چاہتےہیں کہ بھارت کو ہندو راشٹر بنالیاجائے چاہے اسکےلئے جو کچھ بھی کرنا پڑے،دستور کی دھجیاں تو بہت پہلے سے اڑائی  جارہی ہیں،اسلئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ  CAA-NRC-اورNPR کے خلاف یہ لڑائی اور ہمارا احتجاج کرنا مسلمانوں کے جان و مال، اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے آئین اور انسانی حقوق کے تحفظ کےلئے ہے،لہذاٰ  ہمیں مکمل طور پر بیدار ہونا ہو گا،اور پوری طاقت و قوت کے ساتھ ملک میں جاری اس تحریک سے اپنی آواز ملانی ہوگی اوراسکو تقویت دینی ہوگی،نیز یہ جہد مسلسل اور عزم مصمم بھی کرنا ہوگا کہ اس کالے قانون کی برخواستگی تک ہماری یہ احتجاجی تحریک پوری شدت کے ساتھ جاری رہنی چاہئے،اس تحریک کو جاری رکھنا ہندوستان ہرباشندے چاہے انکا مذہب کچھ بھی ہو ہرایک کا فرض منصبی ہے اور وقت کی اہم ترین ضرورت بھی۔بھارت جو آزاد ہوا اس میں تقریباً دوسال کا ایک طویل عرصے کے بعد ہمکو آزادی ملی تھی لیکن افسوس پھر ہندوستانیوں کو غلام بنانے کی تیاری کی جاری ہے،اسلئے اس لمبی لڑائی کو لڑنے کےلئے عزم مصمم ضروری ہے،تب جاکر ضرور انشاءاللہ  انقلاب آئے گا، شاید کسی شاعر نے انہی حالات کےلئے کہاہےکہ
یہ رات بہت تاریک صحیح،یہ رات بھیانک رات صحیح
اس رات کے سینے سے پیدا اک صبح درخشاں  کرنی ہے
برائے رابطہ 8801929100
Attachments area

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here