غزل ۔کیسے بھولوں ساتھ ہے اس کے۔گزرا ایک زمانہ میرا۔ناز خاں

0
128
غزل ۔کیسے بھولوں ساتھ ہے اس کے۔گزرا ایک زمانہ میرا۔ناز خاں
غزل ۔کیسے بھولوں ساتھ ہے اس کے۔گزرا ایک زمانہ میرا۔ناز خاں

چارہ گر تجھ کو یہ کس بات پہ رونا آیا
مجھ کو تو اپنے ہی حالات پہ رونا آیا

غیر تو غیر تھے کیا حال بتاتی انکو
مجھکو اپنوں کے سوالات پہ رونا آیا

اب مجھے فصل بہاراں بھی خزاں جیسی ہے
دل کے بے رنگ سے جذبات پہ رونا آیا

اب نہ دن رات کا احساس رہا ہے باقی
دن پہ گر آئ ہنسی رات پہ رونا آیا

جب بھی چپ چاپ میں تنہائ میں جا بیٹھی ہوں
دل پہ گزرے ہوئے صدمات پہ رونا آپا

جیت کر تم سے جو خود میں نے چنی تھی اپنی
آج بے ساختہ اس مات پہ رونا آیا
کیا کہوں ناز جو دی درد الم کی صورت
اسکی بخشی ہوئ سوغات پہ رونا آیا
غزل

کیسا وہ دیوانہ میرا
درد نہ اس نے جانا میرا

اس کے در سے یاد ہے مجھ کو
افسردہ سا آنا میرا

کیسے بھولوں ساتھ ہے اس کے
گزرا ایک زمانہ میرا

اس کو بھی تڑپاتا ہو گا
شب بھر اشک بہانا میرا

دل کے درد کا اس دنیا میں
کون سنے افسانہ میرا

جب تک ناز کے ساتھ رہا وہ
وہ تھا دور سہانا میرا

( نازخان (یوکے مانچسٹر

 

ghazal b y naz khan uk

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here