ہندوستان کی سرزمین نے ہمیشہ وقفہ وقفہ سے جدوجہد اورقربانی مانگی ہے

0
131
سی اے اے،این آر سی کیخلاف عوامی اتحاد
سی اے اے،این آر سی کیخلاف عوامی اتحاد
جاویدجمال الدین-
ہندوستان کی سرزمین نے ہمیشہ وقفہ وقفہ سے
جدوجہد اورقربانی مانگی ہے ،اگر ہم گزشتہ ایک صدی کا جائزہ لیں تو اس بات کا علم۔ہوگا کہ ملک میں جدوجہد آزادی کے دوران اور پھر ملک کی تقسیم اور انگریزوں کی غلامی سے دوسوسال بعد جو آزادی ملی ان 70 سال میں دو ایسے مواقع آئے ہیں،جن کے دوران ہمارے نوجوانوں نے حکمرانوں کے خلاف متحد  اور سینہ سپر ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے تھے۔دراصل ان تحریکوں کے پس پشت اتحاد اور آپسی تال میل کارفرما رہاتھا۔ملک میں سب پہلے 1920 میں نمک ستہ گرہ ،چالیس کے عشرہ میں   بھارت چھوڑ دو تحریک ،اس کے تقریباً چار عشرے بعد ملک میں جاری لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے خلاف جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ملک بچاؤ کے عزم  کے ساتھ اندراگاندھی کے خلاف عوامی مہم اور ایمرجنسی کے خلاف جن اندولن کو بھی دیکھا ہے اور پھر ایک بار چالیس سال کے عرصہ بعدعوام کے حقوق اور ان کی آزادی اظہار رائے چھیننے کی کوشش کے خلاف اٹھی تحریک نے موجودہ حکومت کو اس کی  ہٹ دھرمی اور ضد اپنانے کے باوجود دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)کے خلاف ملک کے عوام اور خصوصی طور پر نوجوانوں اور طلبہ نے جس اتحاد اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا ،وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے۔یاد رہے کہ کوئی بھی تحریک عوام کے دم خم سے چلتی ہے اور یا تو جلدی یا تھوڑی دیر کے بعد کامیابی سے ہمکنارہوتی ہے  اور جوش و جذبے کو طویل عرصے تک آزماتی ہے،اس  قانون کے خلاف ملک بھر میں عوامی تحریک جاری ہے مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے اور اس کا ذکر پہلے بھی کیا جاچکا ہے کہ عوام نے ان اہل اقتدار کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا ہے،جوکہ نہ سننے کی عادت کے لیے بدنام ہیں۔اور اب وہ قومی سطح پر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کررہے ہیں اور وضاحت پیش کررہے ہیں۔
ہم۔نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کی نریندر مودی حکومت  ضدی اور ہٹ دھرمی کے لیے مشہور ہے،این آئی سی اور سی اےاے  نافذ کرنے کی اس کی ضد نے ہندوستانی عوام میں اسے ایک فسطائی حکومت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن اسے بے وقوف ہی کہاجاسکتاہے ،اسے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس تعلق سے سابق آئی اے ایس افسر گوپی ناتھن کا کہنا۔ہے کہ “اکثر ہم سڑک پر دیکھتے ہیں کہ ایک آوارہ کتا یہ طے کرلیتا ہے کہ  کالے رنگ کی کسی بھی تیزرفتار کار کو دیکھ کر بھونکنا ہے اور پھر وہ ہر آنے جانے والی کالے رنگ کی کار کو اپنا نشانہ بنا نا شروع کر دیتا ہے اور اسی رنگ کی کار کے پیچھے بار بارکافی دور تک دوڑلگاتا ہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے ،بالکل یہی حال موجودہ حکومت کا ہے۔کیونکہ کئی فیصلے لینے کے بعد وہ اگلاقدم اٹھانے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ “
اس بات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا پہلے کالا دھن دن ختم کرنے کے نام پرسب سے پہلے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیااور مسرت سے اعلان کیا گیا کہ سو فیصدی سے زیادہ پیسہ واپس آ گیا ہے،اور اس رقم  میں جعلی نوٹ بھی شامل تھے ،اس کے بعد ڈیجیٹل اکانومی بنانے کے لیے قدم اٹھایا گیاجوبھی ناکام ہے ۔حال میں ریزرو بینک آف انڈیا نے  کہاہے کہ دو ہزار کے نوٹ کی چھپائی بند کر دی گی اور ان کا جواز ہے کہ دو ہزار کے جعلی  نوٹ بازار میں گشت کررہے ہیں ان کوالٹی کافی اچھی ہے ۔
اگر ہم ان تمام فیصلوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ان۔فیصلوں پر عمل آوری کے لیے انہیں عوام کی رضامندی حاصل۔رہی ہے۔  کالے دھن کوباہر لانا ہے ،اس سوال پر عوام۔نے مثبت جواب دیا ،اس مثبت جواب کی ایک۔طویل۔فہرست پائی جاتی ہے، لیکن عوام کو پتہ نہیں ہے کہ ان کی رضامندی سے  وہ خود  اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ۔
حکومت کا کالے دھن کی بات کررہی ہے اس کا عام۔لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے ،دراصل نوٹ بندی کے ذریعے مودی حکومت نے کسی کونہیں بخشا ہے ،بیرونی ملک کا پیسہ تو کسی صورت میں واپس نہ۔لاسکے ،لیکن   آٹو رکشہ والے ،ٹیکسی ڈرائیور،چھوٹے دکاندار ،چھوٹے تاجروں اور گھر میں روزمرہ کے خرچ سے بچائی جانے والی رقم۔کو بھی باہر نکال لیاگیا۔
گزشتہ لوک سبھا الیکشن کے موقعہ پر انتخابی جلسوں میں گھس پیٹھیوں کو ملک سے نکالے کا نعرہ دے کر ایک بار پھر یہ الزام بھی ان۔کے سرتھوپ دیا۔سوال یہ ہے کہ شہریت کے متعلق دستاویزات کا کے پا س نہیں  ہوتے ہیں۔ادی واسیوں،غریبوں اور پسماندہ طبقات  کے پاس نہیں ہوتے ہیں۔دوسرے شہروں میں  شادی بیاہ کرکے جانے والی  خواتین کے ساتھ ساتھ سیلاب اور زلزلے کے شکار لوگوں کے پاس دستاویزات نہیں ہوتے ہیں ۔اکثر  دوسرے شہروں میں کام دھندے کے لیے جانے والوں کے پاس  آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔
آسام میں این آر سی کی شروعات ایک عشرہ۔پہکے ہوگئی تھی اور پچھلے چھ سال۔میں 16 سو کروڑروپے خرچ ہوئے ہیں اوراس عرصے میں پچاس ہزار ملازمین اپنا کام دھندہ چھوڑ کر اسی میں لگے رہے اور اس کے باوجود ان کے سیاسی مفاد میں فیصلہ نہیں آیا تو اب اسے مسترد کر دیا گیاہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ عوام کاپیسہ پانی کی طرح بہہ دیا گیا۔اسی رقم۔کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کی فلا ح وبہبود کے لیے خرچ  کیاگیا ہوتا تو انہیں بہترین سہولیات میسر آتی تھیں۔
 مودی ہی نہیں بلکہ کسی بھی حکومت کو جان لینا چاہیے کہ نفرت کا کام کرنے سے کسی کاکوئی بھلا نہیں ہوتاہے بلکہ اچھی سوچ بھی بند ہوجاتی ہے،آسام میں جب سے این سی آر کی مہم چلی تو سب سے زیادہ مسلمانوں کوعدم تحفظ کااحساس پیدا ہونے لگاکیونکہ انہیں ڈرانے کی کوشش جاری رکھی گئی۔اس تعلق مسلمانوں  اس حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں  سچ کہہ دیتی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے دستاویزات درست کرنا شروع کردیا ہے اور کم بیش تھے انہیں بنالیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے سچائی بیان۔کرنے والی حکومت بلکہ ہندوؤں کو  جھوٹ بولتی ہے تب ہی آسام میں این آر سی کاشکار بننے والوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
حالانکہ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ لوگ مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانے  کی بات کرتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں کو بولتے ہیں کہ 19لاکھ میں سے 12 -13 لاکھ ہندو آسام میں این آر سی کے شکار بنے ہیں ۔
پڑوسی ممالک کے جو ہندو شہریت حاصل کرنے یہاں آئے ہیں انہیں کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔دراصل انہیں بے وقوف بنانے کی کوشش جاری ہے۔ہندوستانی بھی آسانی سے بے وقوف بن جاتے ہیں عام طور ہم اس وقت خوشی کا اظہار کرتے ہیں جب  بجلی واپس آتی ہے،بھلے وہ تین چار گھنٹے میں آئے۔حالانکہ کوشش یہ ہونا چاہیے کہ بجلی گل ہونے کاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔
گزشتہ چند سال سے   انتہائی حد تک لوگ گزرچکے ہیں کہ۔اگر کوئی شخص یا تنظیم حکومت کی مخالفت کرے تو اسے  ملک دشمن، دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔جوکہ ایک نامعقول حرکت ہے ۔
 یہ ایک ایسا دور ہے کہ حکومت بے وقوفوں کی طرح فیصلے کے رہی ہے،اس لیے ہمیں ٹھوک بجا کر اس کی جانچ کرنا چاہیے اور یہ انتہائی ضروری ہے۔ اگرمیدان میں جاکر لڑائی نہیں لڑیں گے ہم  تو ملک کو کھودیں  گے۔دراصل۔موجودہ
حکومت نے این سی آر کے تحت سبھی 130 کروڑ شہریوں کو قطار میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اگر 130 کروڑ نے شہریت ثابت کردی تو یہ لڑائی دس کروڑ اور پھر ان کے بعد دیگر باقی بچے شہریوں سےحساب کتاب مانگا جائے گا ،یقینایہ۔لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔جامعہ ملیہ اور اے ایم۔یو کے طلبہ کے ساتھ جو بدتمیزی کی گئی اور پولیس کے ظلم۔کا شکار بنایا گیا ،اس کے بعد ایک معمولی چنگاری نے شعلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ہندوستان۔کا۔کوئی شہر اور یونیورسٹی نہیں بچی جہاں احتجاج نہیں ہوا۔ملک کے اخباروں کی سرخیاں عرصہ بعد ایک جیسی نظر آ ئیں ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔
  9 1دسمبر کو جو احتجاج کیا گیا،وہ کوئی معمولی دن تھا وہ  ایک تاریخی دن تھا اس دن رام پرساد بسمل،اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ نے ملک کی آزادی کے لڑائی لڑتے ہوئے پھانسی سے لٹک گئیے تھے۔اوربقول یوگیندر یادو  اسی دن گاندھی جی میوات کے مسلمانوں کو یہ کہہ کر روک لیا کہ  تم ملک چھوڑ کرنہ جاؤ ، میں آپ کی مددکرونگا۔اور ان کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے 70ہزار مسلمان  راجستھان۔کی سرحد پر رک کر واپس لوٹ آئے۔
آج ہندوستان کا نوجوان اور طلبہ متحد نظرآرہا ہے ، ایک تحریک کا آغاز ہوچکا ہے اوراگر یہ اتحاد برقرار رہا تو  ہمیں مستقبل شاندار نظر آرہا ہے۔
9867647741
جاویدجمال الدین
ہندوستان کی سرزمین نے ہمیشہ وقفہ وقفہ سے
جدوجہد اورقربانی مانگی ہے ،اگر ہم گزشتہ ایک صدی کا جائزہ لیں تو اس بات کا علم۔ہوگا کہ ملک میں جدوجہد آزادی کے دوران اور پھر ملک کی تقسیم اور انگریزوں کی غلامی سے دوسوسال بعد جو آزادی ملی ان 70 سال میں دو ایسے مواقع آئے ہیں،جن کے دوران ہمارے نوجوانوں نے حکمرانوں کے خلاف متحد  اور سینہ سپر ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے تھے۔دراصل ان تحریکوں کے پس پشت اتحاد اور آپسی تال میل کارفرما رہاتھا۔ملک میں سب پہلے 1920 میں نمک ستہ گرہ ،چالیس کے عشرہ میں   بھارت چھوڑ دو تحریک ،اس کے تقریباً چار عشرے بعد ملک میں جاری لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے خلاف جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ملک بچاؤ کے عزم  کے ساتھ اندراگاندھی کے خلاف عوامی مہم اور ایمرجنسی کے خلاف جن اندولن کو بھی دیکھا ہے اور پھر ایک بار چالیس سال کے عرصہ بعدعوام کے حقوق اور ان کی آزادی اظہار رائے چھیننے کی کوشش کے خلاف اٹھی تحریک نے موجودہ حکومت کو اس کی  ہٹ دھرمی اور ضد اپنانے کے باوجود دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)کے خلاف ملک کے عوام اور خصوصی طور پر نوجوانوں اور طلبہ نے جس اتحاد اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا ،وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے۔یاد رہے کہ کوئی بھی تحریک عوام کے دم خم سے چلتی ہے اور یا تو جلدی یا تھوڑی دیر کے بعد کامیابی سے ہمکنارہوتی ہے  اور جوش و جذبے کو طویل عرصے تک آزماتی ہے،اس  قانون کے خلاف ملک بھر میں عوامی تحریک جاری ہے مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے اور اس کا ذکر پہلے بھی کیا جاچکا ہے کہ عوام نے ان اہل اقتدار کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا ہے،جوکہ نہ سننے کی عادت کے لیے بدنام ہیں۔اور اب وہ قومی سطح پر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کررہے ہیں اور وضاحت پیش کررہے ہیں۔
ہم۔نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کی نریندر مودی حکومت  ضدی اور ہٹ دھرمی کے لیے مشہور ہے،این آئی سی اور سی اےاے  نافذ کرنے کی اس کی ضد نے ہندوستانی عوام میں اسے ایک فسطائی حکومت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن اسے بے وقوف ہی کہاجاسکتاہے ،اسے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس تعلق سے سابق آئی اے ایس افسر گوپی ناتھن کا کہنا۔ہے کہ “اکثر ہم سڑک پر دیکھتے ہیں کہ ایک آوارہ کتا یہ طے کرلیتا ہے کہ  کالے رنگ کی کسی بھی تیزرفتار کار کو دیکھ کر بھونکنا ہے اور پھر وہ ہر آنے جانے والی کالے رنگ کی کار کو اپنا نشانہ بنا نا شروع کر دیتا ہے اور اسی رنگ کی کار کے پیچھے بار بارکافی دور تک دوڑلگاتا ہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے ،بالکل یہی حال موجودہ حکومت کا ہے۔کیونکہ کئی فیصلے لینے کے بعد وہ اگلاقدم اٹھانے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ “
اس بات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا پہلے کالا دھن دن ختم کرنے کے نام پرسب سے پہلے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیااور مسرت سے اعلان کیا گیا کہ سو فیصدی سے زیادہ پیسہ واپس آ گیا ہے،اور اس رقم  میں جعلی نوٹ بھی شامل تھے ،اس کے بعد ڈیجیٹل اکانومی بنانے کے لیے قدم اٹھایا گیاجوبھی ناکام ہے ۔حال میں ریزرو بینک آف انڈیا نے  کہاہے کہ دو ہزار کے نوٹ کی چھپائی بند کر دی گی اور ان کا جواز ہے کہ دو ہزار کے جعلی  نوٹ بازار میں گشت کررہے ہیں ان کوالٹی کافی اچھی ہے ۔
اگر ہم ان تمام فیصلوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ان۔فیصلوں پر عمل آوری کے لیے انہیں عوام کی رضامندی حاصل۔رہی ہے۔  کالے دھن کوباہر لانا ہے ،اس سوال پر عوام۔نے مثبت جواب دیا ،اس مثبت جواب کی ایک۔طویل۔فہرست پائی جاتی ہے، لیکن عوام کو پتہ نہیں ہے کہ ان کی رضامندی سے  وہ خود  اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ۔
حکومت کا کالے دھن کی بات کررہی ہے اس کا عام۔لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے ،دراصل نوٹ بندی کے ذریعے مودی حکومت نے کسی کونہیں بخشا ہے ،بیرونی ملک کا پیسہ تو کسی صورت میں واپس نہ۔لاسکے ،لیکن   آٹو رکشہ والے ،ٹیکسی ڈرائیور،چھوٹے دکاندار ،چھوٹے تاجروں اور گھر میں روزمرہ کے خرچ سے بچائی جانے والی رقم۔کو بھی باہر نکال لیاگیا۔
گزشتہ لوک سبھا الیکشن کے موقعہ پر انتخابی جلسوں میں گھس پیٹھیوں کو ملک سے نکالے کا نعرہ دے کر ایک بار پھر یہ الزام بھی ان۔کے سرتھوپ دیا۔سوال یہ ہے کہ شہریت کے متعلق دستاویزات کا کے پا س نہیں  ہوتے ہیں۔ادی واسیوں،غریبوں اور پسماندہ طبقات  کے پاس نہیں ہوتے ہیں۔دوسرے شہروں میں  شادی بیاہ کرکے جانے والی  خواتین کے ساتھ ساتھ سیلاب اور زلزلے کے شکار لوگوں کے پاس دستاویزات نہیں ہوتے ہیں ۔اکثر  دوسرے شہروں میں کام دھندے کے لیے جانے والوں کے پاس  آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔
آسام میں این آر سی کی شروعات ایک عشرہ۔پہکے ہوگئی تھی اور پچھلے چھ سال۔میں 16 سو کروڑروپے خرچ ہوئے ہیں اوراس عرصے میں پچاس ہزار ملازمین اپنا کام دھندہ چھوڑ کر اسی میں لگے رہے اور اس کے باوجود ان کے سیاسی مفاد میں فیصلہ نہیں آیا تو اب اسے مسترد کر دیا گیاہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ عوام کاپیسہ پانی کی طرح بہہ دیا گیا۔اسی رقم۔کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کی فلا ح وبہبود کے لیے خرچ  کیاگیا ہوتا تو انہیں بہترین سہولیات میسر آتی تھیں۔
 مودی ہی نہیں بلکہ کسی بھی حکومت کو جان لینا چاہیے کہ نفرت کا کام کرنے سے کسی کاکوئی بھلا نہیں ہوتاہے بلکہ اچھی سوچ بھی بند ہوجاتی ہے،آسام میں جب سے این سی آر کی مہم چلی تو سب سے زیادہ مسلمانوں کوعدم تحفظ کااحساس پیدا ہونے لگاکیونکہ انہیں ڈرانے کی کوشش جاری رکھی گئی۔اس تعلق مسلمانوں  اس حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں  سچ کہہ دیتی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے دستاویزات درست کرنا شروع کردیا ہے اور کم بیش تھے انہیں بنالیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے سچائی بیان۔کرنے والی حکومت بلکہ ہندوؤں کو  جھوٹ بولتی ہے تب ہی آسام میں این آر سی کاشکار بننے والوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
حالانکہ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ لوگ مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانے  کی بات کرتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں کو بولتے ہیں کہ 19لاکھ میں سے 12 -13 لاکھ ہندو آسام میں این آر سی کے شکار بنے ہیں ۔
پڑوسی ممالک کے جو ہندو شہریت حاصل کرنے یہاں آئے ہیں انہیں کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔دراصل انہیں بے وقوف بنانے کی کوشش جاری ہے۔ہندوستانی بھی آسانی سے بے وقوف بن جاتے ہیں عام طور ہم اس وقت خوشی کا اظہار کرتے ہیں جب  بجلی واپس آتی ہے،بھلے وہ تین چار گھنٹے میں آئے۔حالانکہ کوشش یہ ہونا چاہیے کہ بجلی گل ہونے کاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔
گزشتہ چند سال سے   انتہائی حد تک لوگ گزرچکے ہیں کہ۔اگر کوئی شخص یا تنظیم حکومت کی مخالفت کرے تو اسے  ملک دشمن، دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔جوکہ ایک نامعقول حرکت ہے ۔
 یہ ایک ایسا دور ہے کہ حکومت بے وقوفوں کی طرح فیصلے کے رہی ہے،اس لیے ہمیں ٹھوک بجا کر اس کی جانچ کرنا چاہیے اور یہ انتہائی ضروری ہے۔ اگرمیدان میں جاکر لڑائی نہیں لڑیں گے ہم  تو ملک کو کھودیں  گے۔دراصل۔موجودہ
حکومت نے این سی آر کے تحت سبھی 130 کروڑ شہریوں کو قطار میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اگر 130 کروڑ نے شہریت ثابت کردی تو یہ لڑائی دس کروڑ اور پھر ان کے بعد دیگر باقی بچے شہریوں سےحساب کتاب مانگا جائے گا ،یقینایہ۔لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔جامعہ ملیہ اور اے ایم۔یو کے طلبہ کے ساتھ جو بدتمیزی کی گئی اور پولیس کے ظلم۔کا شکار بنایا گیا ،اس کے بعد ایک معمولی چنگاری نے شعلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ہندوستان۔کا۔کوئی شہر اور یونیورسٹی نہیں بچی جہاں احتجاج نہیں ہوا۔ملک کے اخباروں کی سرخیاں عرصہ بعد ایک جیسی نظر آ ئیں ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔
  9 1دسمبر کو جو احتجاج کیا گیا،وہ کوئی معمولی دن تھا وہ  ایک تاریخی دن تھا اس دن رام پرساد بسمل،اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ نے ملک کی آزادی کے لڑائی لڑتے ہوئے پھانسی سے لٹک گئیے تھے۔اوربقول یوگیندر یادو  اسی دن گاندھی جی میوات کے مسلمانوں کو یہ کہہ کر روک لیا کہ  تم ملک چھوڑ کرنہ جاؤ ، میں آپ کی مددکرونگا۔اور ان کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے 70ہزار مسلمان  راجستھان۔کی سرحد پر رک کر واپس لوٹ آئے۔
آج ہندوستان کا نوجوان اور طلبہ متحد نظرآرہا ہے ، ایک تحریک کا آغاز ہوچکا ہے اوراگر یہ اتحاد برقرار رہا تو  ہمیں مستقبل شاندار نظر آرہا ہے۔
9867647741
Attachments area
Preview attachment IMG_20191221_144449.jpg

ہ ،اگر ہم گزشتہ ایک صدی کا جائزہ لیں تو اس بات کا علم۔ہوگا کہ ملک میں جدوجہد آزادی کے دوران اور پھر ملک کی تقسیم اور انگریزوں کی غلامی سے دوسوسال بعد جو آزادی ملی ان 70 سال میں دو ایسے مواقع آئے ہیں،جن کے دوران ہمارے نوجوانوں نے حکمرانوں کے خلاف متحد  اور سینہ سپر ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے تھے۔دراصل ان تحریکوں کے پس پشت اتحاد اور آپسی تال میل کارفرما رہاتھا۔ملک میں سب پہلے 1920 میں نمک ستہ گرہ ،چالیس کے عشرہ میں   بھارت چھوڑ دو تحریک ،اس کے تقریباً چار عشرے بعد ملک میں جاری لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے خلاف جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ملک بچاؤ کے عزم  کے ساتھ اندراگاندھی کے خلاف عوامی مہم اور ایمرجنسی کے خلاف جن اندولن کو بھی دیکھا ہے اور پھر ایک بار چالیس سال کے عرصہ بعدعوام کے حقوق اور ان کی آزادی اظہار رائے چھیننے کی کوشش کے خلاف اٹھی تحریک نے موجودہ حکومت کو اس کی  ہٹ دھرمی اور ضد اپنانے کے باوجود دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)کے خلاف ملک کے عوام اور خصوصی طور پر نوجوانوں اور طلبہ نے جس اتحاد اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا ،وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہے۔یاد رہے کہ کوئی بھی تحریک عوام کے دم خم سے چلتی ہے اور یا تو جلدی یا تھوڑی دیر کے بعد کامیابی سے ہمکنارہوتی ہے  اور جوش و جذبے کو طویل عرصے تک آزماتی ہے،اس  قانون کے خلاف ملک بھر میں عوامی تحریک جاری ہے مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے اور اس کا ذکر پہلے بھی کیا جاچکا ہے کہ عوام نے ان اہل اقتدار کو اپنے دفاع پر مجبور کر دیا ہے،جوکہ نہ سننے کی عادت کے لیے بدنام ہیں۔اور اب وہ قومی سطح پر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کررہے ہیں اور وضاحت پیش کررہے ہیں۔
ہم۔نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کی نریندر مودی حکومت  ضدی اور ہٹ دھرمی کے لیے مشہور ہے،این آئی سی اور سی اےاے  نافذ کرنے کی اس کی ضد نے ہندوستانی عوام میں اسے ایک فسطائی حکومت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن اسے بے وقوف ہی کہاجاسکتاہے ،اسے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس تعلق سے سابق آئی اے ایس افسر گوپی ناتھن کا کہنا۔ہے کہ “اکثر ہم سڑک پر دیکھتے ہیں کہ ایک آوارہ کتا یہ طے کرلیتا ہے کہ  کالے رنگ کی کسی بھی تیزرفتار کار کو دیکھ کر بھونکنا ہے اور پھر وہ ہر آنے جانے والی کالے رنگ کی کار کو اپنا نشانہ بنا نا شروع کر دیتا ہے اور اسی رنگ کی کار کے پیچھے بار بارکافی دور تک دوڑلگاتا ہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے ،بالکل یہی حال موجودہ حکومت کا ہے۔کیونکہ کئی فیصلے لینے کے بعد وہ اگلاقدم اٹھانے سے قاصر رہ جاتی ہے۔ “
اس بات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا پہلے کالا دھن دن ختم کرنے کے نام پرسب سے پہلے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا گیااور مسرت سے اعلان کیا گیا کہ سو فیصدی سے زیادہ پیسہ واپس آ گیا ہے،اور اس رقم  میں جعلی نوٹ بھی شامل تھے ،اس کے بعد ڈیجیٹل اکانومی بنانے کے لیے قدم اٹھایا گیاجوبھی ناکام ہے ۔حال میں ریزرو بینک آف انڈیا نے  کہاہے کہ دو ہزار کے نوٹ کی چھپائی بند کر دی گی اور ان کا جواز ہے کہ دو ہزار کے جعلی  نوٹ بازار میں گشت کررہے ہیں ان کوالٹی کافی اچھی ہے ۔
اگر ہم ان تمام فیصلوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ان۔فیصلوں پر عمل آوری کے لیے انہیں عوام کی رضامندی حاصل۔رہی ہے۔  کالے دھن کوباہر لانا ہے ،اس سوال پر عوام۔نے مثبت جواب دیا ،اس مثبت جواب کی ایک۔طویل۔فہرست پائی جاتی ہے، لیکن عوام کو پتہ نہیں ہے کہ ان کی رضامندی سے  وہ خود  اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ۔
حکومت کا کالے دھن کی بات کررہی ہے اس کا عام۔لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے ،دراصل نوٹ بندی کے ذریعے مودی حکومت نے کسی کونہیں بخشا ہے ،بیرونی ملک کا پیسہ تو کسی صورت میں واپس نہ۔لاسکے ،لیکن   آٹو رکشہ والے ،ٹیکسی ڈرائیور،چھوٹے دکاندار ،چھوٹے تاجروں اور گھر میں روزمرہ کے خرچ سے بچائی جانے والی رقم۔کو بھی باہر نکال لیاگیا۔
گزشتہ لوک سبھا الیکشن کے موقعہ پر انتخابی جلسوں میں گھس پیٹھیوں کو ملک سے نکالے کا نعرہ دے کر ایک بار پھر یہ الزام بھی ان۔کے سرتھوپ دیا۔سوال یہ ہے کہ شہریت کے متعلق دستاویزات کا کے پا س نہیں  ہوتے ہیں۔ادی واسیوں،غریبوں اور پسماندہ طبقات  کے پاس نہیں ہوتے ہیں۔دوسرے شہروں میں  شادی بیاہ کرکے جانے والی  خواتین کے ساتھ ساتھ سیلاب اور زلزلے کے شکار لوگوں کے پاس دستاویزات نہیں ہوتے ہیں ۔اکثر  دوسرے شہروں میں کام دھندے کے لیے جانے والوں کے پاس  آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔
آسام میں این آر سی کی شروعات ایک عشرہ۔پہکے ہوگئی تھی اور پچھلے چھ سال۔میں 16 سو کروڑروپے خرچ ہوئے ہیں اوراس عرصے میں پچاس ہزار ملازمین اپنا کام دھندہ چھوڑ کر اسی میں لگے رہے اور اس کے باوجود ان کے سیاسی مفاد میں فیصلہ نہیں آیا تو اب اسے مسترد کر دیا گیاہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ عوام کاپیسہ پانی کی طرح بہہ دیا گیا۔اسی رقم۔کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کی فلا ح وبہبود کے لیے خرچ  کیاگیا ہوتا تو انہیں بہترین سہولیات میسر آتی تھیں۔
 مودی ہی نہیں بلکہ کسی بھی حکومت کو جان لینا چاہیے کہ نفرت کا کام کرنے سے کسی کاکوئی بھلا نہیں ہوتاہے بلکہ اچھی سوچ بھی بند ہوجاتی ہے،آسام میں جب سے این سی آر کی مہم چلی تو سب سے زیادہ مسلمانوں کوعدم تحفظ کااحساس پیدا ہونے لگاکیونکہ انہیں ڈرانے کی کوشش جاری رکھی گئی۔اس تعلق مسلمانوں  اس حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں  سچ کہہ دیتی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے دستاویزات درست کرنا شروع کردیا ہے اور کم بیش تھے انہیں بنالیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے سچائی بیان۔کرنے والی حکومت بلکہ ہندوؤں کو  جھوٹ بولتی ہے تب ہی آسام میں این آر سی کاشکار بننے والوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔
حالانکہ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ لوگ مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانے  کی بات کرتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں کو بولتے ہیں کہ 19لاکھ میں سے 12 -13 لاکھ ہندو آسام میں این آر سی کے شکار بنے ہیں ۔
پڑوسی ممالک کے جو ہندو شہریت حاصل کرنے یہاں آئے ہیں انہیں کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔دراصل انہیں بے وقوف بنانے کی کوشش جاری ہے۔ہندوستانی بھی آسانی سے بے وقوف بن جاتے ہیں عام طور ہم اس وقت خوشی کا اظہار کرتے ہیں جب  بجلی واپس آتی ہے،بھلے وہ تین چار گھنٹے میں آئے۔حالانکہ کوشش یہ ہونا چاہیے کہ بجلی گل ہونے کاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔
گزشتہ چند سال سے   انتہائی حد تک لوگ گزرچکے ہیں کہ۔اگر کوئی شخص یا تنظیم حکومت کی مخالفت کرے تو اسے  ملک دشمن، دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔جوکہ ایک نامعقول حرکت ہے ۔
 یہ ایک ایسا دور ہے کہ حکومت بے وقوفوں کی طرح فیصلے کے رہی ہے،اس لیے ہمیں ٹھوک بجا کر اس کی جانچ کرنا چاہیے اور یہ انتہائی ضروری ہے۔ اگرمیدان میں جاکر لڑائی نہیں لڑیں گے ہم  تو ملک کو کھودیں  گے۔دراصل۔موجودہ
حکومت نے این سی آر کے تحت سبھی 130 کروڑ شہریوں کو قطار میں کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اگر 130 کروڑ نے شہریت ثابت کردی تو یہ لڑائی دس کروڑ اور پھر ان کے بعد دیگر باقی بچے شہریوں سےحساب کتاب مانگا جائے گا ،یقینایہ۔لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔جامعہ ملیہ اور اے ایم۔یو کے طلبہ کے ساتھ جو بدتمیزی کی گئی اور پولیس کے ظلم۔کا شکار بنایا گیا ،اس کے بعد ایک معمولی چنگاری نے شعلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ہندوستان۔کا۔کوئی شہر اور یونیورسٹی نہیں بچی جہاں احتجاج نہیں ہوا۔ملک کے اخباروں کی سرخیاں عرصہ بعد ایک جیسی نظر آ ئیں ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔
  9 1دسمبر کو جو احتجاج کیا گیا،وہ کوئی معمولی دن تھا وہ  ایک تاریخی دن تھا اس دن رام پرساد بسمل،اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ نے ملک کی آزادی کے لڑائی لڑتے ہوئے پھانسی سے لٹک گئیے تھے۔اوربقول یوگیندر یادو  اسی دن گاندھی جی میوات کے مسلمانوں کو یہ کہہ کر روک لیا کہ  تم ملک چھوڑ کرنہ جاؤ ، میں آپ کی مددکرونگا۔اور ان کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے 70ہزار مسلمان  راجستھان۔کی سرحد پر رک کر واپس لوٹ آئے۔
آج ہندوستان کا نوجوان اور طلبہ متحد نظرآرہا ہے ، ایک تحریک کا آغاز ہوچکا ہے اوراگر یہ اتحاد برقرار رہا تو  ہمیں مستقبل شاندار نظر آرہا ہے۔
986764774
Attachments area

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here