جب کورونا کی کوئی دوائی نہیں ہے تو مریض کیسے صحت یاب ہو رہے ہیں؟ ۔.اچھی خبر آپکے لئے

آگرہ کے سینئر معالج ڈاکٹر اروند جین کے مطابق ، کورونا وائرس کے حوالے سے بہت سارے ایسے راز ہیں جو ابھی تک نہیں کھل سکے ہیں۔ لوگ اس کے انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں بھی بہت ساری باتیں بھی کرتے ہیں احتیاط بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ سچ ہے کہ کورونا وائرس کے لئے ابھی تک کوئی دوا نہیں بنائی گئی ہے ، لیکن انفیکشن سے بچنا ہی اس کا علاج ہے۔ اس بچاؤ کی وجہ سے ، متاثرہ افراد کے مقابلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اور اس سے پوزیٹو افراد میں خاصا فرق ہے ڈاکٹر اروند نے مزید وضاحت کی ہے کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس کے انفیکشن سے نجات حاصل کر رہے ہیں ، اس کے پیچھے واحد وجہ ان کی سماجی دوری ، صفائی ستھرائی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ن کا امیون سسٹم اچھا ہے۔ چونکہ متاثرہ شخص کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ، اس کے جسم سے کورونا وائرس کا انفیکشن ختم ہوجاتا ہے ،لہذا ، لوگوں سے اکثر ان تین چیزوں کو اپنانے کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ یعنی ، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے لیکن اس کی قوت مدافعت اچھی ہے ، تو وہ خاموش کیریئر بن جاتا ہے۔ وائرس کا انفیکشن اس پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے ، لیکن کمزور قوت مدافعت والے افراد اس کے ساتھ رابطے میں ہوکر انفیکٹڈ ہوجاتے ہیں۔ اس لئے سب سے ذیادہ ضروری ہے آپکا امیون سسٹم ۔یعنی قوت مدافعت ،سماجی دوری یا آئیسولیشن بھی ۔اور صاف ستھرائی کا خیال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے