نہ کوئی اپنا ہے میرا نہ ہمنوا کوئی۔جو مرے درد سمجھتا نہیں ملا کوئی

0
62
نہ کوئی اپنا ہے میرا نہ ہمنوا کوئی۔جو مرے درد سمجھتا نہیں ملا کوئی
نہ کوئی اپنا ہے میرا نہ ہمنوا کوئی۔جو مرے درد سمجھتا نہیں ملا کوئی

 غزل

غم حیات کے جھگڑے میں سب مٹاؤں گی
تمیں میں اپنے ہی پھر سے قریب لاؤں گی

تمہارے بن کوئی تہوار اب خوشی کا نہیں
تمہارے ساتھ میں تہوار سب مناؤں گی

جو تو نہیں تو یہ جیون اداس ہے میرا
اگر تو سامنے آئے تو مسکراؤں گی

اے کاش تُو جو مرے پاس پلٹ آئے کبھی
تمام زخم میں دل کے تجھے دِکھاؤں گی

ہاں ناز کو اب بھی ہرپل ہے جستجو تیری
آ میرے پاس ترے ناز سب اُٹھاؤں گی

نہ کوئی اپنا ہے میرا نہ ہمنوا کوئی
جو مرے درد سمجھتا نہیں ملا کوئی
کٹی پتنگ کی صورت ہوا میں اُڑتی ہوں
نہ ڈور ہاتھ کسی کے نہ آسرا کوئی
ہے کوئی ایسا بھی ہمدر اِس زمانے میں
دو دلوں کا جو مٹا دے یہ فاصلہ کوئی
جو گرا ُ ڈالے پرندوں کے آشیانے کو
میرےُ ُ مولا نہ دکھانا ایسی ہوا کوئی
مرض لاحق ہو جسے عشق کا حقیقت ہے
نہ دوا کرتی اثر ہے نہ پھر غذا کوئی
ناز شیوا ہے یہ بالکل عظیم لوگوں کا
ان کے منہ سے کم نکلتی ہے بد دعا کوئی

 ناز خان ناز
یو کے انگلینڈ  مانچسٹر

ghazal by naaz khan uk

Sada Today Web Portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here