غزل .مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ ۔رخشندہ نوید

0
85
غزل .مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ ۔رخشندہ نوید
غزل .مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ ۔رخشندہ نوید

غزل اردو شاعری کی سب سے مشہور صنف سخن ہے غزل میں حسن وعشق کی داستان ہی نہیں ہوتی بلکہ بلکہ غزل ذندگی کی عکاس ہوتی ہے ۔معاشی سماجی سیاسی سبھی معاملات اس میں میں  بیان ہوتے ہیں۔۔غزل کو ایک نیم وحشی صنف سخن بھی کہا گیا ہے ۔لیکن ہر دور میں اس  نے اپنا سکہ جمایا ہے پیش ہے ۔سرحد پار کی ایک مشہور شاعرہ رخشندہ نوید کی غزل

کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ
مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ

جہاں جہاں گئی ہوں میں، تمہارا ہاتھ تھام کر
ہوا اُدھر اُدھر گئی، سبک خرامیوں کے ساتھ

اسی لیے ہوئے ہو تم قریب سے قریب
ہزار خوش مزاجیوں ،خوش کلامیوں کے ساتھ

کسی۔ مقام جبر پر شہید ہو گئی ہوں میں
مجھے بھی دفن کیجیے گا سو سلامیوں کے ساتھ

یہ کیا ہوا کہ اس کے باوجود بازی ہار دی
کھڑی تھی میں توسراٹھائےاپنےحامیوں کے ساتھ

مری زمیں ترے تئیں یہ فیصلہ درست ہے
ہوا جو حال وہ ہوا بدانتظامیوں کے ساتھ

عبور کرنا سہل کب ہے پل صراط عشق کا
کنار زیست ہم کھڑے ہیں ناتمامیوں کے ساتھ

رخشندہ نوید۔پاکستان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here