مزدور کتنا مجبور۔انسانیت دم توڑ چکی ہے۔حکومت بے حس ہوچکی ہے

0
48
مزدور کتنا مجبور۔انسانیت دم توڑ چکی ہے۔حکومت بے حس ہوچکی ہے
مزدور کتنا مجبور۔انسانیت دم توڑ چکی ہے۔حکومت بے حس ہوچکی ہے

محمد نوشاد عالم ندوی

سینئر سب ایڈیٹر روزنامہ انقلاب

…آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
ملک کی تعمیر کرنے والے مزدور کتنا مجبور!موجودہ وقت میں مزدور جس کثیر تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں وہ ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی باردیکھنے کو ملا ہے ۔ نقل مکانی کے ویڈیو کو دیکھنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے انسانیت دم توڑ چکی ہے۔

لاک ڈائون کو ۵۰؍ دن سے زائد ہو گئے لیکن ابھی تک مزدوروں کو گھر نہیں پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ عوام الناس کے بچائواورراحت کے نام پر اب تک جو متعدد اعلانات کیے گئے ہیں وہ سب کے سب صرف اعلانات تک ہی محدود ہیں۔ اخباروں اور نیوزچینلوں کے ذریعہ مزدوروں کی جو تصویریں سامنے آرہی ہیںوہ دردناک ہی نہیں بلکہ انسانیت کو تار تار کرنے والی ہیں۔ الگ الگ ریاستوں سے اپنے گھروں کو واپس ہو رہے مزدوروں کی جو ہزاروں میل کا پیدل سفر کرکے،بھوکے پیاسے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ کس طرح سے سفر کر رہے ہیںان کے اس درد کو کوئی سمجھ نہیں سکتا ،ان کی داستانیں رونگٹے کھڑے کردینے والی ہیں۔کوئی ہفتوں پیدل سفر کرکے اپنے گھر پہنچ رہا ہے تو کوئی سائیکل ، رکشے اور ٹھیلوں پر بیوی اور بچوں کو بٹھائے اپنی منزل کی طرف رواں دواںہے۔ایسے افراد کی تعداد ایک دو نہیں لاکھوں اورکروڑوں میں ہے جو لاک ڈائون کے سبب بے روزگار ہوگئے ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں اس لئے وہ مزدور سیکڑوں و ہزاروں میل کا سفر پیدل طے کرکے اپنے اپنے گائوں پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں، اور اس کوشش میں اب تک درجنوں افراد، بھوک، سڑک اور ریل حادثات اور بیماریوں سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
عالمی سطح پر مزدوروں کے حالات پر گھڑیالی آنسو اور مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل کے بلندو بانگ دعوے عرصے سے کیے جاتے رہے ہیں۔مختلف مواقع اور تقاریب میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ مزدوروں کے نام نہاد مسیحا مزدوروں کو فرش سے عرش پر لے جانے کی پرکشش لفاظی کرتے نظر آتے ہیں۔ لاک ڈائون کے دوران مزدوروں پر جو ظلم ہوا ، اور ہورہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر ہم یہ کہیں تو شاید بجا ہوگا کہ مکمل لاک ڈائون کے دوران سب سے زیادہ ظلم مزدوروں پر ہی ہوا ہے۔ تختہ مشق مزدوروں کو ہی بنایاگیا ۔ لوگ پتہ نہیں کہاں کہاں سے، کن کن ریاستوں سے پیدل ہی چل کر اپنے اپنے گھروں تک اوراپنے ماں باپ، بیوی بچوں سے ملنے کے لیے نکل پڑے۔ کچھ خواتین مزدور تو اپنے کندھوں پر معصوم بچوں کو بھی اٹھائے چل دیں۔ سوچئے کہ عورت خود ہی کتنی نازک ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے اوپر اپنے اپنے معصوموں کو اٹھا کر انجام کی پرواہ کیے بغیر منزل مقصود کی طرف چل پڑی۔ کیا یہ ان کا ’مانو سوبھائو‘ یا شوق تھا، یا مجبوری، یہ تو سرکار طے کرے گی یا ستّا کا ’سوبھائو‘۔ اس کو لے کر قومی سطح سے لے کر عالمی سطح پرہمارے ملک کی جو بدنامی ہوئی ہے، وہ نابل بیان ہے۔ اس کے باوجودمرکزی اور ریاستی حکومتیں صرف زبانی جمع خرچ کرکے مزدور وں کے کلنک کو دھونے سے قاصر نظر آرہی ہیں۔ ملک کے وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ کیا کریں، ’مانو سوبھائو ‘ میں لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں، ذرا سوچئے، کیا ’مانو سوبھائو ‘میں لوگ ہزاروں ہزار کلو میٹر پیدل چل کر، بھوکے پیاسے اپنے گھر کو لوٹیں گے، ہاں، جن لوگوں کو ہوائی جہاز سے لایاگیا تھا، وہاں’مانو سوبھائو‘ تو ہوسکتا ہے لیکن ان پیدل چلنے والوں کے لیے نہیں۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ’ستا کا سوبھائو ‘ہے کہ مزدوروں کی مجبوریوں کو ’مانو سوبھائو‘ کہہ رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عملی طور پر یہ طبقہ جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، ہم سب عام زندگی میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس بیچ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایک بڑے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جو موضوع بحث ہے،جس میں انہوں نے ۲۰؍لاکھ کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے، اس کے بعدوزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اس خطیررقم کی وضاحت پیش کی اور بتایاکہ کس صنعتی سیکٹر کوکتنے کروڑ دیے جائیں گے۔ لیکن اس میں کہیں مزدوروں کا ذکر نہیں تھا کہ ان مزدوروں کی اموات کو کیسے روکا جائے، یا ان مزدوروں کو کیسے ان کے گھروں تک پہنچایا جاسکے۔ شاعر کی زبانی ہم یہ کہہ سکتے ہیں:
میرے دل کی مجبوری کو الزام نہ دے
مجھے یاد رکھ بیشک میرا نام نہ لے
ادھر اپوزیشن مزدوروں کی حالت زار پر برسراقتدار حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ کو آئیسولیشن پر رکھ دیا ہے یا کوروناکے مشتبہ مریضوں کی طرح اس کو بھی کورنٹین کردیا گیا ہے۔ یہ توواقعی سوچنے کی بات ہے کہ آخر حکومت مزدوروں کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے ؟ آخر پی ایم کیئر فنڈ کہاں ہے ؟ یقینا حکومت سے یہ سوال کیا جانا چاہے کہ وہ پی ایم کیئر فنڈ کب اور کس پر خرچ کریں گے ؟ آج مزدوروں کو ان کی مرضی کے بغیر روکا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ کرناٹک حکومت نے مزدوروں کے لیے چلائی جانے والی شرامک اسپیشل ٹرین کوچند ٹھیکیداروں یا بااثر لوگوں کے کہنے پر کینسل کردیا،اور ان مجبور ولاچار مزدوروں کو پیدل چلنے پر مجبور کیاگیا۔
آپ کو تو یاد ہی ہوگا کہ امیروں کو ہوائی جہاز سے لایاگیا تھا،اور غریبوں کے لیے تو ٹرین اور بس چلانے کے بجائے ان پر ٹرین چڑھائی جارہی ہے۔ آخر یہ الگ الگ قانون کیوں ؟ امیروں کے لیے ہوائی جہاز اور غریبوں کے لیے خاک؟
اندوہناک واقعہ جوسہارنپور اورمظفرنگر کے درمیان میں پیش آیا ، جس میں بے سہارا مزدور پنجاب سے اپنے گھر بہار پیدل ہی جارہے تھے، روڈ ویز بس نے کچل دیا، حالانکہ وزیراعلیٰ یوگی نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا، کاش یہ تحفہ قبل از مرگ دیتے تو…،خیر! یہی نہیں اس کے علاوہ اورنگ آبادکی ریلوے پٹری پر۱۶؍مزدوروں کو ریل نے کچل دیا، جس سے پورا ملک غم اور سوگ میں ڈوب گیا ۔ ان مزدوروں کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ لوگ سرکار کے سوتیلے رویے سے تنگ آکر اپنوں سے ملنے کی کوشش میں پیدل ہی نکل پڑے تھے، وہ جو روزی روٹی کمانے کے لیے ، اپنے گھروالوں کی کفالت کے لیے گھر سے نکلے تھے، لیکن انہیں موت نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ غور کیجئے، یہ مزدور ذہنی طور پر کتنے کمزور اور مجبور رہے ہوں گے، وہ یہ بھی نہیں سوچ پائے کہ جس پٹری پر ہم سورہے ہیں اس پر ٹرین بھی چل سکتی ہے۔ ٹرین سے کٹ کر جن مزدوروں کی موت ہوئی، کیااس کے لیے سرکار ذمہ دار نہیں ہے۔ کس کی مجرمانہ لاپروائی کے سبب ان غریب مزدوروں کی موت ہوئی ہے، یہ سوال سرکار سے پوچھنا بہت ضروری ہے۔ ہم اس تحریر کے ذریعہ سرکار سے سوال کرتے ہیں ، آخر ان مزدوروں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بہت دکھی ہیں، یقینا آپ غمزدہ ہوں گے، ہر مثبت سوچ والے ہندوستانی اس واقعہ سے رنجیدہ ہوں گے، لیکن آپ تو ملک کے وزیراعظم ہیں، آپ نے ان مزدوروں کے لیے کیا کیا، ان کو گھر تک پہنچانے کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیوںنہیںکیے۔ آپ اگر چاہتے تو ان مزدوروں کوپی ایم کیئر سے سیدھے منزل تک پہنچا سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا، ان مزدرووں کو ایک شہر چھوڑ کر دوسرے شہر کا رخ کرنا پڑا، کیا اس کے لیے ریاستی حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ۲۰؍لاکھ کروڑ پیکیج کا اعلان کیا ، مگر اس میں بھی ان بے سہارا مزدوروں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ گڑگائوں سے لوٹے دلت مزدور کی یوپی پولیس نے اس بے دردی سے پٹائی کی کہ وہ کسی لائق نہیں رہا، آخر کار موت کو گلے لگالیا، ان کا ویڈیو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میری غلطی صرف یہ تھی کہ گھر میں اناج نہیں تھا، اس کے لیے چکی تک گئے تھے۔ اسی طرح ایک ٹیمپو میں تقریباً ۱۹؍ مزدور سوار ہوکر ممبئی کے بھیونڈی سے لکھنؤ لوٹ رہے تھے، لیکن ٹیمپو ڈرائیور کی حادثہ میں موت ہوگئی۔ غلطی اس کی مجبوری تھی، اس کے پاس کرایہ نہیں تھا، کھانے پینے پر مجبور تھے۔ آخر ہم یہ سب کیا دیکھ رہے ہیں اورحکومت کرکیا رہی ہے۔ ذرائع سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ کورنٹین کے نام پر لوگوں کے ساتھ خاص کرکے مزدوروں کے ساتھ ظلم وزیادتی ہورہی ہے، اس کا ایک واضح ثبوت روشن اور محمد جاوید نامی مزدور ہے۔
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت
آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
موجودہ وقت میں عوام جس کثیر تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں وہ ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بارہے یایہ ہندوستان کی تقسیم کا وقت یاد دلارہی ہے۔ مزدوروں کی نقل مکانی کے ویڈیو کو دیکھنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے انسانیت دم توڑ چکی ہے۔ کسی کی گو د میں تین مہینے کی بچی ہے تو کوئی اپنی ماں کو گود میں لیے ہوئے پیدل چل رہا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ پیدل چلنے کی وجہ سے اب تک بیالیس یا اس سے زیادہ مزدوروں کی موت ہوچکی ہے ، آخر ان اموات کا ذمہ دار کون ہے ؟کیا حکومت اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ حکومت وقت تو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتی ہے کہ ہم ’گروونگ ایکونامی‘ ہیں تو پھر لاکھوں لوگ پیدل کیوں چلنے پر مجبور ہیں۔یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایک ایک مزدور کے گھر پہنچ جانے سے قبل تک جاری رہے گا۔ اگر حکومت وقت رہتے اس پر خاطرخواہ توجہ دیتی تو یہ موت کے منھ میں نہیں بلکہ اپنے اہل وعیال کے درمیان ہوتے۔لیکن حکومت خواب غفلت میں رہی، یا پھر ان کو مزدوروں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، جس کی وجہ سے کوئی منظم لائحہ عمل تیار نہیں ہوسکا۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
…کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
ان سب کے بیچ یوپی اور دیگر ریاستی حکومتوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ مزدور قوانین کو تین سال کے لیے منسوخ کر دیا ہے، حکومت نے لاچار مزدوروں پر قوانین کو منسوخ کر کے جو ضرب لگائی ہے وہ ان کے حقوق اورمفاد پر حملہ ہے اور یہ حملہ جمہوریت پر بھی ہے ۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں حکومت کو اپنی ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے تھا ، مزدوروں کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہئے تھا لیکن ایسے نازک حالات میں بھی وہ تاناشاہی فیصلے کے ذریعہ زخم پر نمک پاشی کر رہی ہے ،اور کیوں نہ کرے، جب سیاں بھئے کوتوال تو کاہے کا ڈر۔ آپ کو بتادیں کہ اس مزدور قوانین کو ختم کرنے سے سرمایہ کاروں کو مضبوطی ملے گی اور مزدور طبقہ مزید مفلس ولاچار ہوکر رہ جائے گا ۔جبکہ یہ صاف ہے کہ ملک کی معیشت میں ان مزدوروں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ مالک اور مزدور دونوں کے تعلقات اگر خوشگوار ہوں گے تو ملک میں معاشی اور صنعتی امن قائم ہوگا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مزدوروں کے حقوق کو درکنار کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کا ساتھ دیا ہے ۔ جب لاک ڈائون میں ملک کا مزدور طبقہ زندگی اور موت کے درمیان جوجھ رہا ہے تو ایسے میں محنت کشوں کو طاقت دینے کی بجائے حکومتوں نے ان کے حقوق پر ہی حملہ کر کے کمزور سے کمزور ترکرنے کی کوشش کی ہے۔ مزدور ملک کی تعمیر کی بنیاد ہوتے ہیں ، حکومت نے ملک کی بنیاد کو مضبوط کرنے کی بجائے جان بوجھ کرکمزور کرنے کا کام کیا ہے جو قابل مذمت ہے ۔
رپورٹوں کے مطابق اور اکنامی کی گراوٹ اور دیگر اعدادوشمار کے مطابق یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ ملک کی معاشی بدحالی نگیٹو شرح نمو کا گواہ بن سکتی ہے۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ہم نے مزدوروں کے حقوق کو نظر انداز کیا تو ہم ملک میں صنعتوں کو کیسے بحال کریں گے ، ان کو کیسے مضبوطی دیں گے ؟ اور ہم اپنی معیشت کو کیسے پٹری پر لا سکیں گے ؟ اگر یہی حالات رہے تو وہ دن دور نہیں کہ مزدوروں کا حکومت کے اوپر سے اعتماد و یقین اٹھ جائے گا اور ملک کو ایک نیا خطرہ لاحق ہو جائے گا ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں دوبارہ ’’ورن ویاوستھا ‘‘ (طبقاتی نظام ) اور امیروں کی استحصالی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہتی ہے جو قطعی طور پر ملک کے حق میں نہیں ہے ۔
آخر ،ان اموات یعنی پنجاب سے گھر جارہے ۶؍اور اورنگ آباد کے ریلوے کی پٹری پر ۱۶؍، گڑگائوں سے لوٹے دلت مزدور کی پولیس کی پٹائی سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی اور پھر ممبئی سے لکھنؤ جارہے ایک مزدور کی سڑک حادثہ موت کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا سرکاریں اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، اس کے باوجود جب وزیراعظم کا خطاب ہوا اور اس میں ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا تو بھی اس میں ان مزدوروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے تو یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت ملک کے معمار مزدوروں کے تئیں کس قدر سنجیدہ ہے؟ یعنی اس کو مزدوروں کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ خدا را، مزدوروں کی اموات پر بریک لگانے کے لیے اور وہ مزدور جو ابھی بھی راستے میں ہیں، اور الگ الگ مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں، ان کے لیے حکومت ٹھوس لائحہ عمل تیار کرے، اور ایسے نازک اور مشکل وقت میں نہ ہی حکومت اور نہ ہی اپوزیشن سیاست کرے، بلکہ ان مزدوروں کے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھائیں، اور مزدور وں کے قوانین کی منسوخی کو روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کریں۔حالانکہ کانگریس سمیت آٹھ سیاسی جماعتوں اور مزدور تنظیم نے مزدوروں کے قوانین کے لیے آواز بلند کی ہے۔ لیکن ان سب کو بالائے طاق رکھ کر خود برسراقتدار حکومت کو ۱۶؍مزدوروں کی ٹرین سے کٹ کرموت، روشن لال نامی مزدور کی پولیس کی پٹائی کے بعد خودکشی اور محمد جاوید کی گھر لوٹتے وقت سڑک حادثہ میں موت پر ہوش کا ناخن لینا چاہئے ۔ہم پھر کہہ رہے ہیںاے امیر شہر، یہ ’مانو سوبھائو ‘نہیں ہے، بلکہ کرایہ نہ ہونے کی اور بھوک کی مجبوری ہے۔ سرکار کے ڈھلمل رویہ کا خمیازہ مزدور بھگت رہی ہے۔ اس لیے ان مجبور مزدوروں کے لیے ٹھوس قدم اٹھائیے۔ ۲۰۲۲ تک سب کو مکان دینے والی سرکار موجودہ وقت مزدوروں کو ایک وقت کی روٹی تک نہیں دے پارہی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ سرکار اپنے اس رویہ میں تبدیلی کرے گی اور مضبوط وکارگر لائحہ عمل تیار کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here