حکومت ایسی تمام آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے جوظلم اور ناانصافی کےخلاف ہوں

0
28
حکومت ایسی تمام آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے جوظلم اور ناانصافی کےخلاف ہوں
حکومت ایسی تمام آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے جوظلم اور ناانصافی کےخلاف ہوں

معصوم مرادآبادی

 

 

 

 

 

 

 

کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے سبب لاک ڈاؤن کی مدت میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔لاکھوں مزدور اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں اس جدوجہد میں دردناک موت کا شکار ہوئے ہیں۔پٹریوں پر ٹرین کی زد میں آنے والے مزدوروں کا غم ہی کیا کم تھا کہ سنسان سڑکوں پر بے تحاشہ دوڑنے والی گاڑیاں بھی انھیں روند رہی ہیں۔ کورونا وائرس سے ملک میں اب تک اتنی موتیں نہیں ہوئی ہیں، جتنی کہ بھوک، پیاس، لاچاری اور ہجرت کے نتیجے میں ہوچکی ہیں۔ بے روزگاری اور بھوک کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ ناقابل یقین انسانی بحران خود ہماری ناتجربہ کاریوں اور انانیت کا نتیجہ ہے۔
اس بحرانی دور میں حکومت جو کچھ بھی کررہی ہے، اس پر عوام یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ یہ سب ان کی بھلائی کے لئے کیا جارہا ہے۔ لیکن المیہ یہ بھی ہے کہ ان ہنگامی حالات میں بھی حکمراں جماعت اپنے سیاسی ایجنڈے سے غافل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کا استعمال اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے کیا جارہا ہے اور اس کا م کے لئے پولیس اور سرکاری مشینری کو بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔اس کا ایک ثبوت ان سماجی کارکنان کی اندھا دھندگرفتاریاں ہیں، جنھوں نے پچھلے دنوں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف عوامی تحریک میں حصہ لیا تھا اور اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کو یہ باور کرایا تھا کہ ملک کے عوام مذہبی تفریق پر مبنی کسی قانون کوبرداشت نہیں کریں گے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ اسی تحریک کے دوران بعض بی جے پی لیڈروں کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں شمال مشرقی دہلی میں خوفناک قتل وغارت گری ہوئی تھی،جس میں پچاس سے زیادہ بے گناہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ڈیڑھ درجن سے زیادہ مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ مرنے والوں میں 90 فیصد مسلمان تھے اور ان ہی کے مکان اور دکانیں تباہ وبرباد ہوئی تھیں۔ لیکن پولیس نے اس قتل وغارت گری کے سلسلہ میں جن 800 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں بھی 90فیصد مسلمان بتائے جاتے ہیں۔
المناک بات یہ ہے کہ جن لوگوں کوفساد برپا کرنے کا کلیدی ملزم قرار دے کرانسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، ان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں، جنھوں نے شاہین باغ اور جامعہ میں سی اے اے مخالف احتجاج منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ان میں ایک نام جامعہ کی طالبہ صفورہ زرگر کا بھی ہے جنھیں ایک ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ چار ماہ کی حاملہ صفورا کی رہائی کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ان کے ساتھ گل فشاں، میران حیدر، شفاء الرحمن ، سابق میونسپل کونسلر عشرت جہاں اور ان کے ساتھی خالد سیفی وغیرہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ان لوگوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ انھوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو اپنی اخلاقی حمایت دی تھی، جس کی سزا انھیں اتنی سخت دی جارہی ہے۔
دہلی کے ان سماجی کارکنان کے علاوہ اتر پردیش میں بھی ایسے درجنوں لوگ ابھی سلاخوں کے پیچھے ہیں، جنھیں سی اے اے کے خلاف جمہوری احتجاج کرنے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیا گیا ہے اور جن کی رہائی کے تمام راستے مسدود کردئیے گئے ہیں۔ ان میں ایک نام گورکھپور میڈیکل کالج کے ڈاکٹر کفیل کا بھی ہے، جنھیں یوگی سرکار نے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے متھرا جیل میں قید کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر کفیل اس سے قبل بھی یوگی سرکار کی مہربانیوں کے طفیل مہینوں جیل میں رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایک فرض شناس اور انسانیت دوست ڈاکٹر کے طور پر گورکھپور میڈیکل کالج میں سینکڑوں بچوں کی جانیں بچانے کے جس ’جرم‘ کا ارتکاب کیا تھا، اس کی سزا انھیں اب تک دی جارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ان کی حراست کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر ڈاکٹر کفیل کے اہل خانہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر متعصب ہونے اور سیاسی مفادات کے لئے ایک منظم سازش کے تحت ڈاکٹر کفیل کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ڈاکٹر کفیل کو علی گڑھ میں ایک سی اے اے مخالف اجلاس میں شرکت کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا اور علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے یہ کہتے ہوئے ان پر این ایس اے کے تحت کارروائی کی تھی کہ ان سے امن وامان کو خطرہ ہے۔ اسی طرح علی گڑھ کے طلباء لیڈر عامر منٹوئی کو بھی پابند سلاسل کیا گیا ہے۔اس کے برعکس جن بی جے پی لیڈروں نے شمال مشرقی دہلی میں اعلانیہ فساد بھڑکایا تھا، وہ سب کے سب پولیس کے تحفظ میں آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان میں انتہائی اشتعال انگیز تقریریں کرنے والے کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورماجیسے لوگ شامل ہیں۔پولیس نے ابھی تک ان سے یہ بھی نہیں پوچھا ہے کہ ان کے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ پرویش ورما نے حال ہی میں باجماعت نماز کی ایک پرانی ویڈیو ٹوئٹ کرکے یہ کہتے ہوئےمسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے، مسلمان اب بھی سوشل ڈسٹینسنگ کی پیروی نہیں کررہے ہیں۔ پولیس نے اس ویڈیو کو افواہ تو قرار دیا لیکن افواہ پھیلانے والے حکمراں جماعت کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ واضح رہے کہ پرویش ورما نے پچھلے کئی مہینوں سے دہلی کی مسجدوں کے خلاف مہم چلا رکھی ہے ۔
شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ فروری میں جو بدترین قتل وغارت گری ہوئی تھی اس میں مظلومین کی داد رسی کرنے اور انھیں راحت پہنچانے والی ایک اور شخصیت اس وقت حکومت کے نشانے پر ہے۔ یہ شخصیت دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی ہے، جن پر حال ہی میں بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ظفرالاسلام خان کا قصور بظاہر یہ ہے کہ انھوں نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں شمال مشرقی دہلی کی قتل و غارت گری کے خلاف آواز اٹھانے پر حکومت کویت کا شکریہ ادا کیا تھا۔ ان کی اس پوسٹ کو ملک میں بیرونی مداخلت کا دروازہ کھولنے والا قرار دے کر ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ قایم کرنے کے بعد دہلی پولیس کی اسپیشل سیل اور سائبر سیل نے گزشتہ ہفتے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو حراست میں لینے کے لئے ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ یہ اشتعال انگیز کارروائی افطار سے چند منٹ پہلے انجام دی گئی۔ اگر وہاں مقامی باشندوں کی طرف سے بروقت مزاحمت نہیں ہوتی تو پولیس اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتی۔ پولیس کی یہ کارروائی سراسر غیر قانونی اور اشتعال انگیز تھی، کیونکہ موجودہ بحرانی دور میں 65برس سے زیادہ کے کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کی قانونی ممانعت ہے۔
ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے دہلی ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی جو عرضی داخل کی تھی اس پر عدالت عالیہ نہ انھیں 22جون تک کی مہلت دے دی ہے اوران کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی پر روک لگادی گئی ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی دستوری اور اخلاقی ذمے داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ اداکیا اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کے معاملات میں حکومت اور پولیس کی گرفت کرنے میں پیش پیش رہے۔ خاص طور پر شمال مشرقی دہلی کی قتل وغارت گری کے دوران مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے دن رات جدوجہد کی۔ ان کی اس جرات بے جا کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ دہلی کی کجریوال سرکار بھی انھیں اقلیتی کمیشن کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی تیاری کررہی ہے۔
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کی مشینری ایسی تمام آوازوں کو خاموش کردینا چاہتی ہے جو کسی بھی قسم کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف پوری جرات کے ساتھ بلند ہوتی رہی ہیں۔ سی اے اے مخالف آوازوں پر انسداد دہشت گردی قانون یا این ایس اے کے نفاذ کا معاملہ ہو یا پھر مظلوموں کی داد رسی کرنے والے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان پر ’دیش دروہ‘ کا مقدمہ۔ یہ سب ان لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی سازش ہے جو اس ملک میں مظلوموں کی آواز ہیں اوربے خوف ہوکر ان کے حق میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی کہ ان ظالمانہ کوششوں کے خلاف ہر اس شخص کواپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے آواز بلند کرنی چاہئے جو سر اٹھاکر جینا چاہتا ہے۔ کسی بھی قسم کے ظلم کو برداشت کرنا خود ظالم کو مدد پہنچانے کے مترادف ہوتا ہے۔ بقول مظفر وارثی
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here