غزل

0
21
غزل

کاغذی پھولوں سے ہم نے جو سجا لی دنیا
پھر تو ہونی ہی تھی مہکار سے خالی دنیا

دامنِ غیر اگر تھام لیا ہے تم نے
دشتِ تنہائی میں ہم نے بھی بسا لی دنیا

اپنے ارمانوں کی میت پہ تھا میں نالہ کناں
میرے رونے پہ بجاتی رہی تالی دنیا

بغض و نفرت کی ہواؤں کا ہے غلبہ ہر سو
جذبۂ عشق واخوت سے ہے خالی دنیا

محوِ گردش ہمیں رہنا ہے نہ جانے کب تک
کہہ کے کن تونے تو پل بھر میں بنا لی دنیا

کیا خبر تھی کہ کسی روز مری خوشیوں سے
خود ہی جل جل کے یوں ہو جائے گی کالی دنیا

آن پر جان لٹانے کی تھی جراَت اس میں
اب کہاں شاؔد رہی ویسی مثالی دنیا

شمشاد شاؔد، ناگپور (انڈیا)
9767820085

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here