غزل۔وہ ستم کرتا رہا دل نے محبت سمجھا

7
60
غزل۔وہ ستم کرتا رہا دل نے محبت سمجھا
غزل۔وہ ستم کرتا رہا دل نے محبت سمجھا

غزل سرحد پار سے

غزل ایک نازک صنف سخن ہے لیکن غزل کا دامن بھی نازک صنف نے تھام رکھا ہے ناز عارف سرحد پار سے ہماری ایسی ہی ہی ایک شاعرہ ہیں جن کی شاعری میں ہم کو نازک احساسات و جزبات ملتے ہیں

مل گیا جو بھی اُسے میں نے غنیمت سمجھا
وہ ستم کرتا رہا دل نے محبت سمجھا

میں نے ہر ایک ستم ہنس کے کیا ہے برداشت
دنیا والوں نے اسے بھی میری عادت سمجھا

میں نے جب اُس سے کہا ترکِ تعلق کر لو
اس ستم گر نے اسے میری حقیقت سمجھا

ناز سمجھا تھا محبت کو عبادت میں نے
اس ستم گر نے مگر اِس کو تجارت سمجھا

ہم نے مانگے تھے حکومت سے فقط اپنے حقوق
اور اس کام کو حا کم نے بغاوت سمجھا

ناز سجدوں پہ نہیں ناز کیا ہم نے کبھی
ہم نے مخلوق کی خدمت کو عبادت سمجھا

ناز عارف کراچی

7 COMMENTS

  1. صدا ٹوڈے کی کی بہترین ادبی کاوشوںکو ہر گز بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔ میں تہ دل سے سپاس گزار ہوں کہ میرے کلام کو وقتا فوقتا صدا ٹوڈے کی زینت بنا رہے ہیں اور یہ بات میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔۔
    جاتے جاتے اک شعر تمام قارئینکی نظر کرنا چاہوں گی۔۔
    ۔
    دنیا میں رہے امن و اماں, پیار , اخوت”
    “انساں کو بچالیجئے نفرت کی وبا سے

    دعائے موجود و مطلوب : ناز عارف ناز
    کراچی, پاکستان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here