اردو کے ممتاز ادیب آصف فرخی نہیں رہے۔

1
154
اردو کے ممتاز ادیب آصف فرخی نہیں رہے۔
اردو کے ممتاز ادیب آصف فرخی نہیں رہے۔

معروف فکشن نگار اور مترجم ڈاکٹر آصف فرخی تین دن علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

 ڈاکٹر آصف فرخی کو دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کی نمازجنازہ کل بعد نمازعصرجامعہ کراچی میں ادا کی جائے گی۔

ڈاکٹر آصف فرخی 16 ستمبر 1959ء کو کراچی میں نامور ادیب اسلم فرخی کے گھر پیدا ہوئے،ان کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی ہیں۔

ڈائو میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا، ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ماسٹرز کی ڈگری لی، آغا خان یونیورسٹی کراچی، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور حبیب یونیورسٹی کراچی میں عملی زندگی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس والوں کے لیے ادبی میلوں کا اہتمام کیا، ملکی و غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی، ادبی جریدے ’’دنیا زاد‘‘ کی ادارت اور ایک اشاعتی ادارے’’ شہرزاد‘‘ کی انتظامی ذمہ داریوں کو بہ خوبی نبھایا اور ساتھ ہی ساتھ افسانے لکھے، تراجم کئے، تنقید کی، اخبارات میں کالم لکھے، حتیٰ کہ شاعری بھی کر ڈالی؛ یاالہی یہ آدمی ہے یا جن؟ اتنے بکھیڑوں میں پڑے ہوئے شخص کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبے میں بھی انہوں نے قدم رکھا پوری کمٹمنٹ سے رکھا اور ہر فرض اخلاص نیت سے سر انجام دیا۔ یہی سبب ہے کہ کامیابی ہر بار اُن کے قدم چومتی رہی ہے۔

’’ آتش فشاں پر کھِلے گلاب‘‘، ’’اِسم اعظم کی تلاش‘‘، ’’چیزیں اور لوگ‘‘، ’’شہربیتی‘‘، ’’شہر ماجرا‘‘، ’’میں شاخ سے کیوں ٹوٹا‘‘، ’’اِیک آدمی کی کمی اور’’میرے دِن گزررہے ہیں‘‘ آصف فرخی کے افسانوں نے مجموعے ہیں اور ’’عالم ایجاد‘‘ اور ’’نگاہ آئینہ سازمیں‘‘ تنقیدی مضامین کی کتب۔ اُنہوں نے نہ صرف آئن رینڈ، ہرمن ہیس، گریش کرناڈ، ستیہ جیت رائے، اگنارزیو سلونے، ساتو کی زاکی، ارنستو سباتو، عمر ریوابیلا، نجیب محفوظ، ارون دھتی رائے، رفیق شامی اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے انگریزی متون ترجمہ کرکے اُردو کی جھولی میں ڈالے ہیں، انگریزی میں بھی مسلسل لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے ہاں کے ادب کے کئی اہم موضوعاتی انتخاب مرتب کیے ہیں۔ ممتاز شیریں کے تنقیدی مضامین ’’منٹو نوری نہ ناری‘ فسادات کے افسانوں پر مشتمل کتاب‘ ’’ظلمتِ نیم روز‘‘ اور’’ منٹو کا آدمی نامہ ‘ ‘ کے علاوہ دیگر متعدد کتب، ان کے اسی باب میں قابل رشک ادبی کارنامے ہیں۔

کراچی میں عملی زندگی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔انہوں نے ادبی جریدے ’’دنیا زاد‘‘ کی ادارت اور ایک اشاعتی ادارے’’ شہرزاد‘‘ کی انتظامی ذمہ داریوں کو بہ خوبی نبھایا اور ساتھ ہی ساتھ افسانے لکھے، تراجم کئے، تنقید کی، اخبارات میں کالم لکھے اور شاعری بھی کی۔

۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here