قصیدے کے امام محمد رفیع سوداؔ کی غزل میں ذکرِ علیؑ ابنِ ابی طالبؑ

0
61
قصیدے کے امام محمد رفیع سوداؔ کی غزل میں ذکرِ علیؑ ابنِ ابی طالبؑ
قصیدے کے امام محمد رفیع سوداؔ کی غزل میں ذکرِ علیؑ ابنِ ابی طالبؑ

مرزا محمد رفیع سوداؔکو قصیدے کا امام کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے اردو قصیدے کو فارسی و عربی قصیدے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا لیکن وہ صرف قصیدے کے ہی بادشاہ نہیں بلکہ غزل گوئی میں بھی ان کا خاص مقام ہے۔وہ خاص مقام یہ ہے کہ انھوں نے غزل میں بھی قصیدے کا اسلوب اپنایا اور اپنی انفرادیت قائم کرتے ہوئے غزل کی ترویج و ترقی کے سلسلے سے بخوبی خدمت انجام دی۔انھوں نے قصیدے میں جو پر شکوہ انداز اپنایا تھا وہی غزل کے دامن میں بھی پرونے کی کوشش کی۔روایتی شاعری کے تحت انھوں نے غزل میں اپنے دور کے ان تمام اسالیب کو اپنایا جو روایتی غزل کے لئے ضروری تھے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں بہترین تشبیہات و استعارات وغیرہ کا خوبصورت استعمال کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔غزل چونکہ حسن و عشق سے عبارت ہے وہ اس سلسلے سے بھی پیچھے نہ رہے اورمیر تقی میرؔ کی ہمعصری کا حق ادا کرتے رہے۔انھوں نے غزل میں اپنے عقائد کا بھی اظہار کیا جس میں محبت اہل بیتؑ پیش پیش ہے۔خصوصاً حضرت علیؑ ابنِ ابی طالبؑ سے عقیدت و مود ت ان کی غزلوں میں نظر آتی ہے۔اس مختصر سے مضمو ن میںاجمالی طور پر یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوداؔ حضرت علیؑ کا ذکر اپنی غزلوں میں کس طرح کرتے ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ ان کے یہاں ذکرِ علیؑ زیادہ تر غزلوں کے مقطعوں میں پایا جاتا ہے جو ہمیں قلی قطبؔ شاہ کی یاد دلاتا ہے ۔قلی قطبؔ شاہ کی غزلوں کے مقطعوں میں اہلِ بیتؑ سے والہانہ محبت کا اظہار ملتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوداؔ جہاں اپنے عہد کے ادبی تقاضوں کو نبھا رہے تھے وہیں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر بھی قائم تھے۔
سوداؔ کو اپنی شاعری پر بڑا ناز تھا اس کی اصل وجہ حبِ علیؑ تھی۔ان کا عقیدہ ہے شعراء کے ہجوم میں ان کا امتیاز یہ ہے کے وہ حضرت علیؑ کے مداح ہیں چونکہ وہ ان کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں اس سبب سے وہ نہ صرف دنیا میں مقبول ہیں بلکہ ملائکہ کی نگاہ میں بھی محبوب ہیں ۔کہتے ہیں:
مداح علیؑ کا ہوں میں سوداؔ شعراء میں
پڑھتے ہیں ملائک مرے اشعار فلک پر
وہ درِ علیؑ کی خاک کو کیمیاجانتے ہیں اور ان کی آرزو ہے کہ انھیں درِ علیؑ کی خاک میسر ہو:
کیمیاخاکِ درِ شاہِ نجف ہے سوداؔ
حق تعالیٰ کرے اس طرح کی اکسیر نصیب
یعنی سوداؔ نہ صرف حضرت علیؑ کی ہستی سے محبت رکھتے ہیں بلکہ ان کے در کی خاک کو بھی اپنے لئے باعثِ شفا جانتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا خیال ہے کہ حضرت علیؑ کے نقشِ قدم کی بھی ایک بڑی عظمت و رفعت ہے۔ان کا خیال ہے کہ ان کے نقشِ قدم میں ایسا نورہے کہ سورج بھی ان کو دیکھ کر ششدر ہے:
نقشِ پائے شاہِ مرداں ہے منور اس قدر
جس کو سوداؔ دیکھ کر خورشید کا ہو دنگ دست
شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ انھوں نے حضرت علیؑ کا نام نہ لیتے ہوئے ان کا لقب استعمال کیا ہے یعنی ’شاہِ مرداں‘کہا ہے ۔یہ لقب اپنے اندر اسلامی جنگوں کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح حضرت علیؑ نے مشکل معرکوں کو سر کیا اور فاتحٔ خیبر و خندق کہلائے۔شعر کے دوسرے مصرعے میں ’خورشید کا ہو دنگ دست‘ کہہ کر جو جدت اختیار کی گئی ہے وہ بے ساختہ داد کے قابل ہے۔
سوداؔ کو حضرت علیؑ کے نقشِ قدم کی ہمہ وقت جستجو رہتی ہے جس کی مثال ایسی ہے جس طرح بادِ سحر گل کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے:
علیؑ کا نقشِ قدم ڈھونڈتا ہوں یوں سوداؔ
پھرے ہے بادِ سحر جوں سراغ میں گل کے
سوداؔ کے یہاں ایک مقام پر اور ’شاہِ مرداں‘ کا خوبصورت استعمال پایا جاتا ہے:
شاہِ مرداں تری امداد کریں گے سوداؔ
باندھ لے چل کے جو تیرا ہو عدو ہاتھوں ہاتھ
اس شعر میں جہاں ان کی شعری صلاحیت ،محاورہ بندی اور مخصوص اسلوب واضح ہے وہیںعقیدت و مودت کا چراغ بھی روشن نظر آتا ہے ساتھ ہی ان کا بے باکانہ اندازِ بھی مترشح ہے۔
حضرت علیؑ کو جہاں’ شاہِ مرداں‘ کہا جاتا ہے وہیں آپ کو’ مشکل کشا ئ‘ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جس کے پیچھے محبانِ اہل بیتؑ کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علیؑ کو مشکل میں پکارنا مشکل کو آسان کر دیتا ہے یعنی ان کے فیض و کرم سے عقدہ کشائی ہوتی ہے۔اسی خیال کے تحت وہ حضرت علیؑ کی مدح کرتے ہیں اور مکالماتی انداز اختیار کرتے ہوئے حضرت علیؑ سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حلِ مشکل کس سے ہو سوداؔ کی شاہا تجھ بغیر
کھولدے مشکل کشاعقدے مری مشکل کے کل
ان کا یقینِ کامل ہے کہ جو حضرت علیؑ کو مولا مانتے ہیں وہ دنیا میں کسی غم کسی تکلیف اور کسی رنج کا شکار نہیں ہوتے:
جن کا مولاہے علیؑ باغِ جہاں میں سوداؔ
وہ نہیں دل میں کسی طرح کا غم رکھتے ہیں
غرض یہ کہ سوداؔ کی غزلوں میں جا بجا ذکرِ علیؑ اور محبتِ علیؑ کی تصویریں نظر آتی ہیں انھوں نے غزل کے پیرائے میں مولا علیؑ کے مناقب بیان کئے ہیں جس کی دلیل میں ان کی غزلوں کے متعدد مقطعے پیش کئے جا سکتے ہیں

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی
ہلالؔ ہائوس
سول لائن علی گڑھ یوپی
موبائل:921978

  • article on ibne abi talib by wafa naqvi
  • sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here