غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات

0
58
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام گولڈن جبلی غالب تقریبات

ب

غالب انسٹی ٹیوت اپنےعلم و ادب کے 50سال مکمل کرچکا ہے ے ۱۹۶۹ ء میں غالب کی وفات کے100 سال مکمل ہونے پرسآبق وزیرآعظم آنجہانی اندرا گادھی مرحوم فخرالدین علی احمد ڈاکٹر زاکر حسین نے تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔تقریبات کے بعد غالب انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ ۱۹۶۹ء سے ان ہی تواریخ میں نہایت ہی پُروقار اندازمیں غالب تقریبات کا اہتمام کیا جارہاہے۔شاید پوری اردو دنیامیں یہ واحد تقریبات ہے جو بغیر کسی وقفے کے ۵۰سال سے ہورہی ہے۔ ۲۰۱۹ کا سال اس اعتبار سے بھی غالب انسٹی ٹیوٹ کے لیے اہم ہے کہ اس سال ادارہ گولڈن جبلی تقریبات کا اہتمام کر رہاہے۔ ان تقریبات میں بین الاقوامی سمینار ’’غالب کی شاعری میں نفی و اثبات‘‘کے موضوع پر منعقد کیاجائے گا۔ سمینارکا افتتاح ۲۰ دسمبرشام ساڑھے پانچ بجے ہوگا جس میں جناب جسٹس اے۔ایم۔احمدی ،سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف انڈیا کے ہاتھوں غالب انعامات کی تقسیم ہوگی۔تقریب کی صدارت جناب جسٹس بدردرریز احمد،سابق چیف جسٹس ،جموّں اینڈ کشمیر ہائی کورٹ فرمائیں گے۔ممتاز مؤرخ پروفیسرہربنس مکھیا تعارفی کلمات پیش کریں گے۔عہدِ حاضر کے ممتازنقاد پروفیسرگوپی چند نارنگ سمینار کے کلیدی خطبہ کے فریضے کو انجام دیں گے۔ اس دفعہ غالب انعامات۲۰۱۹ پروفیسرعلیم اللہ حالی، پروفیسربلقیس فاطمہ حسینی، پروفیسرخالد محمود،پروفیسرشہپر رسول، جناب مظفر علی ،ڈاکٹرنریش کو دیے جائیں گے۔یہ انعامات ۷۵ہزار روپے نقد ایک تمغہ اور سند پر مشتمل ہے۔ سمینارکی افتتاحی تقریب میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی تقریباً ۱۵ نئی مطبوعات،سوینئر،غالب انسٹی ٹیوٹ کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں تقریباً ۵۰ علماکے مضامین کا خصوصی وولیوم، کلینڈر، ڈائری اورسالانہ سرگرمیاں کا رسمِ اجراء بھی ہوگا۔سمینار کی افتتاحی تقریب کے اختتام پرمشہور و معروف غزل سنگر جناب طلعت عزیزغالب کی غزلیں پیش کریں گے۔ اس دفعہ سمینار میں شرکت کے لیے ہندوستان کے علاوہ بیرون ممالک کے دانشور حضرات بھی شرکت فرمائیں گے۔ جن حضرات کی آمد متوقع ہے ان میں کینڈا سے ڈاکٹرتقی عابدی، جرمنی سے عارف نقوی، مصر سے پروفیسر جلال مصطفٰے الحفناوی،ڈاکٹر مروہ لطفی صلاح السباعی ہیکل اور ہندوستان سے پروفیسر انیس اشفاق ، پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسرابوالکلام قاسمی،پروفیسر صغیر افراہیم،پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی،ڈاکٹرامتیاز احمد، ڈاکٹر نریش، ڈاکٹر شمیم طارق، ڈاکٹر یحییٰ نشیط،شین کاف نظام، ڈاکٹرثروت خان،پروفیسریعقوب یاور،ڈاکٹر غضنفر اقبال،ڈاکٹرمعراج رعنا، ڈاکٹرجاوید رحمانی،پروفیسر انیس الرحمن،ڈاکٹرسلیل مشرا،ڈاکٹرخالد علوی،ڈاکٹر تاریکا پربھاکر، ڈاکٹر پرویزشہریار،ڈاکٹر سنیل ترویدی، ڈاکٹرشفیع ایوب، ڈاکٹر محمدکاظم، پراگ ترپاٹھی،ڈاکٹر فرحت نادر رضوی قابلِ ذکر ہیں۔سمینار میں سات اجلاس ہوں گے جن میںسید شاہد مہدی،پروفیسر ارتضیٰ کریم، پروفیسر ابنِ کنول،پروفیسر شہپر رسول،پروفیسر انور پاشا، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، ڈاکٹر اطہر فارقی،پروفیسر شہزاد انجم صدارتی فریضے کو انجام دیں گے۔اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر اخترالواسع کریں گے اور مہمانِ خصوصی وی۔این۔رائے موجود رہیں گے۔ سمینار کے دوسرے روز یعنی۲۱؍دسمبر۲۰۱۹ء کوشب میں غالب آڈیٹوریم میں ایک عالمی مشاعرہ کا بھی اہتمام کیاگیاہے جس میں ڈاکٹر تقی عابدی، ڈاکٹر عارف نقوی،پروفیسر جلال مصطفٰے الحفناوی،جناب عتیق انظر اور مقامی شعراء میںپروفیسر وسیم بریلوی،ڈاکٹر نواز دیوبندی،پروفیسرشہپر رسول، ڈاکٹرشکیل حسن شمسی، شین کاف نظام،پروفیسرمہتاب حیدر نقوی، پاپولر میرٹھی، پروفیسر سراج اجملی، اقبال اشہر، منصورعثمانی، پروفیسراحمد محفوظ،ڈاکٹرراشد انور راشد،ڈاکٹر نصرت مہدی، فاروق جائسی،ملکہ نسیم، ملک زادہ جاوید، افضل منگلوری، معین شاداب،ڈاکٹر وسیم راشد،خورشید حیدر، راشد جمال فاروقی، ڈاکٹر عمیر منظر، صہیب احمد فاروقی، سلیم امروہوی، خالد اعظمی موجود رہیں گے۔ نظامت کا فریضہ شین کاف نظام، معین شاداب انجام دیں گے۔صدارت کا فریضہ ڈاکٹر سید تقی عابدی انجام دیں گے اورمہمانِ خصوصی کے لئے ڈاکٹر ایس۔ فاروق کو زحمت دی گئی ہے۔ غالب تقریبات کے اختتام پر۲۲؍دسمبر کو شام چھ بجے ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی ٹیوٹ) کی طرف سے معروف ڈرامہ نگارجناب دانش حسین کا تحریر کردہ اُردو ڈرامہ ’’داستانِ اجلال جادو ‘‘ دانش حسین کی رہنمائی میں اسٹیج کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here