اردو کا خاموش مجاہد افتخار امام صدیقی رخصت ہوا۔اب نہ لفظ ، نہ خامشی

0
79
اردو کا خاموش مجاہد افتخار امام صدیقی رخصت ہوا۔اب نہ لفظ ، نہ خامشی
اردو کا خاموش مجاہد افتخار امام صدیقی رخصت ہوا۔اب نہ لفظ ، نہ خامشی

افتخار امام صدیقی بھی رخصت ہوئے ،ایک عظیم ادبی شخصیت جو پوری زندگی خاموش مجاہد کی ۔طرح کام کرتے رہے،انھوں نے کئی نسلوں کی ٓبیاری کی ،افتخار صدیقی اردو ادب کا ایک ایسا نام تھا جس کو ان کی نیک نامی ان کی دینداری ان کی تہجد گزاری اور ان کی انسان دوستی کے لیے اتنا ہی جانا جاتا ہے جتنا ان کی شاعری کے لیے

درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے

سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

افتخار امام صدیقی 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے۔ ان کے دادا اردو ادب کے مشہور شاعر اور ادیب سیماب اکبرآبادی تھے۔ سیماب کے تقریباً تین ہزار شاگرد تھے۔ سیماب جب ممبئی آئے تو یہاں بھی انہوں نے ’’شاعر‘‘ کو جاری رکھا۔ بٹوارے کے بعد سیماب پاکستان چلے گئے۔ لیکن ان کے لڑکے اعجاز صدیقی پاکستان نہیں گئے اور آج افتخار امام نے ’’شاعر‘‘ کو جاری رکھا ہے۔افتخار امام کمرشیل شاعر تھے۔ ہندوستان وپاکستان دونوں جگہ پر مشاعرہ میں مدعو کئے جاتے تھے۔

ترنم سے پڑھتے تھے۔ سامعین انہیں پسند کرتے تھے۔ شاعر بھی اچھے ہیں۔ 2002ء کے حادثے کے بعد مشاعروں میں جانا بند کرنا پڑا۔ پہلے تو کچھ چل پھر سکتے تھے اب بالکل معزور ہوگئے ہیں۔ لیکن شاعر کا کام خود کرتے ہیں۔ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں تقریباً 100انٹرویو لے چکے ہیں جنہیں وہ اپنے رسالے میں شائع کر چکے ہیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ شعری مجموعے ’’چاند غزل‘‘ بھی تیار ہے۔ حادثے کے بعد بھی انہوں نے بغیر اصناف کے کئی نعتیں کہیں ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ 2004ء سے آج تک روزانہ اشراق کی نماز کے بعد ایک حمد اور ایک نعت کہتے ہیں۔ انشا اللہ اس کا صلہ انہیں ضرور ملے گا۔

افتخار امام اپنی شاعری میں اپنی دانشوری کا کمال دکھاتے ہیں۔ ہندوستان اور بیرون ہندوستان مشاعرے میں کلام پڑھنے جایا کرتے تھے۔ بچپن سے انہیں گانے کا شوق تھا۔ ان کے والد کے ایک شاگرد غزل سنگر تھے۔ ان سے کچھ سیکھا۔ ابتدا میں فلمی گانے اور غزلیں گایا کرتے تھے۔ ان کے دادا سیماب اکبرآبادی ان سے غزلیں سنا کرتے تھے۔

افتخار امام کی کئی غزلیں مشہور سنگر نے گائی ہیں۔ 11مارچ 2002 ءکو بدقسمتی سے کسی مشاعرے سے واپسی کے وقت جبلپور میں آپ ایک حادثے سے دوچار ہوئے اور اپاہج ہوگئے۔ حوصلہ دیکھئے اس حالت میں مسلسل ’’شاعر‘‘ نکال رہے ہیں ہزاروں لوگوں کو مطمئن کرتے رہتے ہیں۔

اپنے دادا سیماب اکبرآبادی کے رسالہ ’’شاعر‘‘ کو پابندی سے شائع کر رہے ہیں۔ آج بھی شعروادب کے ذخیروں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ ’’شاعر‘‘ کا ہر شمارہ ایک نئے موضوع پر شائع ہوتا ہے ایک ہی جگہ بیٹھ کر رسالے کے لئے اتنا مواد حاصل کرنا، یہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔

’’شاعر‘‘ نے چھوٹے بڑے سبھی شاعروں کا نمبر نکال کر ہم جیسے تذکرہ نگاروں پر بڑا احسان کیا ہے۔ میں نے اکثر شعروں کے مآخد کے طور پر شعرائے مہاراشٹر کے لئے استعمال کیا ہے۔ ورنہ شعراء حضرات کی لاپرواہی سے کون واقف نہیں ہے۔

تین بار ان کا آپریشن ہوا۔ 7 جنوری 2013ء کو دائیں پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مصیبت پر مصیبت سہتے جارہے تھے۔ٓخر کار یہ ذندگی کی ڈور ٹوٹ ہی گئی
کہ میرے حق میں تری بے ضرر دعا ہے بہت
ذرا چھوا تھا  کہ  بس  پیڑ آ گرا  مجھ  پر
کسے خبر تھی کہ اندر سے کھوکھلا ہے بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈوب جاے گی شور میں دنیا
لفظ ہونگے نہ خامشی ہوگی
۔مرحوم افتخار امام صدیقی

Article on Iftikhar Imam siddiqui

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here