غزل سمندر پار سے۔اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجاۓ کچھ دن

0
71
غزل سمندر پار سے۔اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجاۓ کچھ دن
غزل سمندر پار سے۔اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجاۓ کچھ دن

سمندر پار سے:  غزل

تمھاری دید کا موسم نہیں ہے
یہ صدمہ بھی تو کوٸ کم نہیں ہے

ہوا سے اڑ رہے ہیں میرے گیسو
مری زلفوں میں کوٸ خم نہیں ہے

نہیں مل پاۓ گا تجھ جیسا ہم کو
ہجومِ خلق گرچہ کم نہیں ہے

نہ ہو گر تو ، تو جینا کیسا جینا ؟
اگر تو ہو تو کوٸ غم نہیں ہے

اگر ہوں نادیہ جذبات سچے
تو پھر رستوں میں پیچ و خم نہیں ہے

غزل
اپنی آنکھوں میں حسیں خواب سجاۓ کچھ دن
خود فریبی میں سہی ، ہم نے بتاۓ کچھ دن

اسکی قربت سے مہکنے لگیں سانسیں میری
خواب جینے کے مجھے اس نے دکھاۓ کچھ دن

زندگی ساتھ گزر جاتی تو اچھا ہوتا
شکریہ ! جتنے مرے ناز اٹھاۓ کچھ دن

آرزو تھی کہ محبت سے مہکتی جاٶں
اس نے بالوں میں مرے پھول سجاۓ کچھ دن

پھر اسے میری طلب اور زیادہ ہوتی
اپنے ہاتھوں سے پلاتی ، اسے چاۓ کچھ دن

تیرے جاتے ہی سحر کھو سی گٸ ہو جیسے
کتنی روشن تھی مری خواب سراۓ کچھ دن

:  غزل

کبھی تو مہر کبھی ماہتاب ہونا تھا
تجھی سے پیار مجھے بے حساب ہونا تھا

ترے ہی ساتھ گزرنی تھی زندگی میری
مہک تجھے ، مجھے تازہ گلاب ہونا تھا

ہر ایک صبح ترے نام سے طلوع ہو کر
ہر ایک رات مجھے تیرا خواب ہونا تھا

جو ہوتی سوہنی ، گھڑے کے سہارے آجاتی
یہ جان کر بھی کہ نذرِ چناب ہونا تھا

مجھی سے ہوکے شروع مجھ پہ ختم ہوجاتی
ترے سوال میں میرا جواب ہونا تھا

ہر ایک سانس تری قرض دار ہونی تھی
دھڑکتا دل یہ تجھے انتساب ہونا تھا

ہر ایک بار تجھے چاہنا تھا جانِ سحر
ہر ایک بار ترا انتخاب ہونا تھا

: ایک غزل

بے رخی اس کی بڑھی ، چہرہ ء گل زرد ہوا
کرب سینے میں اٹھا ، لہجہ ء دل سرد ہوا

یوں لگا دنیا میں کچھ بھی نہیں ، کچھ بھی تو نہیں
یوں تو کہنے کو جدا مجھ سے بس اک فرد ہوا

کچھ محبت کا بھرم رکھتا زمانے کے لیے
کس قدر اجنبی مجھ سے مرا ہم درد ہوا

میں تو عورت تھی سہا دردِ جداٸ میں نے
اس کے دل کی وہی جانے کہ وہ اک مرد ہوا

راکھ کا ڈھیر ہوٸ زندگی پھر سے میری
گویا یہ دل نہ ہوا ، خاک ہوا ، گرد ہوا

دل مرا سارے زمانے نے دکھایا تھا سحر
آج جب اس نے دکھایا تو بہت درد ہوا

نادیہ سحر

Ghazal by Nadia Sehar from Pak

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here