موریشس کی پہلی صاحب کتاب خاتون کا خطاب۔آن لائن افسانہ خوانی کا انعقاد

0
40
موریشس کی پہلی صاحب کتاب خاتون کا خطاب۔آن لائن افسانہ خوانی کا انعقاد
موریشس کی پہلی صاحب کتاب خاتون کا خطاب۔آن لائن افسانہ خوانی کا انعقاد

آبیناز جان علی ۔موریشس

 

 

 

 

 

 

 

  ، گورنمنٹ ڈگری کالج فار وومن ، حیدرآباد کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبد القدوس کی سرپرستی میں زوم پر 14  مئی  2020,کومحفل افسانہ خوانی کا کامیابی سے انعقادکیا گیا۔ عالمی وبا کورونا وائرس پوری دنیا کو انٹرنیٹ کے ذریعے پہلے سے زیادہ یکجا کرنے میں کامیاب ہواہے۔ اس پروگرام میں نارتھ کیرولینا امریکہ کے شعبہ ایشین اسٹڈیز سے پروفیسر افروز تاج اور جناب جان کال ویل، چیف آف نیشنل بیورو، انقلاب، نئی دہلی سے ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد ڈاکٹر نہال افروز اور مہاتما گاندھی انسٹیی ٹیوٹ موریشس سے محترمہ آبیناز جان علی کی شرکت رہی۔
پروگرام ہندوستانی وقت کے مطابق دس بجے شروع ہوا۔ اس وقت موریشس میں صبح کے ساڑھے اٹھ بجے تھے اور امریکہ میں صبح کے دوبج رہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدوس نے تمام لوگوں کا استقبال کیا اور خوشی کا اظہار کیا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اردو سے وابستہ ممتاز شخصیتوں نے بھی اس محفل افسانہ خوانی کے لئے وقت نکالا۔ ڈاکٹر عبدالقدوس کی درخواست پر میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میں موریشس کے مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوت کے ثانوی اسکول ربندرناتھ ٹیگور سگنڈری اسکول میں اردو پڑھاتی ہوں اور ریڈیو آڑ جے بھی ہوں۔ ’پیچ و خم‘ میرا افسانوی مجموعہ ہے جو موریشس میں وزارتِ تعلیم و ثقافت کے تحت شائع ہوا ہے جس کی بدولت مجھے موریشس کی پہلی صاحب کتاب خاتوں کا خطاب نصیب ہوا۔ میں نے اپنا افسانہ ’طوفان‘ پڑھا۔ میں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ میں اپنے افسانوں میں موریشس کا پس منظر دکھانے کی کوشش کرتی ہوں اور میرے افسانوں میں خواتین اور ان کے مسائل مرکزی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ افسانہ پڑھنے کے بعد میں نے اپنا مضمون بعنوان ’موریشس میں اردو کی صورت حال ‘ پڑھا جس سے موریشس میں اردو کی ترقی کے لئے مختلف اداروں کا کردار اجاگر کیا۔ ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ ، ادب اورمختلف رسالوں کا بھی ذکر کیاگیا۔
سوال اور جواب کے دوران پروفیسر شوکت حیات جو ان دنوں امریکہ میں اپنی بیٹی کے یہاں مقیم ہیں، نے افسانے کے مطابق اپنی پسندیدگی کا اظہا رکیا اور یہ تجویز پیش کی کہ اردو اور کریول زبان کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جائے اور ای لرننگ بکس کا بھی فائدہ اٹھایا جائے۔ اس کے بعد ڈاکٹرممتاز عالم رضوی نے سوال کیا کہ افسانہ طوفان میں ریحانہ مظلوم تھی یا خالد؟ میں سمجھ گئی کہ ان کا اشارہ مرد اور عورت کی برابری کا ہے۔ میں نے بتایا کہ موریشس کے اردو ادب میں اب تک نسائی کردار کو گہرائی سے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے میں کوشش کرتی ہوں کہ اپنے افسانوں میں عورت کی نفسیات کا عمیق مطالعہ کروں۔ لیکن ساتھ ساتھ جیسے کہ مجھے صلاح دی گئی تھی میں مردوں کے جذبات پربھی زور دیتی ہوں۔ خالد کا کردار بتاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے غم میں موریشس چھوڑ کر انگلینڈ چلا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ بھی مظلوم ہے۔ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کا دوسرا سوال موریشس میں کرونا وائرس کے مطابق تھا۔ میں نے بتایا کہ اب موریشس کوئی بھی کووڈ ۱۹ سے متاثر نہیں ہے۔ دس لوگ فوت ہوگئے ہیں اور تین سو بتیس لوگ متاثر ہوئے تھے۔ لاک ڈائون ابھی بھی جاری ہے اور نئے قانون پر بحث و مباحثے چل رہے ہیں۔
دوسرا افسانہ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کا رہا۔ آپ نے موجودہ حالات کے تحت’لاک ڈائون ختم ہوا‘ کے عنوان سے اپنا تازہ افسانہ سنایا جس میں لاک ڈائون کی قید بھری زندگی کا نقشہ کھینچاگیا ہے۔ بعد میں سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب ممتاز عالم رضوی نے بتا یا کہ انہوں نے اپنے کرداروں کے لئے عام او ر آسان نام کا انتخاب کیا اور عورتوں کی صورتِ حال کے پیشِ نظر آپ نے استعاراتی نام گڑیا استعمال کیا جو چڑیا سے ہم آہنگ بھی ہے۔
اپنا افسانہ سنانے سے پہلے پروفیسر افراز تاج نے اپنا ایک تازہ موقع کا شعر سنایا ؎
خوابوں میں ترستے تھے تمہیں دیکھنے کو ہم
لو آج بادلوں میں ملاقات ہوگئی
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ ان دنوں فارسی ٹھئیٹر پر تحقیقی کام کررہے ہیں۔ اندرسبھا کی کتاب کا اہل امریکہ کے لئے انگریزی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ پروفیسر افروز تاج نے تقسیم ہند پر اپنا افسانہ ’پنجرے کے لعل‘ سنایا۔ یہ افسانہ یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے اورجناب جان کال ویل نے اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیاہے۔ سوال جواب کے دوران پروفیسر افروز عالم نے واضع کیا کہ تقسیمِ ہند پرانا موضوع نہیں ہے کیونکہ آج تک اس کے اثرات محسوس کئے جاتے ہیں۔ وہ ذاتی طور پر اس سے متاثر ہوئے اور ان کا خاندان منتشر ہوگیا۔
بعد ازآن ڈاکٹر نہال افروز نے اپنا افسانہ ’کفن کی دکان‘ سنایا۔ یہ افسانہ نوجوانوں کے حالات کی ترجمانی کرتا ہے۔ بے روزگاری اور نوکری میں نماز ادا کرنے کی پریشانی جیسے حقیقی مسائل پر بات ہوئی ہے۔ جناب ممتاز عالم رضوی نے بتایا کہ کہانی میں حقیقت نگاری ہے۔ کچھ وقت پہلے نماز پڑھنے کے مسئلے پر کسی کی نوکری چلی گئی تھی۔
اظہارِ تشکر میں امریکہ سے جناب جان کال ویل نے صدرِ شعبہ اردو کو اس کامیاب نشست کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے پڑھے گئے افسانوں پر اپنی رائے پیش کی۔ انہوںنے فرمایا کہ انہیں افسانہ’ طوفان‘ میں موسم اور جذباتی طوفان کا تقابلی جائزہ اچھا لگا۔ افسانہ ’لاک ڈائون ختم ہوا ‘ میں حالات کا مناسب بیان ہوا ہے۔ افسانہ ’پنجرے کے لال‘ ان کے استادِ محترم کی کتاب ہے جس کو ہر بار سننے میںانہیں خوشی ہوتی ہے۔ چوتھا افسانہ ’کفن کی دکان‘ میں دردناک اور افسوس ناک واقعہ کو خوبصورت الفاظ میں لکھا گیا ہے۔ جناب کال ویل نے خوشی ظاہر کی کہ ڈاکٹر عبد القدوس نے سب کو اکھٹا کیا اور اردو کا ماحول پیدا کیا۔
امریکہ میں اردو کی صورتِ حال پر میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر افروز تاج نے بتایا کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میںشعبہ ایسین اسٹڈیز میں حروف تہجی سے ادب تک پڑھایا جاتا ہے۔ جان کال ویل اس کی کامیاب مثال ہیں۔امریکہ میں پچاس سے اوپر یونیورسٹیزہیں جہاں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر مہینے اردو کی محفلیں سجائی جاتی ہیں جہاں نثر نگار اور شاعر اپنا کلام سناتے ہیں اور وہاںاچھے شاعراور اچھے نثر نگار موجود ہیں۔
جان کال ویل صاحب نے بتایا کہ انہوں نے مشیگن میں اردو کا کورس کیا اور بقول ان کے ’اردو کے سمندر میں ڈوب کے پار ہوئے۔‘ وہ ہر سال امریکہ سے اپنے طلباء و طالبات کو ہندوستان لاتے ہیں اور دہلی سے ہوتے ہوئے حیدر آباد، راجستھان اور آگرہ وغیرہ جاتے ہیں۔ اس طرح ان کے طلباء کو امریکہ سے باہر قدم رکھنے کا بھی موقع ملتا ہے اور وہ نئی زبان اور وہ نئی تہذیب سے روشناس ہوتے ہیں۔ وہ پچھلے سال کے خوش گوار یادوں کو اب بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں جب وہ اپنے طلبا ء کے ساتھ ڈگری کالج فار وومن حیدر آباد گئے تھے۔ جان کال ویل نے دوبارہ ہندوستان آنے کی خواہش ظاہر کی۔ ڈاکٹر عبد القدوس نے بتایا کہ ان کی آمد سے کالج کی لڑکیوں کے اندر حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
جب ممتاز عالم رضوی صاحب نے کرونا کی صورت حال پر سوال کیا تب جان کال ویل صاحب نے نتایا کہ ریاست ناتھ کیرولینا میںجہاں وہ مقیم ہیں، کم لوگ متاثر ہوئے ہیں اور مشیگن میںحالات زیادہ سنگین ہیںجہاں ان کے والد کی رہائش ہے اور انہیں اپنے والد صاحب کی فکر ہے۔ ہر ریاست میں صورتِ حال الگ ہے۔ دو مہینوں سے آن لائن کلاسز چل رہی ہیں۔ قومی قفل بندی ہے اس لئے لوگ اپنے رشتہ دار اور احباب سے نہیں مل سکتے۔ معیشت کو کافی نقصان ہوا ہے اور لوگوں کو بے روزگاری کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔
اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار احمد یہ اشعار پیش گئے ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
آپ نے اس محفل کے لئے خوشی کا اظہار کیا اور چاروں افسانوں کے لئے تہنیت پیش کی۔
آخر میں ڈاکٹر عبد القدوس نے ایک بار پھر سب کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدوس نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا کہ ان کی چھوٹی سی درخواست پر ہندوستان کے مختلف کونے سے لوگوں نے شرکت کی۔ پروگرام بارہ بجے کے قریب پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اگلے روز تمام لوگوں کو اسناد بھی میل کئے گئے۔
میرے لئے آن لائن افسانہ خوانی کا یہ پہلا تجربہ بہت کامیاب رہا۔ رمضان المبارک کا بیسواں روزہ تھا میری سالگرہ کا دن ہوتا ہے۔ میں اس کامیاب محفل کو اپنے خدا کا اجر مانتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ میرے کام سے گورنمنٹ ڈگڑی کالج فار وومن کی طالبات کو فائدہ ہوا۔ میں تہہ دل سے شعبہ اردو سے اپنی ممنونیت کا اظہار کرتی ہوں۔
آبیناز جان علی
موریشس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here