غزل ۔میرے شعر ہیں فکر و فن سے مرصع ۔وہ اشعار کیا جن میں ندرت نہیں ہے

0
81
غزل ۔میرے شعر ہیں فکر و فن سے مرصع ۔وہ اشعار کیا جن میں ندرت نہیں ہے
غزل ۔میرے شعر ہیں فکر و فن سے مرصع ۔وہ اشعار کیا جن میں ندرت نہیں ہے

غزل اردو شاعری کی سب سے مشہور صنف سخن ہے غزل میں حسن وعشق کی داستان ہی نہیں ہوتی بلکہ ذندگی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ غزل کے لغوی معنی بے شک محبوب سے باتیں کرنے کے ہوں مگر غزل در حقیقت انسانی سماج کی عکاس  ہوتی ہے ۔غزل ہر دور میں اپنے پورے رنگ میں اس دور کی ننمائیندہ رہی ہے ٓآج کی غزل میں وہ تمام معاملات شامل ہیں جو غزل کی ضرورت ہیں ۔معاشی سماجی سیاسی سبھی معاملات غزل میں بیان ہوتے ہیں ۔ عارفہ مسعود اردو شاعری کا ابھرتا ہوا نام ہے ۔ان کی شاعری نسوانی احساسات کی ہی عکاس نہیں ہے اپنے دور کی بھی نمائندگی کرتی ہے پیش ہے ممتاز شاعرہ عارفہ مسعود عنبر کی غزل

تمدن نہیں حسنِ سیرت نہیں ہے
کہیں بھی جہاں میں مروت نہیں ہے

میرے شعر ہیں فکر و فن سے مرصع
وہ اشعار کیا جن میں ندرت نہیں ہے

وہ مشق ستم چاہے جتنی ہی کر لیں
میں آ ہیں بھروں میری فطرت نہیں ہے

مجھے سخت حیرت ہے ان کی نظر میں
میرے آنسؤں کی بھی قیمت نہیں ہے

وفا میں کروں پھر بھی بدنام ہوں میں
وہ کچھ بھی کریں کچھ مزمت نہیں ہے

عجب ایک اداسی ہے امسال ہر سو
چمن میں بھی تو زیب زینت نہیں ہے

تیرے ظلم سہ کے بھی اے ظلم پرور
میرے لب پہ حرفِ شکایت نہیں ہے

رستار الفت سے کہ دیجیے عنبر
ہمیں دل لگانے کی عادت نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جھوٹی باتوں میں ،میں آتی کب تک
خواب آنکھوں میں سجاتی کب تک

نت نئے روز وہ وعدے ان کے
زیست میں اپنی لٹاتی کب تک

جانتی تھی وہ نہیں آئے گا
لو چراغوں کی بڑھاتی کب تک

ضبط و غم لاکھ ہے مجھ میں پھر بھی
دل کے زخموں کو چھپاتی کب تک

بے وفا ہے وہ پتا ہے عنبر
جھوٹے رشتوں کو نبھاتی کب

عارفہ مسعود عنبر مرادآباد

Ghazal by Arfa Masood Ambar

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here