حج اور قربانی کا فریضہ۔براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

0
139
حج اور قربانی کا فریضہ۔براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
حج اور قربانی کا فریضہ۔براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

حج اور قربانی دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں ایک فرض اور دوسری ایسی سنت جو فرض کی طرح ہی اہم ہے ۔ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی مسلم معاشرے میں حج اور قربانی کے تذکرے شروع ہوجاتے ہیں۔جو لوگ حج کی سعادت پاچکے ہیں ان کی نظروں میں سارے مناظر گردش کرنے لگتے ہیں۔قربانی کے جانوروں کے بازار سجنے لگتے ہیں ،گلی کوچوں سے بکروں کی ’میں میں ‘کی آوازیں کانوں میں رس گھولتی ہیں ۔حالاں کہ اس سال کورونا نے سب کچھ سونا سونا کردیا ہے۔سارے تیوہار ایسے نکلتے جا رہے ہیں جیسے کہ آئے ہی نہیں تھے۔خیر یہ تو نظام قدرت ہے ۔بہادر انسان وہی ہیں جو ہر طرح کے حالات میں جینے کے ہنر سے واقف ہیں۔عید الاضحی یا حج دونوں کا تعلق حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی سے ہے ۔وہی حضرت ابراہیم ؑ جن پر ہم نماز میں درود بھیجتے ہیں ،جنھیں اللہ نے امام الناس اور خلیل کے لقب سے نوازا ہے،جنھیں مسلم کہا گیا ہے ۔وہی سیدنا ابراہیم ؑ جن کی زندگی کو نمونہ اور اسوہ بنایاگیا ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ کی یاد میں منائے جانے والے تیوہار عید الاضحی اور ان کی یادگاروں کی زیارت کرنے والی عبادت حج ہر سال انجام دی جاتی ہے۔مگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان دونوں عبادتوں کو دیگر عبادتوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے انجام دیتے ہیں۔ ہمیں نہ قربانی کا مقصد معلوم ہے اور نہ حج کا ۔معلوم بھی ہو تو مقصد سامنے نہیں رہتا۔مقصد کو حاصل کرنے کی شعوری کوشش نہیں ہوتی ۔حضرتابراہیم ؑ ؑکی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح قرآن میں موجود ہے ۔اللہ نے جب اس زندگی کو ہمارے لیے اسوہ کہا ہے تو ہمیں جاننا چاہئے کہ ان کی زندگی سے ہمیں کیا اسباق حاصل ہوتے ہیں۔میں نے جو کچھ سمجھا ہے اسے میں اپنے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔اس دعا اور اس عزم کے ساتھ کہ اللہ مجھے بھی براہیمی نظر عطا فرمائے۔
حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہر روشن اور ابھرتی ہوئی چیز خدا نہیں ہوتی ،یعنی ’’چمکتا جو نظر آتا ہے وہ سب سونا نہیں ہوتا‘‘۔ستارے،چاند اور سورج کو نکلتے ،ابھرتے ،چمکتے اور ڈوبتے ہم بھی دیکھتے ہیں۔دنیا کا ہر انسان دیکھتا ہے ۔لیکن یہ حضرت ابراہیم ؑکی نظر تھی جو پکار اٹھی کہ’’میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا‘‘(الانعام ۷۶)
حضرت ابراہیم ؑکی زندگی سے دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ جب انسان کو حق مل جائے تو اسے اس پر قائم رہنا چاہئے۔چاہے اس حق کی خاطر اسے آگ میں جلایا جائے،گھر سے نکالا جائے یا کوئی بھی پریشانی جھیلنا پڑے۔اسے یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ سچائی کے راستے پر چلنے والوں کی حفاظت خدا کی غیبی طاقت کرتی ہے ۔ اگر اس راستے میں اس کی جان بھی چلی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ،کیوں کہ اس کی شہادت رنگ لاتی ہے۔یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ ہوا،آگ ،پانی اور کائنات کی ہر شئی کسی حاکم کے تابع ہے جو نار نمرود کو ٹھنڈا کردیتی ہے۔
تیسرا پیغام یہ ملتا ہے کہ اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔حضرت ابراہیم کی اپنے والد یا قوم کے ساتھ جو گفتگو ہے ۔اس میں کہیں بھی جھنجھلاہٹ اور گھبراہٹ نہیں ہے ۔بلکہ قوم کے سامنے اس طرح اپنی بات رکھی گئی ہے کہ قوم لاجواب ہوگئی ہے۔اپنی بات کسی کے سامنے بھی رکھی جائے تودلیل اور سلیقے کے ساتھ رکھی جائے۔ورنہ بہت قیمتی بات بھی بے اثر ہوجاتی ہے۔
قصۂ ابراہیم ؑ میں حضرت ہاجرہ ؑکا کردار بھی بہت اہم ہے ۔حضرت حاجرہ ؑکی اطاعت گزاری قابل رشک ہے ۔اللہ کے حکم پر جب حضرت ابراہیم ؑ حضرت ہاجرہؑ اور معصوم اسماعیل ؑ کو ایک ایسی جگہ چھوڑ کے جانے لگے جہاں دور دور تک کسی درخت کا سایہ بھی نہ تھا۔لیکن حضرت حاجرہ ؑنے اف تک نہیں کیا۔حضرت ہاجرہ اگر ذرا سا بھی ڈگمگا جاتیں تو حضرت ابراہیم کے لیے مشکل کھڑی ہوجاتی ۔ہماری خواتین کو نصیحت لینا چاہئے کہ اچھے اور بھلائی کے کاموں میں وہ اپنے مردوں کا ساتھ دیں اور ان کی ہمت بندھائیں۔
حضرت حاجرہ ؑکے کردار میں صفا مروہ کی سعی بھی سبق آموز ہے ۔جس سے ہمیں کوشش کرنے،جدو جہد کرنے اور تدبیر کرنے کا سبق ملتا ہے ۔ننھے اسماعیل ؑ کی پیاس پر وہ اللہ کے بھروسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بھی بیٹھی رہتیں تب بھی اسماعیل کی ایڑیوں سے چشمے پھوٹ پڑتے ۔لیکن حضرت ہاجرہ ؑکا پانی کی تلاش میں پہاڑیوں پر دوڑنا،اور پانی بہنے پر ریت کی منڈیروں سے روکنا ہمیں تدبیر اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
بیٹے کی قربانی کا خواب دیکھنے پرحضرت اسماعیل ؑ کاجواب ہماری نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔ایک ماں نے اپنے بیٹے کی کس طرح تربیت کی تھی اس کا اندازہ اس جواب سے لگائیے جو ایک بیٹے نے دیاہے ۔’’اے ابا جان آپ وہ کرئیے جس کا حکم اللہ نے آپ کو دیا ہے آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ،،۔کیا عالی شان جواب ہے جس نے عزم ،حوصلہ،ہمت اور جواں مردی کی انتہائوں کو چھو لیا ہے ۔اس دن کے بعد سے آج تک یہ اولوالعزمی کسی نے نہیں دکھائی ۔کوئی رستم و دارا ہمت و شجاعت کی اس معراج کو نہیں پہنچا اور نہ کبھی پہنچے گا۔اس میں ایک طرف ماں کی تربیت اور دوسری طرف حضرت اسماعیل ؑکی سعادت مندی ہے ۔اسی لیے علامہ اقبال ؒنے پوچھا تھا۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی
حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹے کی قربانی کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کردیا کہ اللہ کی محبت میں سب کچھ قربان کیا جاسکتا ہے۔انسان اپنی جان دینے پر تو آمادہ ہوجاتا ہے لیکن اپنے بیٹے کی جان دینے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتا۔بلکہ انسانی تاریخ میں ایسے ہزاروں واقعات ہیں کہ ایک باپ اپنے بچے کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار جاتا ہے ،لیکن یہ تاریخ انسانی کا نادر واقعہ ہے جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کی قربانی صرف اس لیے دے دیتا ہے کہ اس کے معبود نے اس سے یہ قربانی مانگی ہے ۔اس سے یہ نصیحت ملتی ہے کہ اولاد کی تربیت پر توجہ دی جائے اور اس کی محبت پر خدا کی محبت قربان نہ کی جائے۔
قربانی کی عبادت ہمیں ایثار کا سبق دیتی ہے ۔ہمارے اندرہر طرح کی قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔سماجی زندگی میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم سے بھی زیادہ کوئی ضرورت مند ہے ۔ایسے مواقع پر خود کی ضرورت کو روک کر دوسروں کی ضرورت پوری کرنا ہی اسوۂ براہیمی ہے ۔سفر کرتے وقت کمزور،بیمار،بزرگ اور خواتین کے لیے سیٹ خالی کرنا ،لائن میں بزرگوں کو پہلے جگہ دینا،ہمسائے کی ضرورت کا خیال رکھنا،جہالت،غربت دورکرنے لیے اپنے وقت کی ،صلاحیتوں کی اور مال کی قربانی دینا،جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس ملک کی خاطر قربانی دینے کی تعلیم ہمیں قربانی کے فریضے کی ادائیگی سے حاصل ہوتی ہے۔
ہمیں یہ نتیجہ بھی ملتا ہے کہ قربانی سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال کروڑوں جانور قربان کردیے جاتے ہیں ،مگر اگلے سال اس سے زیادہ جانور بازار میں نظر آتے ہیں۔اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ قربانی کبھی بے کار نہیں جاتی،جس پودے کو لہو سے سینچا جاتا ہے وہ ضرور پھل دیتا ہے۔ہم اگر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے قربانی دیتے ہیں توہمارے بچے کامیاب ضرور ہوتے ہیں،اسی طرح اگر قوم کی خاطر قربانیاں دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ قوم کو سرخ روئی حاصل نہ ہو۔
حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے اہل خانہ کا اللہ پر ایمان ،ایک ایسی روشنی ہے جو ہر ظلمت کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے ۔یہی وہ ایمان ہے جس کے سامنے نمرود کا سر بھی جھکتا ہے ۔آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ وقت کے فرعون اور نمرود کا تکبر اور گھمنڈ خاک میں مل جائے تو حضرت ابراہیم ؑ جیسا ایمان پیدا کرنا ہوگا۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی عالمی نوعیت کی حامل ہے اس لیے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو موجودہ دنیا کے تین بڑے مذاہب ،عیسائی ،اسلام اور یہودیت اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔اس سے عالمی اتحاد کی ایک بنیادفراہم ہوتی ہے۔تینوں مذاہب کے پیشوائوں کو آپسی محبت کا سبق اپنے معتقدین کو دینا چاہئے۔
مجھے امید ہے کہ ان نا گفتہ بہ حالات میں ہم عید الاضحی کے موقع پر حضرت ابراہیم ؑ کی حیات مبارکہ سے ملنے والے ان اسباق کو یاد رکھیں گے اور پورے شعور کے ساتھ، مقصد کو سامنے رکھ کر قربانی کی رسم ادا کریں گے۔ہم یہ عزم کریں گے کہ یہ تیوہار ہماری انفرادی اور قومی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا۔

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چھْپ چھْپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

کلیم الحفیظ۔ دہلی

Article by Kaleem.ul.hafeez on HaJJ and Qurbani

Sada Today  web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here