تباہ ہوتی معیشت اور ملک کوبرباد کرنےکا منظم پلان!حکومت انتہائی نکمی

0
76
تباہ ہوتی معیشت اور ملک کوبرباد کرنےکا منظم پلان!حکومت انتہائی نکمی
تباہ ہوتی معیشت اور ملک کوبرباد کرنےکا منظم پلان!حکومت انتہائی نکمی
اس وقت پوری دنیا کورونا کی مہاماری سے پریشان ہے، تقریباً 6ماہ سے مسلسل نظام زندگی مفلوج ہے،بہت سے ملکوں نے اس میں اچھی پیش رفت کی اور نظام زندگی بحال کرنے میں وہ بہت حدتک کامیاب رہے،لیکن ایک ہماراملک بھارت ہے جہاں کی حکومت انتہائی نکمی،بےحس اور بے شرم یسأہے،حکومت کی  کرسیوں پرایسے لوگ قابض ہیں جنکے اندر شرم وحیاء نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے،یہی وجہ ہے بھارت دن بہ دن تنزلی کی جانب بڑھ رہاہے،لاکھوں کروڑوں لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں،بھوک سے ہزاروں لوگ اب اپنی جان گنوا چکے ہیں،جی ڈی پی یعنی ترقی کی شرح اپنی آخری سطح پر پہنچ چکی ہے،لیکن حکومت  کواسکی کوئی فکر نھیں،وزارتِ عظمی کی کرسی پرقابض ایک جاہل شخص اپنے ماہانہ من کی بات پروگرام میں لوگوں کوکتے اور کھلونے  خرید نے کا مشورہ دے رہاہے،سوال یہ ہے کہ کیا کھلونے اور کتے سے لوگوں کے مسائل حل ہوجائیں گے؟اگر نہیں تو پھر اس طرح کی بھاشن بازی کا کیامطلب؟ آخر کیوں لوگوں کوبے وقوف بنایا جارہاہے؟کیا یہ حکومت  اسی کام کےلئے ہے؟لوگوں کے دکھ درد اور پریشانیوں کااحساس ان ضمیر فروشوں کو کیوں نہیں؟کب تک لوگ بھاشن کےذریعے اپنا پیٹ بھرتے رہیں گے؟اگر غیر جانب داری کے ساتھ اس حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ اس حکومت نے قدم قدم پر لوگوں کےلئے مشکلات ومصائب کھڑے کئے ہیں،انھوں  نے ابتک کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس سے لوگوں کی مشکلات کم ہوئی ہوں اور یہ سمجھاجائے کہ حکومت لوگوں کی خیرخواہی کررہی ہے، ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تشویشناک حدتک  گراوٹ آچکی ہے شاید اتنی بری حالت ملک کی کبھی نہیں رہی،2008 میں جب پوری دنیا کی معیشت ڈگمگا رہی تھی، اور بڑا  اثر پڑا تھا اس وقت بھارت کی  معیشت پر کوئی  فرق نہیں آیا اور اسکی معاشی رفتار برقرار رہی،جب ملک کی معیشت ہی کمزور ہوجائے گی تو ہمارا یہ ملک ترقی کیسے کر ے گا؟ دشمنوں سے مقابلہ کیسے ممکن ہے؟معیشت کی سست رفتاری  پر حکومت  اتنی بےحس کیوں  ہوچکی ہے؟اس سے یہی سمجھا جاسکتاہے کہ ملک کو تباہ و برباد کرنے کی ایک منظم پلاننگ کرلی گئی ہے اور یہ سب اسی پلان کا حصہ ہے،حکومت  کی کرسی پر بیٹھے جاہل لوگوں کو نہ علم سے کوئی مطلب ہے اور نہ ملک کی ترقی سے،انکے اوپر صرف ایک ہی نشہ سوار ہے اور وہ ہے “ہندو راشٹر” کاسوال یہ ہے کہ کیا ہندوراشٹر میں یہی سب ہوگا؟ خواتین عزت وعصمت پامال کی جائے گی،بےقصور اور معصوم لوگوں کی ماب لنچنگ کی جائے گی،لوگوں کو غلام بناکر رکھاجائےگا،سب کی آزادی سلب کرلی جائے گی،بنیادی حقوق سے محروم کردیاجائےگا،اور پھر چند مخصوص لوگ ملک وقوم کے سیاہ سفید کے مالک رہیں گے،یہ ہے ہندو راشٹر کا پلان،اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہوگا کہ کیا ہم ہندو راشٹر کے فارمولے کو قبول کرنے تیار ہیں یا نہیں؟ملک دن بہ دن بربادی اور ہلاکت کی جانب بڑھ رہاہے،من مانی حکومت  چلائی جارہی ہے،ملک کی آمدنی جن سرکاری اداروں سے ہوتی ہے ایک ایک کرکے اسے مخصوص  لوگوں کو بیچا جارہاہے،معصوم  وبے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہاہے،مخالفت میں اٹھنے والی آواز کو ختم کیا جارہاہے، ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ملک اہم اداروں،عدلیہ، مقنہ،اور میڈیا ان تمام  اداروں کو خرید لیا گیاہے،یہ آزادی کے ساتھ حکومت سے کوئی  سوال نہیں پوچھ سکتے،سپریم کورٹ آزادی کے ساتھ کوئی  فیصلہ نہیں سناسکتی،کیا اب بھی یہ کہا جائے کہ ملک میں جمہوریت ابھی باقی ہے،اگر نہیں تو کیا ہم اسی طرح جمہوریت  کی پامالی کا تماشا دیکھتے رہیں گے؟ ہماری ذمہ داری کچھ نہیں ہے؟ہندو مسلم کے درمیان  نفرت پیدا کرکے  یہ حکومت  انگریزوں کی روش اختیار کررہی ہے جسکا انجام انتہائی خطرناک ہوگا،ملک میں روز مرہ کی اشیاء  قیمتیں آسمان چھورہی ہے اور حکومت خواب خرگوش میں ہے،ہرطرف لوٹ کھسوٹ اور افراتفری کاعالم ہے، جسکو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں، حکومت الگ لوٹ رہی ہے بلکہ لوگوں کا خون چوس رہی ہے اور دوسرے لوگ الگ، پٹرول  ڈیزل سے لیکر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسکی قیمت آسمان کو نہ چھورہی ہو، سوال یہ ہے کہ اس قدر گرانی اور اور مہنگائی  کے درمیان  ان لاکھوں  کروڑوں لوگوں کی زندگیاں  کیسے چلے گی جو بے روز گار ہیں انکم کا کوئی ذریعہ انکے پاس نہیں، لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں پھر ایسے لوگ زندگی کیسے گزاریں گے؟کیا ان چیزوں پر کنٹرول کرنا اور قابو پانا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟
بھارت اسوقت سنگین معاشی بحران کا شکارہے،40سال میں پہلی بار ملک کی اتنی بری حالت ہوئی ہے،اخباری رپورٹ کے مطابق اب باضابطہ  طور پر بھارت، معاشی مندی کے مرحلے میں داخل ہورہاہے، اور لاک ڈاؤن کے بہانے یہ سنگھی حکومت  کبھی مسلمانوں کو نشانہ  بناتی ہے کبھی فلائٹ، ٹرین اور دیگر سرکاری اداروں کو ایک ایک کرکے بیچ رہی ہہے،افسوسناک بات یہ ہے کہ جی ڈی پی کی اتنی بری حالت ہونے کے باوجود  وزیر کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں،انھیں تو صرف دس لاکھ کاسوٹ زیب تن کرنے اور ہر روز کسی دوسرے ملک کا ٹور کرنے سے مطلب ہے،ملک میں معاشی بحران  کے باوجود  پی ایم کیئر فنڈس میں مسلسل ترقی ہورہی ہے جبکہ تمام کاروبار اس وقت ٹھپ ہے،پھر یہ سوال تو ضرور  پیدا ہوتاہے کہ ایسے لاکھوں  کروڑوں روپے،پی ایم کیئر فنڈ میں کون ڈونیٹ کررہاہے؟ اور ان لوگوں کا نام ظاہر کرنے سے یہ لوگ کیوں کترارہے ہیں؟کیا ملک کو یہ جاننے کا اختیار نہیں ہے کہ معاشی مندی اور معاشی بحران کے درمیان کون لوگ  اس فنڈ کاتعاون کررہےہیں  اور کیوں کررہے ہیں؟انکا نام کیوں  پوشیدہ رکھا جارہاہے؟آپ بھی سوچئے آخر اور کتنا ملک کو گمراہ کیا جائے گا؟ کبھی سی اے اے کے نام پر کبھی رام مندر کے نام پر،کبھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نام پر ملک کو مسلسل بربادی کی جانب لے جایا جارہاہے،اب یہ نوجوان  طبقے کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو اس سنگین بحران سے نکالنے کےلئے آگے آئے اور ان بہروپیوں سے اقتدار  کی کرسی چھین کر انھیں اپنے آخری انجام تک پہونچایا جائے،اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور وقت رہتے ملک کے تحفظ کےلئے کوئی منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار نہ کیا تو پھر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے  اور تباہ وبرباد ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا، انھیں اپنی اوقات  کاعلم تو اب تھوڑا تھوڑا ہورہاہے وہ اسطرح کہ سوشل میڈیا یوٹوب پر”من کی بات”کو نوجوانوں نے بڑی تعداد میں ریجیکٹ کردیاہے،ایک رپورٹ کے مطابق ساڑھے چار لاکھ لوگوں نے اس بیان کو ناپسند کیا  جس میں یہ مشورہ دیاگیا تھاکہ کتے اور کھلونے خریدو،ظاہر ہے یہ رد عمل صرف اسلئے ہے کہ ملک کا ہرنوجوان روزگار چاہتاہے،بےتکا بھاشن نہیں،جب لوگوں نے اتنی بڑی تعداد میں اس بھاشن کوناپسند کیاتو”کھسیانی بلی کھمبا نوچے”کے مصداق تلملاہٹ میں لائک اور کمینٹ کا آپشن ہی ختم کردیاگیا،جبکہ اسی لائک،کمینٹ اور سوشل میڈیا کےذریعہ یہ اپنا سینہ پھلاتاتھا،یہ مکار اور اور عیار لوگوں  کوپوری طرح اپنی اوقات بتانے کی ضرورت ہے،ملک کو لوٹنے والوں سے کئی سال قبل ڈاکٹر راحت اندوری مرحوم نے کہاتھا کہ
جولوٹنا ہے تو لوٹو مگر یہ خیال رہے
تمہارا گھر بھی مرے گھر کے بعد آئےگا
اللہ تعالی ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے
(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
(سرفراز احمد قاسمی (حیدراباد
Article on condition of the country during Corona
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here