لندن کے مشہور ادیب گلشن کھنّہ کی یاد میں کتاب کا رسمِ اجرا اور مشاعرہ

0
119
لندن کے مشہور ادیب گلشن کھنّہ کی یاد میں کتاب کا رسمِ اجرا اور مشاعرہ
لندن کے مشہور ادیب گلشن کھنّہ کی یاد میں کتاب کا رسمِ اجرا اور مشاعرہ

سرونج /انتساب پبلی کیشنز اور سد بھائونا منچ کی جانب سے سیفی لائبریری میں لندن کے مشہورادیب،شاعر اور افسانہ نگار گلشن کھنّہ کی تیسری برسی پر آفاق سیفی کی کتاب ’ گلشن کھنّہ :یادوں کے آئینے میں ‘ کا رسم ِ اجرا اور مشاعرہ منعقد کیا تھا ۔اِس پروگرام کی صدارت بھوپال کے مشہور شاعر ظفر صہبانی نے کی ، مہمان ِ خصوصی کے طور پر بدر واسطی، سلیمان مزاج ،شعیب علی خاں اور عارف علی عارف نے شرکت کی ۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ظفر سرونجی نے بحسن و خوبی انجام دیے ۔رسمِ اجراء کے موقع پر ظفر صہبائی نے کہا کہ گلشن کھنّہ کی شاعری اور افسانے’انتسا ب عالمی ‘ مَیں میں پڑھتا رہا ہوں ۔ انھیں شاعری اور افسانے پر یکساں عبور حاصل تھا ۔ گلشن کھنّہ لندن میں مقیم تھے ،لیکن آج ہم اُن کی برسی کے موقع پر سرونج میں پروگرام کرکے انھیں یاد کر رہے ہیں ۔ سیفی سرونجی نے کہا کہ میں جب بھی لندن جاتا تھا گلشن کھنّہ کے گھر ہی ٹھہرتا تھا ۔اِس سے پہلے میں ‘انتساب ‘اور ’عالمی زبان‘ کا گلشن کھنّہ نمبر بھی شائع کر چکا ہوں اور یہ پروگرام پرم جیت کھنّہ کے ایماء پر ہی منعقد کیا جا رہا ہے اور ہر سال اُن کی برسی پر منعقد کیا جاتا رہے گا ۔ انل اگروال نے بھی گلشن کھنّہ کو یاد کرتے ہوئے اظہار ِ خیال کیا ۔ اس کے بعد خبر مدھیہ پردیش کے نمائندے محمد فرحان اور سعید خان کو سد بھائونا منچ کے صدر انل اگروال نے سپاس نامہ پیش کیا ۔ مشاعرے کا آغاز نعتِ پاک سے کیا گیا ۔ اس مشاعرے میں مقامی شعراء کے ساتھ بھوپال ، کوروائی ،لٹیری اور دیگر علاقائی شعراء نے بھی شرکت کی ۔ جن شعراء نے داد و تحسین حاصل کی اُن کے شعر اِس طرح ہیں :
بدن سے روح کو کیسے جُدا کیا جائے
وطن لباس نہیں ہے بدل لیا جائے

(ظفر صہبائی )
خدا کے خوف سے میں کانپ کانپ جاتا ہوں
کہ جب بھی کوئی مؤذن ازان د یتا ہے

(سیفی سرونجی)
میں اِک ایسی بلندی پر کھڑا ہوں
جہاں ہر آدمی مجھ سے بڑا ہے

(سلیمان مزاج)
قیامِ امن تو ہے اِک بہانہ
ستم ایجاد ہوتے جا رہے ہیں

(بدرواسطی )
جب لیا نام اے خدا تیرا
کام میرا ہمیشہ سب نکلا

(استوتی اگروال)

حسین رُخ پہ جب جب ٹھہر گئیں آنکھیں
میں ڈھونڈتا رہا کہ کِدھر گئیں آنکھیں

(شعیب علی خاں )
چلو کیا یاد کروگے کوئی ملا تھا کبھی
ہم اپنے دِل پہ تمہیں اختیار دیتے نہیں

(عارف علی عارف)
خلوص ومہر و وفا دوستی نبھانے میں
پسینے چھوٹ گئے زندگی بِتانے میں

(عظمت دانش)
زندگی بہترین رکھتے ہیں
ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں

(پروین صبا)
ان شعراء کے علاوہ محی الدین انجم ، اقبال منظر ،نعمان غازی ، سلیمان آزر ، عبدالعلیم مضطر ، حامد سرونجی ، آصف سرونجی ، ایاز اسلم ،ظفر سرونجی، صادق ناداں سرونجی ، الیاس رضا ،سعد ہاشمی،قمر علی قمر ،جگدیش چکرورتی ،اطہر سرونجی اورباصر سرونجی نے بھی اپنے کلام پیش کیے ۔ سامعین کے طور پر نعیم منصوری ، ایوب قریشی ، عبدالسبحان منصوری ، قیصر میاں ، فہمید بھائی ، جمشید خان ، عتیق خان ، اشوک ٹھاکُر ،صابر غوری ،رحمان غوری ،عارف غوری ، نعمان خان کے علاوہ بڑی تعداد میں سامعین موجود تھے ۔
رپورٹ ۔ استوتی اگروال ،سرونج

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here