Home زبان و ادب ارد و ادب غزل ۔یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا ترے سہارے کھڑی نہیں...

غزل ۔یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا ترے سہارے کھڑی نہیں ہوں

0
92
غزل ۔یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا ترے سہارے کھڑی نہیں ہوں
غزل ۔یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا ترے سہارے کھڑی نہیں ہوں

غزل اردو شاعری کی سب سے مشہور صنف سخن ہے غزل میں حسن وعشق کی داستان ہی نہین ہوتی بلکہ غزل ذندگی کی عکاس ہوتی ہے ۔معاشی سماجی سیاسی سبھی معاملات غزل میں بیان ہوتے ہیں ۔ہیش ہے ممتاز شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کی ایک غزل

میں زرد ہوتی کلی ہوں لیکن میں شاخِ جاں سے جھڑی نہیں ہوں
یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا ترے سہارے کھڑی نہیں ہوں

کسی سے ادنی’ بھی میں نہیں ہوں، مگر کسی سے بڑی نہیں
میں اپنے پیروں پہ ہی کھڑی ہوں، کسی کے دم پر کھڑی نہیں ہوں

بہت ہی سرکش ہوائیں آئیں اور آندھیوں نے بہت ستایا
میں حوصلے پر رہی ہوں قایم کسی سے اب تک جھڑی نہیں ہوں

کسی کے آگے نہ سر جھکایا، خدا کے آگے ہی سر جھکایا
میں کیا بتاؤں تمھیں کہ کس کس سے اس جہاں میں آڑی نہی ہوں

زمانہ مغرور کہہ لے مجھ کو ، زمانہ سنگدل سمجھ لے مجھ کو
بہت ہی نازک مزاج ہوں میں ، کہ فطرتاً میں کڑی نہیں ہوں

ہمیشہ محوِ عمل رہی ہوں ، ہمیشہ محوِ عمل رہوں گی
کسی سے کوئی طلب نہیں ہے، کسی کے در پر پڑی نہیں ہوں

بس اتنی سی التجا ہے اربابِ لطف و لذت سے آج میری
کہ میری قربت میں تلخیاں ہیں، کوئی گلو ں کی چھڑی نہیں ہوں

میں حسن اور عشق سے بنی ہوں ، یہی ہے زریاب میری فطرت
نہ لڑ سکوں گی میں اب کسی سے ، کسی سے اب تک نہ میں لڑی ہوں

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر اندیا

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here