حسین الحق کے افسانے۔افسانوی ادب میں سولہ سنگھار کی حیثیت رکھتے ہیں

0
50
حسین الحق کے افسانے۔افسانوی ادب میں سولہ سنگھار کی حیثیت رکھتے ہیں

عصرِ حاضر کا تخلیقی تناظر حسین الحق کے افسانےاس موضوع پر دلچسپ مضمون ہے صغیر  افراہیم کا ۔حسین الحق کامیاب ناول نگار کے ساتھ ساتھ ممتاز افسانہ نگار بھی ہیں۔حسین الحق نے اردو افسانوں کو کامیاب موتی عطا کئے ہیں ۔۔حسین الحق کے افسانوں میں عصری حسیت بدرجہ اتم موجود ہے

تخلیقی عمل میں متخیلہ کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔ تمام فنون لطیفہ میں اس کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ادب بھی فنون لطیفہ کی ایک شاخ ہے جو اِس سے بارآور ہوتی ہے۔ تخیل کی دو جہتیں ہیں، ایک وہ جو وجدان کی دین ہے اور دوسری وہ جس میں مشاہدہ تخلیقی وسعت کے امکانات پیدا کرتاہے۔ہر مصنف کے مشاہدے کاسیاق اس کا عصر ہوتاہے۔
بیسویں صدی کے نصف آخر اور اکیسویں صدی کی گزرتی ہوئی دو دہائیوں کے ادب میں متخیلہ کے ساتھ ساتھ عالمگیریت اور صارفیت کی آمیزش سے انکار ادب کے خام مواد سے عدم آگہی کا اشاریہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
عالمگیریت اور صارفیت کی آمیزش سے وجود میں آنے والی بین الاقوامی سیاست کے زیر اثر جو ادب پروان چڑھ رہا ہے وہ ہماری کیفیات کا عکاس ہے کہ یہ روایت شکن دور مختلف پیچیدہ معاملات کی آماجگاہ ہے۔ یہاں کوئی باضابطہ اصول، مطمحِ نظریا انسانی رواداری اور میل ملاپ کا فلسفہ کام نہیں آرہا ہے۔ اب ایک مرکز پر ٹھہراؤ بھی نہیں ہے۔ فکری اور جماعتی دونوں ہی اعتبار سے انتشار پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اِس صورتِ حال کو معاصر اردو افسانہ کس حد تک منعکس کررہا ہے؟ غور سے مطالعہ کیا جائے تو پچھلی تین چار دہائیوں میں معدودے چند افسانہ نگار ہی نظر آتے ہیں جن کے افسانے نت نئے مسائل سے قاری کو فنکارانہ طور پر واقف کراتے ہیں، نیز موجودہ ادبی افق پر اپنا بھرپور نقش بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اِن میں ایک نمایاں نام حسین الحق کا ہے۔
حسین الحق کامیاب ناول نگار کے ساتھ ساتھ ممتاز افسانہ نگار بھی ہیں۔ جنھوں نے اردو فکشن کو نایاب موتی دئیے ہیں۔ سرِ دست اُن کے افسانوں کے تعلق سے گفتگو مقصود ہے۔ اس لیے تمام توجہ اُن کے منتخب افسانوں پر مرکوز کرتا ہوں جن کے موضوعات ہمارے ارد گرد کے ماحول سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سیاسی، سماجی اور تاریخی بساط کے بدلتے ہوئے مہرے نظر آتے ہیں۔ کردار اور واقعہ نگاری میں بھی تنوع ہے۔ اب تک اُن کے سات افسانوی مجموعے (۱-پسِ پردۂ شب، ۲-صورتِ حال، ۳-بارش میں گھرا مکان، ۴-گھنے جنگلوں میں ، ۵-مطلع، ۶-سوئی کی نوک پر رُکا لمحہ، ۷-نیو کی اینٹ) منظرِ عام پر آچکے ہیں اور اب اِنہی مجموعوں سے منتخب افسانے شائع ہونے جارہے ہیں۔
سولہ افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ جسے خاکسار نے ترتیب دیا ہے، افسانوی ادب میں سولہ سنگھار کی حیثیت رکھتاہے۔ اس میں موضوعاتی اور اسلوبیاتی، دونوں سطح پر نیا پن ہے۔ بیان اور بیانیہ کی آویزش پر مشتمل اِس مجموعہ میں عصرِ حاضر کی بے حسی، بددیانتی اور بدعنوانی کے گہرے شعور اور فکری حسیت وآگہی ہے۔ مذکورہ مجموعہ میں کہانی کی بُنت میں ایک مربوط صورت گری موجود ہے جو عصری تقاضوں سے اُبھرتی ہے، اور منطقی ربط اور تسلسل میں کہانی کو پروتی ہے۔ زبان کے استعمال میں بھی جدّت و نُدرت ہے۔
موضوع کے تنوع، اسلوب کے اظہار اور تکنیک کی ہمہ گیری کے اعتبار سے دیکھیں تو ’’نیو کی اینٹ‘‘ منفرد افسانہ ہے۔ تقریباً دس سال پہلے اِسی عنوان سے اُن کا چوتھا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آکر دھوم مچاچکا ہے۔ اس افسانہ میں احتجاج نہیں، غیر مرئی احساس اور تفکر ہے جس کو خوبی سے اُجاگر کیا گیا ہے کہ زندگی اتنی آسان نہیں جتنا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ یہ کسی ایک نعرے، اصول یا نظریے کی پابند نہیں ہے بلکہ تناؤ سے پُر، بے حد اُلجھی ہوئی زندگی میں مفاہمت کا جذبہ کس طرح لہریں لیتا ہے، اس کا فنکارانہ اظہار بھی ’’نیو کی اینٹ‘‘ میں موجود ہے۔
’’جلیبی کا رس‘‘ میں ہندوستانی تہذیب وثقافت کا معاصر منظر نامہ جھلکتا ہے۔ حسین الحق بے حد حساّس فنکار ہیں اِس لیے انھوں نے عوامی زندگی کے مختلف رنگوں اور معاشرے کے اُتھل پتھل کو بغور دیکھا، محسوس کیا اور پھر ان کو فنکارانہ طور پر افسانہ کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔ اس افسانہ میں بھی علاقائی اثرات، مقامی محاورے اوربرمحل مکالموں نے انسانی فطرت وجبلت کی بھرپور عکّاسی کی ہے۔
نہایت باریکی اور فنّی ہُنر مندی سے بُنا گیا افسانہ ’’سبحان اللہ‘‘ دائروی شکل میں گھومتا ہوا، اختتام سے آغاز کی طرف لوٹتے ہوئے بیانیہ عرصہ قائم کرتا ہے۔ درمیان میں کچھ واقعاتی اور نفسیاتی مناظر ہیں جو عقائد، توہمات اور تعصبات کو منعکس کرتے ہوئے غوروفکر پر مجبور کرتے ہیں۔ اس افسانہ میں جمعیت اور فرد کا معاشرے سے برتاؤ بطور خاص منعکس ہوتاہے۔
حسین الحق کاکمال ہے کہ وہ پلاٹ کی بُنت میں ایسی فضا خلق کرتے ہیں جس میں بنیادی قصّے میں علامتی اور اساطیری عناصر خود بخود ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ ’’الحمدللہ‘‘ کا اس نقطہ نظر سے بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے کہ قدیم تصورات زندگی کا جب آج کے صارفی سماج وتصورات سے ٹکراؤ ہوتا ہے تو اسے ہمارے درمیان سے آہستہ آہستہ رخصت ہوتی جانے والی پرانی نسل کس طرح جھیلتی ہے۔ مزید برآں پچھلے زمانوں کی علمی وادبی گفتگو اور آج کے ادبی مباحث کے درمیان رفتہ رفتہ جو فاصلہ قائم ہوا، اور علم وادب سے جینے مرنے کے بیش از بیش حوالے آہستہ آہستہ جس طرح تبدیل ہوئے ہیں، اس کے بھرپور اشارے اس افسانے میں دستیاب ہیں۔ اس انداز سے گزرتے اور آتے موسموں کے درمیان واقع ہونے والے فرق پر فنی اور تخلیقی انداز میں کم سوچا گیا ہے۔’’انحد‘‘ میں ماضی کے گُزرے ہوئے ایام کی شدّت کے ساتھ دور ِحاضر کی کیفیات کا انوکھا امتزاج ہے۔ موضوع وہیئت کی گرفت اور اسلوب کا موثر انداز افسانہ کے حُسن کو دوبالا کرتاہے۔یہ افسانہ ماہنامہ آجکل میں شائع ہوا تھا۔ اسے دوبارہ پڑھتے ہوئے ذکیہ مشہدی کا وہ خط یاد آگیا جس میں اس افسانے کے بارے میں انھوں نے لکھا تھا کہ ۔۔۔ میں نے بہت کم ایسے افسانے پڑھے ہیں جس کا عنوان متن کو مکمل کرتا ہو۔ واقعی اس افسانے کی خاص بات یہ ہے کہ افسانے کی پہلی پرت رومان اساس ہونے کے باوجود اپنی بُنت میں بابا کبیر کی انحدوانی کا تاثر سموئے محسوس ہوتاہے۔
دراصل افسانہ حیات وممات کا استعارہ ہے، جو انسانی نفسیات اور جنسیات کے پیچ وخم کو بروئے کار لانے کا فنّی حربہ ہے۔ انسان کے افعال واعمال کے پسِ پُشت جو عوامل کام کررہے ہوتے ہیں اُن کی تلاش کا، فرد اور اجتماع کے ذہنی اور جذباتی رشتوں کی کہانی سُنانے کا، انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تعمیر وتشکیل میں جو سماجی، نفسیاتی، تاریخی وجغرافیائی نیز مذہبی عناصر سرگرم ہوتے ہیں اُن پر غوروفکر کرنے کا کردار افسانہ بخوبی ادا کرتا ہے۔ انسان کی شخصیت کو سنوارنے اور بگاڑنے میں بیرونی اثرات کے علاوہ خود اُس کو ورثہ میں ملی جبلّت میں منتشر رموز کی نشاندہی بھی افسانہ کرتاہے۔ فرد کی زندگی میں جو کائنات چُھپی ہوتی ہے اُس کو اُجاگر کرنے کے لیے افسانہ نگار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر آزادانہ طور پر شعوری کوشش کرتاہے۔ اس کا دائرہ کائنات کی طرح وسیع ہے۔ تبھی تو یہ عمل اور ردِعمل پر غور وفکر کرتاہے۔ انسان سے سرزد ہونے والا ہر عمل در اصل شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک ردِعمل ہوتا ہے جس کے اسباب وعلل کی جستجو افسانہ کرتا ہے اور حسین الحق اِن تمام رموز ونکات کو واضح کرنے کا ہُنر جانتے ہیں جن کے واضح ثبوت زیر مطالعہ افسانوں میں ملتے ہیں۔
مشرقی تاریخ میں تہذیبوں کے سیاسی وسماجی ٹکراؤ اور بنی نوع انسان کی انفرادی اور اجتماعی حیثیت کو بیان کرنا حسین الحق کا پسندیدہ موضوع ہے۔ وہ چرند وپرند ہوں یا حیوانات ونباتات انسانیت سب پر مقدم ہے۔ مساوات ومحبت حاوی جذبہ ہے جس کی وکالت افسانہ ’’مورپاؤں‘‘ کرتاہے۔ اس میں ماورائی تصور اور تہذیب و ثقافت کو عوامی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ افسانہ زندگی کے تلیخ حقائق، اقدار کی شکست، خوف اورتوہم کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔ افسانہ میں واقعات ڈرامے اور مکالمے کے مِلے جُلے انداز میں بتدریج رونما ہوتے ہیں۔ شعور اور تحت الشعور کی آمیزش سے اُبھرنے والے وہم ، تذبذب، خوف اور حقیقت کے اظہار کے لیے حسین الحق نے دلچسپ انداز اور موثر اسلوب اختیار کیا ہے۔ انھوں نے تمثیلوں اور استعاروں کے ذریعے توہم پرستی اور عقیدت مندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سچائی کا مقابلہ کرنے کی جانب ذہن کو راغب کیا ہے۔ مور کے حُسن، پاؤں کی بدصورتی، پالنے کی کشش اور اُس کی موت کے تصور سے اُبھرنے والا منظر نامہ ہمارے عہد کی شدّت پسندی کو پینٹ کرتاہے۔یہ افسانہ اس لحاظ سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس میں رخشندہ اور مور کی صورت میں جس گنگا جمنی تہذیب کو یاد رکھنے اور پینٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ عہد حاضر میں، جب اس کے انہدام کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، ایسے میں یاد کے پردے پر رخشندہ کا جھلکنا، تلسی کا پیڑ اور مور پالنے کی خواہش اس تہذیب کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش ہے، خواہ یہ کامیاب ہو یا نا کام۔
واقعۂ کربلا حسین الحق کا پسندیدہ موضوع ہے۔ نام کی نسبت کا اثر ہونا بھی چاہیے کہ یہ حسینؓکے حق وصداقت کاغماز ہے۔ بلاواسطہ طور پر انھوں نے اپنی کئی تخلیقات میں اس کا سہارا لیا ہے۔ افسانہ ’’کربلا‘‘ میں پلاٹ وقت کے تسلسل کا تابع ہے۔ کفایتِ لفظی کے ساتھ یہ نسبتاً طویل افسانہ ہے جو ماضی اور حال کے وسیلے سے سامنے آتاہے۔ صوفیائے کرام کے توسط سے اپنوں کو اپنی فکر کے طابع بنانا اس کا مطمحِ نظر ہے۔ اِس کی قرأت کے دوران حسین الحق کا ناول ’’فرات‘‘ یاد آتا ہے جو عمل اور ردِعمل کے پیہم اور پیچیدہ دام میں گرفتار انسانی زندگی کا اعلامیہ بن کر اُبھرتاہے۔ اُس فرات کے مانند جس کے کنارے کھڑی تشنہ لب انسانیت کرب وبلا میں گرفتار ہے اور اُس سے نجات حاصل کرنے کی مسلسل جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔’’کربلا‘‘ کے ضمن میں یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ افسانے میں واقعات کا جو سلسلہ شروع سے آخر تک جاری رہتا ہے، اس کا عرصہ ابتدا سے انتہا تک کرفیو کے درمیان کا عرصہ ہے مگر یہ دلچسپ بات ہے کہ پورے افسانے میں کہیں بھی کرفیو کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ یقینی طور پر یہ ایک شعوری فنی احتیاط ہے جو افسانہ نگار کے بالغ فنی شعور کا اشارہ ہے۔
دراصل حسین الحق کے افسانوں کا مرکز ومحور انسان کی ذات ہے جس کے تجربات کی عکاسی مختلف زاویوں سے کرتے ہوئے تہہ بہ تہہ پرتیں کھولی گئی ہیں۔ ان کے یہاں موضوعات کی نیرنگی کے ساتھ اظہار کی تازگی نے فن پاروں کو قابلِ توجہ بنادیاہے۔
مجموعہ میں شامل سبھی افسانے بغور مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں مگر افسانہ ’’ناگہانی‘‘ نے مجھے خواتین کے تعلق سے ازسرِنو غوروفکر کی دعوت دی۔ سولہ صفحات پر مشتمل اِس افسانہ میں چار کردار ہیں ۔ مرکزیت بی بی عزت النساء کو حاصل ہے۔ ضمنی کرداروں میں شوہر جلال الدین اور لالہ بنسی دھرپرشاد ہیں۔ شوہر بگڑا ہوا زمیندار ہے جس کے مزاج میں وحشت اور درندگی ہے تبھی تو علاقہ کا کوئی بھی شخص اس کا دلی ہمدرد نہیں۔ خاندانی منشی لالہ بنسی دھرجو اپنی چاپلوسی کی بدولت تمام زمین وجائداد کے مختارِ عام تھے، وقت بدلتے ہی وہ مختارِ کُل بن گئے بلکہ سب کچھ سمیٹ کر منظر نامہ سے غائب ہوگئے البتہ اُن کا چھوٹا بھائی لالہ ہری ہر پرشاد اُس کے بالکل برعکس نظر آتاہے۔ وہ نیک، ملنسار اور وضع دار ہے۔ مجموعی تأثر عورت کی قوتِ برداشت اور پاس ولحاظ کا جذبہ ہے۔ اُس کے توسط سے افسانہ نگار شوہر، حالات، فطری خواہشات اور تہذیبی ومعاشرتی جبر کو اُجاگر کرتاہے۔ قاری شدّت سے محسوس کرتاہے کہ جاگیردارانہ نظام میں، مسلم معاشرے میں بھی نہ جانے کیوں مرد کی انا نے اُسے برابری کا درجہ نہیں دیا بلکہ بالادستی اور برتری قائم رکھنے کے نئے نئے طریقے تلاش کیے۔ ستم یہ کہ عورت نے سخت قدم اُٹھانے کے بجائے صبروتحمل اور اطاعت وفرمانبرداری کا ثبوت پیش کیا۔ شاید اِس اُمید کے سہارے کہ آنے والے کل میں حالات بدل جائیں گے۔ جب تک حالات بدلے نہیں تھے تو وہ ایک انانیت پسند، جھوٹی آن بان والے بڑے زمیندار کی بیگم تھیں۔ آرام وآسائش مہیا ہونے کے باوجود وہ اِس حقیقت سے بھی واقف تھیں کہ جلال الدین کے اندر ایسا وحشت ناک درندہ صفت شوہر چھُپا بیٹھا ہے جو عام حالات کی بات تو الگ رہی، خلوت میں بھی اذیت کے نئے نئے حربے تلاش کرتا رہتا تھا۔ جو ان عورت کے لیے مختص کیے گئے، اُن مخصوص دنوں میں جب بی بی عزت النسائ:
’’نجات کی خواہاں رہتیں مگر وہی چند دن اُن کی مصیبت کے دن بھی ہوتے، ہر مہینے میں تقریباً ایک ہفتہ جلا ل الدین وحشی درندوں کی طرح نہیں بلکہ پاگلوں کی طرح اُسے نوچتا بھنبھوڑتا۔ عزت النساء بچنا چاہتیں مگر بچ نہیں پاتیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جن دنوں کا ذکر ہے وہی زمانہ تو عزت النساء کے چڑھتے دریا کا زمانہ تھا۔ لاکھ نوچ کھسوٹ ہو، دو جسموں کا ٹکراؤ تو جذبات میں ہیجان پیدا ہونے کا سبب بنتا ہی ہے، سو بالآخر عزت النساء تھکان کے ساتھ ساتھ جذبات سے بھی مغلوب ہوکر آنکھیں بند کرکے پڑجاتیں— اُن کے تینوں بچے ان ہی دنوں کے آس پاس کی یادگار تھے‘‘۔ (ص: ۱۸)
یہاں میں جنس کی مختلف، متضاد تھیوری، حمل ٹھہرنے کے عمل وغیرہ پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اُس کے حیوانی طریقے پر کہ وہ قہر تب ڈھاتا جب تکلیف کا احساس شدّت اختیار کرلیتا بلکہ میں عورت کی پسند وناپسند کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
روایتی انداز کو مجروح کرتا ہوا یہ افسانہ بربریت اور لذّت کی ایک الگ کہانی بیان کرتاہے اور یہ سلسلہ تقریباً آٹھ سال چلتا ہے کہ اچانک جلال الدین پر فالج کا حملہ ہوتاہے جس نے اُس کو ہی نہیں پورے گھر کو فالج زدہ بنادیا۔ بدلے ہوئے حالات میں عزت النساء ذہنی کرب کے ساتھ ساتھ معاشی، اقتصادی اور سماجی کرب میں بھی مبتلا ہوجاتی ہیں۔ تین بچے اور فالج زدہ شوہر اضطراری کیفیت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
روایتی انداز سے الگ ہٹے ہوئے اِس افسانہ میں مردانہ پن کے مظاہر کے ساتھ جنسی لذّت پسندی سے مکمل گُریز ہے کیوں کہ اس خطرناک معاملہ میں غیر ضروری چیزوں کو لذّت کے لیے نہیں، عبرت کی بنا پر شامل کیا گیا ہے۔ اسی لیے مرد اساس معاشرہ پر یہ تازیانہ کا کام نہیں بلکہ یہ واضح کرتا ہے کہ بے حد ترقی یافتہ عہد میں بھی انسان اپنی سائیکی سے چُھٹکارا حاصل نہیں کرسکا ہے۔
افسانہ ایک مثلث کی شکل میں اُبھرتا ہے۔ غور کیجیے تو محسوس ہوتا ہے نفسیاتی اُلجھنوں میں مبتلا مرکزی کردار، اخلاقیات وسلوک اور طرزِ عمل، دوہرے اور متضاد معیار اور رویے اُس کے ارد گرد ہیں۔ سنجیدگی اور غیر سنجیدگی، محبت اور بوالہوسی، فطرت وجبلّت کی وہ مقناطیسی کشش جو خود سپرد کی جانب راغب کرتی ہے ، اور مجبور عورت اُس موڑ تک آجاتی ہے جہاں وہ آنا نہیں چاہتی، مگر وہ کیوں آگئی؟ جبر، مجبوری، فطری خواہش یا پھر مرد کا متاثر کن رویّہ!!۔ لباس کا اُتارنا پہنناّ، عورت کی ہی نہیں، اشرف المخلوقات کی فطری کمزوری ہے۔ زندگی میں کبھی کبھی کوئی ایسا لمحہ آتاہے کہ پوری احتیاط کے باوجود وہ ٹوٹ جاتاہے۔ ’’ناگہانی‘‘ کا اختتام ملاحظہ ہو:
’’وہ لالہ کی لائی ساری پہنے ہوئے تھیں۔۔۔ میلاد شریف میں جانے کے لیے بی بی عزت النساء نے جلا ل الدین کی خریدی ایک پُرانی ساری نکالی، زیب تن کیا، وقت سے ذرا پہلے ہی محفل میں حاضر ہوگئیں اور میلاد انھوں نے ایسے الحاح وزاری سے پڑھا کہ سننے والوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ خود عزت النساء کی آنکھوں سے بھی آنسو تھے کہ رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے‘‘۔ (ص:۳۴)
تکرار لفظی کے ساتھ برمحل شعر کا استعمال:
’’بی بی عزت النساء روئے جارہی تھیں اور جھوم جھوم کر پڑھے جارہی تھیں ؎
خدا کے قہر سے روزِ جزا، بچا لینا
بہت ہوں عاجز ولاچار، یا رسول اللہؐ‘‘۔ (ص: ۳۴)
افسانہ نگار کا یہ بھی فنّی کمال ہے کہ شعروحدتِ تاثر کو مجروح نہیں کرتا، بلندیوں پر پہنچاتا ہے۔
مجموعہ کے اکثر افسانے خصوصاً ’’ناگہانی‘‘ غماز ہے خواتین کے تشخص، مختلف مسائل، عزت ووقار کے ساتھ اُن کے حقوق کو یقینی بنانا۔ حسین الحق کا یہ بھی موضوع ہے کہ روزِ اوّل سے معاشرے کی تشکیل میں عورت، مرد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلتی رہی ہے، لیکن نہ جانے کیوں مرد کی انا نے اُسے برابری کا درجہ نہیں دیا۔ کائنات کے ساتھ اپنے رفیقِ سفر پر بھی بالادستی اور برتری قائم رکھنے کی کوشش کی اور سائے کی طرح ساتھ رہنے والی عورت کو لاشعوری طور پر احساسِ کمتری میں مبتلا کردیا۔ حسین الحق نے اپنی تخلیقات میں مساوات کی حمایت اور عصبیت کی مخالفت کی ہے۔ یہ بھی واضح کیا ہے کہ معاشرہ اپنی بالادستی اور برتری قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ کو جائز قرار دیتا ہے ۔مذکورہ افسانہ محض عورت کے حقوق کے حصول پر اصرار اور مرد کی بالادستی کے خلاف احتجاج درج نہیں کراتا بلکہ ذہنی، نفسیاتی اور جنسی کشاکش کا بھی اظہار کرتا ہے۔ اگر ایک مرد تخریب پسند ہے تو دوسرا کسی چالاکی کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ اظہار جذبات کے مہذب انداز کا مظہر ہے کہ اس میں ہونے والے ردِعمل میں بھی تسکین کا ایک تصور کارفرما ہے۔ چاہے وہ لالہ ہری ہر کی خاموش امداد ہو یا میلاد شریف ، فضا اور ماحول کو سازگار بنانے کا سارا مرحلہ فطری ہے۔
اِن منتخب افسانوں کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہیں کہ حسین الحق کے اپنے مخصوص اندازِ بیان اور فکر کی جدّت نے اردو افسانے کو ایک نئی شکل عطا کی ہے۔ مذکورہ افسانوں کا مجموعی تاثر تہذیبی، تاریخی، اساطیری اور مذہبی علامتوں سے نکھرتا ہے۔ فضا وماحول کے مطابق علاقائی رنگ اور محاوروں کا برتاؤ دبے پاؤں وحدتِ تاثر میں تحلیل ہوجاتاہے۔ یہ منفرد اندازِ بیان ترسیل کا مسئلہ پیدا نہیں کرتا بلکہ قاری سے افسانہ اور افسانہ نگار کا رشتہ قائم رکھتاہے۔
پروفیسر صغیر افراہیم
سابق صدر شعبۂ اُردو
علی گڑھ مسلم یونیوسٹی، علی گڑھ-۲
s.afraheim@yahoo.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here