غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات

0
24
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات 15,14,13؍مارچ2020 کو

 غالب انسٹی ٹیوٹ اپنے علم و ادب کے ۵۰ سالہ سفر کو طے کرچکا۔ ۱۹۶۹ ء میں غالب کی وفات کے ۱۰۰ سال مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی، مرحوم فخرالدین علی احمد اورمرحوم ڈاکٹر ذاکر حسین نے ایک عظیم تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔اس تاریخی تقریبات کے بعد غالب انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ ۱۹۶۹ء سے ان ہی تواریخ میں نہایت ہی پُروقار اندازمیں غالب تقریبات کا اہتمام کیا جارہاہے۔شاید پوری اردو دنیامیں یہ واحد تقریبات ہے جو بغیر کسی وقفے کے ۵۰سال سے ہورہی ہے۔ ۲۰۲۰ کا سال اس اعتبار سے بھی غالب انسٹی ٹیوٹ کے لیے اہم ہے کہ اس سال ادارہ گولڈن جبلی تقریبات کا اہتمام کر رہاہے۔ ان تقریبات میں بین الاقوامی سمینار ’’غالب کی شاعری میں نفی و اثبات‘‘کے موضوع پر منعقد کیاجائے گا۔ سمینارکا افتتاح ۱۳؍مارچشام ساڑھے پانچ بجے ہوگا جس میںجناب جسٹس بدردرریز احمد،سابق چیف جسٹس ،جموّں اینڈ کشمیر ہائی کورٹ کے ہاتھوں غالب انعامات کی تقسیم ہوگی۔تقریب کی صدارت جناب جسٹس آفتاب عالم، سابق جج سپریم کورٹ آف انڈیا فرمائیں گے۔ممتاز مؤرخ پروفیسرہربنس مکھیا تعارفی کلمات پیش کریں گے۔عہدِ حاضر کے ممتازنقاد پروفیسرگوپی چند نارنگ سمینار کے کلیدی خطبہ کے فریضے کو انجام دیں گے۔ اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے سابق چیف الیکشن کمشنرآف انڈیا، ڈاکٹر ایس۔وائی۔ قریشی اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے وائس چیئرمین اعمادالدین احمد خاں موجود رہیں گے۔ اس دفعہ غالب انعامات۲۰۱۹ پروفیسرعلیم اللہ حالی، پروفیسربلقیس فاطمہ حسینی، پروفیسرخالد محمود،پروفیسرشہپر رسول، جناب مظفر علی ،ڈاکٹرنریش کو دیے جائیں گے۔یہ انعامات ۷۵ہزار روپے نقد ایک تمغہ اور سند پر مشتمل ہے۔ سمینارکی افتتاحی تقریب میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی تقریباً ۱۵ نئی مطبوعات،سوینئر،غالب انسٹی ٹیوٹ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں تقریباً ۴۵ علماکے مضامین کا خصوصی وولیوم، کلینڈر، ڈائری اورسالانہ سرگرمیاں کا رسمِ اجراء بھی ہوگا۔ اس دفعہ سمینار میں شرکت کے لیے ہندوستان کے علاوہ بیرون ممالک کے دانشور حضرات بھی شرکت فرمائیں گے۔ جن حضرات کی آمد متوقع ہے ان میں کینڈا سے ڈاکٹرتقی عابدی،امریکہ سے پروفیسر مہرافشاں فاروقی اور ہندوستان سے پروفیسر انیس اشفاق ،پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسرابوالکلام قاسمی،پروفیسر صغیر افراہیم،پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی،پروفیسر عباس رضانیّر،ڈاکٹرامتیاز احمد، ڈاکٹر نریش، ڈاکٹر شمیم طارق، ڈاکٹر یحییٰ نشیط،شین کاف نظام، ڈاکٹرثروت خان،پروفیسریعقوب یاور،ڈاکٹر غضنفر اقبال،ڈاکٹرمعراج رعنا، ڈاکٹرجاوید رحمانی،پروفیسر انیس الرحمن،ڈاکٹرسلیل مشرا،ڈاکٹرخالد علوی،ڈاکٹر تاریکا پربھاکر، ڈاکٹر پرویز شہریار، ڈاکٹر سنیل ترویدی، ڈاکٹرشفیع ایوب، ڈاکٹر محمدکاظم، ڈاکٹر نور فاطمہ،ڈاکٹر فرحت نادر رضوی قابلِ ذکر ہیں۔سمینار میں سات اجلاس ہوں گے جن میںسید شاہد مہدی،پروفیسر ارتضیٰ کریم، پروفیسر ابنِ کنول،پروفیسر شہپر رسول،پروفیسر انور پاشا، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، ڈاکٹر اطہر فاروقی،پروفیسر شہزاد انجم صدارتی فریضے کو انجام دیں گے۔اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر اخترالواسع کریں گے اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیخ عقیل احمدموجود رہیں گے۔ سمینار کے دوسرے روز یعنی ۱۴؍مارچ۲۰۲۰ کوشب میں غالب آڈیٹوریم میں ایک عالمی مشاعرہ کا بھی اہتمام کیاگیاہے جس میں ڈاکٹر تقی عابدی، جناب عتیق انظر اور مقامی شعراء میں پروفیسر وسیم بریلوی،ڈاکٹر نواز دیوبندی،متین امروہوی،پروفیسرشہپر رسول،منظر بھوپالی، ڈاکٹرشکیل حسن شمسی، شین کاف نظام،پروفیسرمہتاب حیدر نقوی، پاپولر میرٹھی، پروفیسر سراج اجملی، اقبال اشہر، منصورعثمانی، پروفیسراحمد محفوظ،ڈاکٹرراشد انور راشد،ڈاکٹر نصرت مہدی، فاروق جائسی،ملکہ نسیم، ملک زادہ جاوید، افضل منگلوری، معین شاداب،ڈاکٹر وسیم راشد،خورشید حیدر، راشد جمال فاروقی، ڈاکٹر عمیر منظر، صہیب احمد فاروقی، سلیم امروہوی، خالد اعظمی موجود رہیں گے۔ نظامت کا فریضہ معین شاداب انجام دیں گے۔صدارت کا فریضہ پروفیسر وسیم بریلوی انجام دیں گے اورمہمانِ خصوصی کے لئے ڈاکٹر ایس۔ فاروق کو زحمت دی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here